مولانا فضل الرحمان دینی علوم کے اعتبار سے کتنے بڑے علامہ ہیں ،یہ فیصلہ تو ارباب جبہ و دستار ہی کرسکتے ہیں البتہ بات سیاست کی ہو تو میں انہیں سوارِ اشہب دوراں سمجھتا ہوں ۔انہوں نے 27برس کی عمر میں جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سنبھالی تو مذہبی جماعتیں ضیاالحق کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھیں ۔اگرچہ پاکستان قومی اتحاد میں شامل جماعتیں انتخابات کے پیش نظر ضیاالحق کی کابینہ سے الگ ہوچکی تھیں مگر جمعیت علمائے اسلام گومگو کی کیفیت میں تھی ۔مولانا فضل الرحمان کے پاس دو راستے تھے ،ضیاالحق سے ہاتھ ملا کر اقتدار کی راہ ہموار کرتے یا پھر جمہوری جدوجہد کا حصہ بنتے ۔انہوں نے مشکل ترین راستے کا انتخاب کیا ،زندگی میں پہلی اور شاید آخری بار ساڑھے تین سال قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔صرف یہی نہیں بلکہ جہاد افغانستان سے اپنا دامن بچائے رکھا۔مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ہتھیار اُٹھانے اور لشکر بنانے سے انکار کے بعد یہ فرض مولانا سمیع الحق اور قاضی حسین احمد کے سپرد کیا گیا ۔بعد ازاں جب دائیں بازو کی سیاست بچانے کے لئے آئی جے آئی بنائی گئی تو مولانا فضل الرحمان اپنے عقائد کے برعکس سیاسی نظریات کی پاسداری کرتے ہوئے اس اتحاد کا حصہ نہ بنے۔بینظیر بھٹو جب دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں تو مولانا فضل الرحمان کو امور ِخارجہ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ۔اسی دور میں طالبان افغانستان پر قابض ہوئے۔افغان طالبان کو حکومت کی گاڑی رواں دواں رکھنے کیلئے پاکستان سے گندم اور ڈیزل درکار تھاحکومت پاکستان نے یہ اشیاء برآمد کرنے کیلئے پرمٹ جاری کئے ۔الزام یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈیزل کے پرمٹ حاصل کئے۔لیکن سیاسی نوعیت کے ان الزامات کو ثابت کرنے کیلئےکسی قسم کا ثبوت دستیاب نہیں۔حکومتی اجازت نامے تو تحریری طور پر جاری کئے جاتے ہیں۔اگر واقعی مولانا نے ڈیزل کے پرمٹ حاصل کئے تو پھر کسی نہ کسی دفتر میں ریکارڈ دستیاب ہوگا مگر ان کے بدترین مخالف تحریک انصاف کے بانی عمران خان جب وزیراعظم تھے سائفر کی طرح کوئی جعلی ثبوت بھی کسی جلسے میں نہیں لہرا سکے۔اب جب ایک متنازع تقریر پرمولانا فضل الرحمان زیر عتاب ہیں اور انکی کردار کشی کی جارہی ہے تو ایک مرتبہ پھر ان پر ’’مولانا ڈیزل‘‘کی پھبتی کسی جارہی ہے۔میں ایک عرصہ سے اس مخمصے کا شکار تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر سب سے پہلے یہ تہمت کس نے لگائی ؟کیا عمران خان نے ہی انہیں ’’مولانا ڈیزل ‘‘کا لقب دیا یا پھر اسکی تاریخ بہت پرانی ہے؟جنگ کے ایک کالم نگار ایک سے زائد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ ’’مولانا ڈیزل‘‘کا لقب دراصل معروف مزاح نگار عطاالحق قاسمی کی عطا ہے ۔ان کے مطابق عطاالحق قاسمی نےنوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران 1997-98ء میں ایک کالم لکھا جس میں یہ اصطلاح پہلی بار استعمال کی گئی اور پھر انہوں نے 2006ء میں ایک کالم لکھ کر مولانا فضل الرحمان سے معافی بھی مانگی ۔میں نے صحافیانہ تجسس کے پیش نظر قاسمی صاحب سے استفسارکیا تو انہوں نے یہ ذمہ داری لینے سے انکار کردیا اور واضح طور پر کہا کہ نہ تو انہوں نے کبھی کسی کالم میں مولانا فضل الرحمان کیلئے یہ لقب استعمال کیا اور نہ کبھی کسی کالم میں معافی کے طلبگارہوا۔