• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ملک کی مجموعی برآمدات میں اس کا شیئر 55 سے 60 فیصد ہے جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار اور دیگر درجنوں سب سیکٹرز کا کاروبار بھی اس صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری خاص طور پر ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی یا تنزلی سے پاکستان کی پوری معیشت براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ کچھ برسوں میں اس صنعت کو خطے میں سب سے بلند شرح سود اور بجلی و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا چیلنج درپیش رہا ہے جسکی وجہ سے برآمدات میں بھی کمی آئی ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدات کا زیادہ تر انحصار امریکہ اور یورپی یونین کی منڈیوںپر ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کو امریکہ اور یورپی یونین میں اپنا برآمدی شیئر برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی برآمدی منڈی ہے اور 2014 میں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد سے پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ اس رعایتی تجارتی نظام کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کوڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی پر یورپی منڈی تک رسائی حاصل ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 30 فیصد حصہ یورپی یونین کو جاتا ہے اور اس میں 80 فیصد سے زائد برآمدات ٹیکسٹائل سیکٹر کی ہوتی ہیں۔ تاہم بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر جاری مذاکرات، بنگلہ دیش کی مستقبل کی تجارتی حکمت عملی اور ویتنام جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی برآمدی مسابقت پاکستان کی برآمدات کیلئے ابھرتے ہوئے چیلنجز ہیں۔ اس حوالے سے اگر پاکستان نے ابھی سے اپنی پالیسیاں بہتر نہ بنائیں یا یورپی یونین نے ایسی ہی رعائتیں بھارت اور دیگر بڑے تجارتی شراکت داروں کو بھی دے دیں تو پاکستان کی مسابقت کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنےکیلئے ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر صرف رعایتی ٹیرف پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی مصنوعات کو زیادہ ویلیو ایڈڈ بنائے۔ آج بھی پاکستان کی زیادہ تر برآمدات کپڑے، دھاگے یا کم ویلیو کی گارمنٹس پر مشتمل ہیں جبکہ عالمی منڈی میں اصل منافع برانڈڈ ملبوسات، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، اسپورٹس ویئر، میڈیکل ٹیکسٹائل اور فیشن مصنوعات کی برآمدات میں ہے۔ اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے صارفین قیمت سے زیادہ معیار، جدت اور برانڈ ویلیو کو ترجیح دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ماحولیات سے متعلق عالمی تقاضے بھی مستقبل قریب میں ٹیکسٹائل برآمدات پر زیادہ شدت سے اثرانداز ہونا شروع ہو جائیں گے۔ ان حالات میں پاکستانی صنعتوں کو آج ہی سے توانائی کی بچت، قابل تجدید توانائی، پانی کے بہتر استعمال، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور کاربن کے اخراج میں کمی پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کی کئی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیاں پہلے ہی سولر انرجی، واٹر ری سائیکلنگ اور پائیدار پیداوار کی طرف بڑھ رہی ہیں لیکن زیادہ تر ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز اب بھی اس حوالے سے کمپلائنس کو ایک بوجھ تصور کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو تبدیل کرنےکیلئے حکومت صنعتوں کو ماحول دوست بنانے کیلئے گرین فنانسنگ کے تحت سستے قرضے، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ، قابل تجدید توانائی کی سہولت اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے حصول میں معاونت فراہم کرکے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ یورپ کے بعد امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے لیکن وہاں پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین جیسی ٹیرف رعایت حاصل نہیں ۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے جس سے معاشی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر امریکہ کے ساتھ محدود تجارتی معاہدوں، مخصوص شعبوں میں ٹیرف میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر کوئی ٹھوس پیش رفت کی جائے تو ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی شعبوں کو بھی نمایاں فائدہ پہنچ سکتاہے۔ اس حوالے سے امریکہ میں پاکستان کی ہوم ٹیکسٹائل، بیڈ شیٹس، تولیے اور اسپورٹس ویئر میں پاکستان کی ساکھ پہلے ہی مضبوط ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی برآمدی منڈیوں بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ممالک نہ صرف پاکستانی مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں بلکہ ری ایکسپورٹ کے عالمی مراکز بھی ہیں۔ پاکستان اگر ان ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھائے تو نہ صرف ٹیکسٹائل بلکہ فوڈ پراسیسنگ، فارماسیوٹیکل، حلال مصنوعات اور آئی ٹی خدمات کی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔اسی طرح پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت بھی طویل عرصے سے اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم رہی ہے۔ ماضی میں عالمی پابندیوں اور سیاسی مسائل نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو محدود کر رکھا تھا۔ تاہم اب اگر پاکستان کی کوششوں سے خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے تو اس سے معاشی فوائدحاصل کرنےکیلئے بھی ہمیں دوسروں پر سبقت لے جانے کی ضرورت ہے۔ ایران سے تجارت کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ پاکستان کو وسطی ایشیا تک زمینی رسائی مل جائے گی جس سے پاکستانی برآمدات کو بڑھانے کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ پاکستان نے حالیہ علاقائی سفارتکاری میں جس طرح سے ایک متوازن اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح سے اب سفارتی کامیابیوں کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ یورپی یونین، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایران کے ساتھ تجارتی روابط مزید مستحکم کئے جا سکیں۔ وزارت خارجہ کو اب اس حوالے سے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہئے کیونکہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوتا ہے کہ آپ نئی منڈیوں، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کی صورت میں اپنے ملک کیلئے کیا معاشی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح سے نہ صرف ملک معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال ہو گا بلکہ روزگار کی فراہمی بڑھنے سے غربت کی شرح بھی کم ہو گی۔

تازہ ترین