ارجنٹائن کے کوچ لیونل اسکالونی نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم فِٹ ہے اور فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف مقابلے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
عالمی چیمپئن ارجنٹائن آج اٹلانٹا میں انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کر کے مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کی کوشش کرے گا۔
لیونل اسکالونی نے کہا ہے کہ ٹیم کو یہاں تک پہنچانے والے کھلاڑیوں پر مجھے فخر ہے اور میں اس موقع سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔
اسکالونی نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے اگر کوئی مجھے سیمی فائنل تک پہنچنے کی پیشکش کرتا تو میں اسے قبول کر لیتا، مجھے اس بات کی شکایت نہیں کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، یہ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ہے اور ہمارے حوصلے بلند ہیں۔
واضح رہے کہ ارجنٹائن نے ناک آؤٹ مرحلے میں سخت مقابلوں کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔
ٹیم نے کیپ وردے کو اضافی وقت میں 3-2 سے شکست دی، پھر مصر کے خلاف 3-2 کی کامیابی حاصل کی اور سوئٹزر لینڈ کو 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے باوجود اضافی وقت میں 3-1 سے ہرایا۔
ارجنٹائن ٹیم کے 39 سالہ کپتان لیونل میسی کی قیادت میں ارجنٹائن کو انگلینڈ کے خلاف بھی سخت چیلنج کا سامنا ہو گا، دونوں ٹیموں کا ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ 5 ویں مرتبہ ٹکراؤ ہو گا۔
لیونل اسکالونی نے 1986ء کے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے مشہور میچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیاگو میراڈونا کا دوسرا گول آج بھی ہر فٹبال شائق کے دل میں زندہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک شاندار گول تھا، اگرچہ وہ انگلینڈ کے خلاف کیا گیا تھا۔
اس میچ کا تعلق فٹبال کے ساتھ ساتھ فاک لینڈ جزائر کے تنازع سے بھی جوڑا جاتا ہے کیونکہ 1982ء میں برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جنگ ہوئی تھی تاہم اسکالونی نے کہا کہ سیمی فائنل صرف ایک فٹبال میچ ہے اور ماضی کے سیاسی معاملات کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
انگلینڈ کے خلاف حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے اسکالونی نے بتایا کہ میری ٹیم جوڈ بیلنگھم اور ہیری کین جیسے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں کھلاڑی دنیا کے بہترین فٹبالرز میں شامل ہیں اور ہر کوچ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہے گا۔
اسکالونی کے مطابق ممکن ہے کہ ہمارے کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف حکمتِ عملی میں تبدیلی کریں تاہم یہ بھی امکان ہے کہ وہ اسی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتریں جو پہلے کھیلتی رہی ہے۔