پاکستان اور بھارت کے کئی دانشوروں، سابق سفارتکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور کشیدہ تعلقات کو بہتر کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس اپیل میں انہوں نے مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولنے، ویزہ میں آسانیاں پیدا کرنے اور آمدورفت کے بہتر ذرائع کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ کافی عرصے سے ہندوستان اور پاکستان نے ہر طرح سے مکمل لاتعلقی کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور یہاں تک کہ وہ کھیلوں کے میدان میں بھی اکٹھے نہیں ہو پاتے اور اپنی فضائی حدود کو بھی ایک دوسرے کی فضائی کمپنیوں کیلئے ممنوع قرار دیاہوا ہے اسکے ساتھ ساتھ حالیہ عرصے میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دانشوروں کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کیلئے دونوں ممالک کو فوری طور پر بیک ڈور رابطے قائم کرنے ہوں گے اور 2004ء سے 2007ء کے درمیان مذاکرات کے فریم ورک کو بنیاد بنا کر بات چیت کو آگے بڑھانا ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کی باہمی تجارت کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک جنوبی ایشیائی آزاد تجارتی معاہدے (SAFTA) پر دوبارہ عمل درآمد شروع کریں جو 2004ء میں طے پایا تھا اور جس کا مقصد پورے خطے کیلئے ایک آزاد تجارتی زون تیار کرنا تھا لیکن اس آزاد تجارتی زون کی راہ میں بنیادی رکاوٹ دراصل دونوں اطراف میںپائی جانے والی سیاسی عزم کی کمی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے پڑوسی ملک ہیں اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کیے بغیر تیسری دنیا کا کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
دنیا میں کئی ایسی مثا لیں موجود ہیں کہ جہاں روایتی حریف ممالک نے اپنے اختلافات، تنازعات اور تحفظات برقرار رکھتے ہوئے باہمی تجارت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت اور چین کی مثال موجود ہے جن کے درمیان مسلح جھڑپیں، زمینی تنازعات اور ناخوشگوار واقعات کے باوجود باہمی تجارت کم نہیں ہوئی اگرچہ پاکستان اور بھارت میں بھی 1965ء کی جنگ سے پہلے بہترین تجارتی ماحول تھا اور بھارت پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا جس سے تاجر اور عوام دونوں ثمرات حاصل کر رہے تھے لیکن پھر مخالف آوازیں بہت طاقتور ہو گئیں، اسمگلنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پھر یہ اشیاء پہلے متحدہ ارب امارات جانے لگیں اور وہاں سے دونوں ممالک میں پہنچنے لگیں۔ فضائی اور زمینی راستے بھی منقطع ہو گئے۔ مودی نے کشمیر کے متعلق آئین میں ترمیم کر دی جس سے یہ دونوں ممالک بہت عرصے سے ہائی کمشنر کے بغیر ہی کام کر رہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر قسم کے حالات میں ایک کھڑکی کھلی رکھنی چاہیے ۔ امریکہ ایران جنگ کے بعد امریکی پابندیوں کے اٹھنے کی صورت میں بھارت، ایران اور پاکستان (IPI) گیس پائپ لائن منصوبے سے بھارت کوعلیحدہ ہونے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ اسی طرح ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان (TAPI) گیس پائپ لائن بھی دونوں ممالک کیلئےفائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمیں سارک کو بھی دوبارہ فعال کرنا ہو گا کیونکہ ماضی میں اس تنظیم نے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہوا تھا۔ آج سارک کے رکن اور مبصرممالک کی آبادی1.5ارب نفوس سے بڑھ چکی ہے اور یہ خطہ اب تک اپنے غریب عوام کو اقتصادی ثمرات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ آج بھارت میں 12 ملین نوجوان اور پاکستان میں تقریباً 4 ملین نوجوان ہر سال روزگار کیلئے تیار ہو رہے ہیں لیکن ہماری مینوفیکچرنگ انڈسٹری بجلی کے نرخ روز بروزبڑھنے کی وجہ سے علاقائی طور پر مسابقتی نہیں رہی۔یاد رہے کہ نواز شریف کے دوسرے دور میں ہندوستان سے بجلی برآمد کرنے کا معاہدہ تقریبا پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تھا جس سے آج ہماری صنعتیں مستفید ہو رہی ہوتیں، ایسے حالات میں جب مینوفیکچرنگ انڈسٹری علاقائی طور پر مسابقتی نہیں رہی تو ہمارے پاس صرف علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کا آپشن ہی بچتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ یورپین اقوام نے طویل ترین مذہبی اور علاقائی جنگیں لڑ کر یہ شعور حاصل کیا کہ قوموں میں کس طرح نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ یورپین اقوام کی مثال ہمارے لیے بڑی سبق آموز ہے جن میں جرمنی اور پولینڈ نے آپس میں طویل جنگیں لڑیں اور جرمنی نے پولینڈ کے بہت سارے علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا۔ وارسا میں ان لوگوں کی یادگار قائم کی گئی جو اپریل 1943ء کو جرمن فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے ان حالات کی وجہ سے اس خطے میںبھی وہی کشیدگی پائی جاتی تھی جو آج کل پاکستان اور ہندوستان میں پائی جاتی ہے لیکن جرمنی کے چانسلر ولی برانٹ سات دسمبر1970ء کو پولینڈ کے دورے کے دوران وارسا میں اچانک اس یادگار مقام پر سجدہ ریز ہو گئے اور سرعام پولینڈ کے لوگوں سے جرمنی کے مظالم کی معافی مانگی، انہوں نے پولینڈ سے چھینے گئے علاقے بھی واپس کر دیئے اور دونوں ممالک نے آئندہ کبھی جنگ نہ کرنے کا عہد کیا ۔اسی دوران دونوں ممالک کے مورخین نے مل کر نصاب میں شامل تمام تر نفرت انگیز مواد نکال دیا اور نصاب کو اس طرح تشکیل دیا کہ وہ قومی جذبات اور مفادات سے بلند ہو کر حقائق کو سامنے لے آئے جس نے آہستہ آہستہ دونوں ممالک سے نفرت اور تعصب کو ختم کر دیا۔
مورخ لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے سے ہی ہر معاشرے میں جنگ لڑنے والوں کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا اور نوجوانوں میں ان کی تقلید کا جذبہ پیدا کیا جاتا ہے لیکن آج اکیسویں صدی میں دانشوروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ امن اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے بہادری کے تصور کو بدلیں اور ان لوگوں کو بہادر قرار دیں جنہوں نے علم و فن اور خیالات و افکار سے امن و آشتی کے پیغام کو دوام بخشا۔
یاد رہے کہ گزشتہ78برسوں میں ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور دونوں ممالک نے امریکا، یورپ، روس اور چین سے کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا اگر یہی وسائل تعلیم ، صحت ، صنعت ، سائنس اور عوامی فلاح پر خرچ کیے جاتے تو یہ خطہ ترقی اور امن کی راہ پر گامزن ہوتا۔