• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک کی دستاویزات کے مطابق پچھلے ایک سال سے ہر روز اوسطاً سولہ ارب روپیہ قرض لے کر اپنے اخراجات پورے کررہی ہے۔ کیا پاکستان طوفانی رفتار سے بڑھتے قرضوں کے اس تباہ کن بوجھ سے نجات پاسکتا ہے؟ اس سوال کاکوئی تسلی بخش جواب ماہرین مالیات و اقتصادیات سے نہیں ملتالیکن حال ہی میں’’بریکنگ دی ٹریپ آف ڈیٹ، انفلیشن، انٹرسٹ اینڈ پاورٹی‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی کاوش میں اس سوال کا امید افزا جواب دیا گیا ہے ۔

ماہر مالیات قانت خلیل اللّٰہ اوران کے شریک کار صہیب عمر نے اس تحقیقی تصنیف میں روایتی سوچ سے بلند ہو کر مروجہ معاشی نظام کے تحت معاشرے کو قرض کے جال میں جکڑے جانے کی اصل وجہ کی واضح نشان دہی کرکے اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔ مصنفین کے مطابق اس صورتحال کا اصل سبب مروجہ نظام بینکاری میں بینکوں کو حاصل یہ اختیارہے کہ وہ اصل محفوظ رقم سے بیس گنا زیادہ رقم کے قرضے جاری کرسکتے ہیںاس گمان کی بنیاد پر کہ بیک وقت پانچ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی رقم واپس لینے نہیں آئیں گے۔ اس طرح نجی شعبہ کرنسی کی غیرحقیقی تخلیق کا اختیار پاکر ایک طرف معاشرے کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتا چلا جاتا ہے، قرض لینے والوں سے سود کی شکل میں بے پناہ منافع کماتا ہے، بے تحاشا افراط زر کا باعث بن کر مہنگائی کو مسلسل بڑھاتا ہے ، کرنسی کی قوت خرید گھٹانے کا مستقل سبب بنتا ہے جسکی وجہ سے مختلف اقسام کے اثاثے رکھنے والے مالدار لوگوں کیلئے تو منافع کمانے کے راستے کشادہ ہوتے رہتے ہیں لیکن عام آدمی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس نظام میں اسٹیٹ بینک کے پاس صورتحال کو کنٹرول کرنے کا اصل ہتھیار شرح سود میں کمی بیشی کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔افراط زر کی وجہ سے مہنگائی بہت بڑھنے لگے تو شرح سود بڑھادی جاتی ہے تاکہ مالیاتی اثاثے بازار کے بجائے بینکوں میں جمع ہوں لیکن اس کا نتیجہ معاشی سرگرمی میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے ۔ لہٰذا دوبارہ شرح سود میں بتدریج کمی شروع کردی جاتی ہے۔یوں مہنگائی و بے روزگاری کا چکر اسی طرح چلتا رہتا ہے ۔ بینکوں میں رکھی رقوم یا دیگر بچت اسکیموں پر جو منافع دیا جاتا ہے، افراط زر یعنی مہنگائی میں اضافہ اسکی قوت خرید کو کم کرتا رہتاہے۔

فی الحقیقت قرض اور سود پر مبنی یہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جسکے نتیجے میں پوری دنیا دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اس کے اذیت ناک نتائج کا شکار ہے۔تازہ ترین عالمی اعداد و شمار کے مطابق دس فی صد امیرترین افراد دنیا کی 85فی صد دولت کے مالک ہیں جبکہ باقی90 فی صد میں سے غریب ترین لوگوں کی نصف آبادی دنیا کی کل دولت کا محض دو فی صد رکھتی ہے۔ یہ صورتحال قرآن کے اس فرمان کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اللّٰہ سود میں برکت عطا نہیں فرماتا جبکہ صدقات کو پروان چڑھاتا ہے۔ اسلام نے ارتکاز دولت کے راستے بند کرنے کیلئے ایک طرف ہر مالدار شخص کو ہر سال اپنی دولت کا ڈھائی فی صد بطور زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند کیا ، وراثت کی تقسیم کا مکمل ضابطہ عطا کیا اور دوسری طرف سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا۔ ان احکام کا مقصد واضح کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے’’تاکہ دولت تمہارے مالداروں ہی میں گردش نہ کرتی رہے‘‘۔

قرضوں، سود، مہنگائی اور غربت کا اصل سبب بینکوں کے ذریعے زر کی بے لگام تخلیق کا اختیار بینکوں کے توسط سے نجی شعبے کے پاس ہونے کو قرار دیتے ہوئے مصنفینِ کتاب ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کی جو بنیادی تدبیر تجویز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ بینکوں کوپانچ فی صد کے بجائے سو فی صد مالیاتی اثاثے رکھنے کا پابند کیا جائے اور زر کی تخلیق کا اختیار صرف اسٹیٹ بینک کو حاصل ہو تاکہ ملکی مفاد کے تقاضوں کے مطابق زر کی تخلیق عمل میں آئے۔ افراط زراور مہنگائی کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہو۔ بینک کاروباری و صنعتی منصوبوں میں نفع نقصان میں شرکت کی بنیاد پر سرمایہ کاری کیلئے اپنے گاہکوں کی رہنمائی کرسکتے اور اس کا معقول معاوضہ لے سکتے ہیں بلکہ خودبھی اس عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔

مصنفین کے مطابق حکومت پاکستان پر مقامی قرضے65 اور بیرونی قرضے 35 فی صد ہیں۔ اگر بینکوں کو سو فی صد مالیاتی اثاثے رکھنے کا پابند کردیا جائے تو ملک تمام مقامی قرضوں سے نجات پاسکتا ہے۔ افراط زر کے خاتمے سے اشیاء کی قیمتوں میں مستقل ٹھہراؤ آسکتا ہے ،کرنسی کی قدر مستحکم ہوسکتی اور معیشت کی مسلسل بہتری ممکن ہوسکتی ہے۔اس تحقیق کا دوسرا پہلو حکومت کے زیراہتمام نظام زکوٰۃ کا قیام ہے کیونکہ قرآن کی رو سے یہ ایک مسلم حکومت کی لازمی ذمہ داری ہے۔کتاب میں پوری تحقیق کرکے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مالی بچتوں پر پوری زکوٰۃ اور زرعی پیداوار پر عشر کی وصولی کی جائے اوراس کے جو آٹھ مصارف قرآن میں بتائے گئے ہیں انہیں پیش نظر رکھاجائے تو دفاع سمیت بیشتر ملکی ضروریات کیلئے اتنے وافر مالی وسائل فراہم ہوسکتے ہیں کہ عوام پر کوئی ٹیکس لگانے کی شاید ضرورت ہی نہ پڑے۔

اس تحقیقی کاوش پر ماہرین سوالات اٹھا سکتے اورخامیوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں لیکن معاشی نظام کی اصلاح اور قرضوں،سود ، مہنگائی اور غربت کے جنجال سے ملک کو آزاد کرانے کی یہ کوشش بہرکیف بہت قابل قدر ہے۔ فکر کے ساکت تالاب میں حرکت پیدا کرنے کی یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں دنیا کو غیرمنصفانہ معاشی نظام سے نجات دلانے کی خاطر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جس عادلانہ معاشی نظام کی تشکیل کیلئے کام کرنے کی ہدایت کی تھی، یہ کاوش اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے فکر کے اس سفر کو منزل مقصود تک پہنچانے میں تمام متعلقہ نجی و سرکاری حلقوں کی جانب سے بھرپور تعاون کیا جائے۔

تازہ ترین