ہاںالبتہ’’درمدح مولانافضل الرحمان ‘‘کے عنوان سے دسمبر2011ء میں لکھے گئے ایک کالم میں ان کی کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کی ضرور تعریف کی۔اس وضاحت کے بعد تجسس مزید بڑھ گیا اور میں کھرا تلاش کرنے نکل پڑا۔معلوم ہوا کہ خواجہ آصف جو اکثر ترنگ میں آکر کچھ کہہ جاتے ہیں ،دراصل انہوں نے پہلی بار یہ تیر باندھا اور وہ بھی قومی اسمبلی کے فلور پر ۔بمشکل سراغ ملا کہ 1996ء میں کسی تقریر کے دوران یہ بات ان سے سرزد ہوئی تھی ۔قومی اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ دیکھنا شروع کیا تو ہزاروں صفحات کی ورق گردانی کرنا پڑی۔جنوری 1996ء سے ہورہے اجلاسوں کی تفصیل دیکھتا چلا گیا ،مئی کے آخر تک ڈور کا سرا ہاتھ نہ آیا ،آخر کار تیسرے پارلیمانی سال کے 27ویں سیشن میں تصدیق ہوگئی ۔9جون 1996ء کوشام ساڑھے چار بجے اسپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والا اجلاس سوال جواب کے سیشن پر مشتمل تھا۔فارن افیئرز کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نواب زادہ نصراللہ خان کے غیر ملکی دوروں پر ہورہے اخراجات کا حساب اور دونوں کمیٹیوں کی کارکردگی رپورٹ مانگی جارہی تھی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے امور خارجہ جارج کلیمنٹ سوالوں کے جواب دے رہے تھے ۔اسی اثناء میں خواجہ آصف کھڑے ہوئے اورکہا’’اس ہائوس کے دو ارکان میں نواب زادہ نصراللہ صاحب اور جناب فضل الرحمان صاحب ،ان دونوں کے درمیان یہ کمیٹیاں بانٹی گئی ہیں۔یہ اتنی Dismal Perfromanceپچھلے ڈھائی سال میں،سوائے اس کے یہ ہے کہ ان دونوں صاحبان نے اپنا ذاتی کاروبار...‘‘اسپیکر کہتے ہیں،سوال کریں ۔خواجہ آصف اسی انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے جملہ مکمل کرتے ہیں’’یا سیاسی دکانداری چمکائی ہوگی اور یہ جومولانا ڈیزل ہیں...‘‘ اسپیکر پھر ٹوک کر کہتے ہیں ،ذاتی حملے نہ کریں ،سوال کریں۔جس پر خواجہ آصف کہتے ہیں ’’آئی ایم سوری ‘‘۔
یہ کنفیوژن تو ختم ہوگئی کہ مولانا کو اس لقب سے کس نے نوازامگر کیا مولانافضل الرحمان ا س سلوک کے مستحق ہیں کہ ان پر پیشہ ور تبریٰ با ز چھوڑ دیئے جائیں؟ مجھے یادہے جنہیں آج ہم خوارج اور فتنہ الہندوستان کہتے ہیں ،جب ان دہشتگردوں نے پاکستان میں خودکش حملوں کاآغاز کیا تو سب سے پہلے مولانا نے انہیں حرام قرار دیا اور اس کے جواب میں ان پر دو خودکش حملے ہوئے ۔جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والے ان دہشتگردوں کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرنے کی پاداش میں مولانا حسن جان،مولانا نور محمد اور مولانا معراج الدین سمیت ان کے کئی ساتھیوں نے جام شہادت نوش کیا۔مولانا خان محمد شیرانی پر حملہ ہوا ۔اگر مولانا اپنے ہم مسلک دہشتگردوں اور ریاست پاکستان کے درمیان بفر زون نہ بنتے تو سب کچھ تباہ و برباد ہوجاتا۔مولانا فضل الرحمان کے الفاظ کا چنائو بہتر نہیں تھا یا پھر وہ مشتعل ہوکر نامناسب بات کہہ گئے تو اسے نظر اندازکرنا بہتر ہوتاکیونکہ مولانا جیسے مخلص دوستوں کو صفِ دشمناں میں دھکیلنا ہرگز عقلمندی نہیں اور نہ ہی پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