پاکستانی بیوروکریسی کے بارے یہ تاثر عام ہے کہ شاید ان کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ان میں متعدد شخصیات ایسی بھی ہیں جو اپنے علمی پس منظر، انتظامی صلاحیتوں اور سماجی خدمات کے ذریعے اداروں اور افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کر رہی ہیں۔ پبلک لائبریریز ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کاشف منظور بھی انہی قابلِ ذکر شخصیات میں شامل ہیں، جن کا پیشہ ورانہ اور علمی سفر تعلیم، ادب، کتاب دوستی اور عوامی فلاح کیلئے مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ چندروزقبل باغ جناح لاہور میں واقع تاریخی قائد اعظم لائبریری میں ہمارے کرم فرما علامہ عبد الستار عاصم کے ہمراہ جناب کاشف منظور سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق جلال پور جٹاں، ضلع گجرات سے ہے۔ ایک علمی اور ثقافتی ماحول سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھوں نے ابتدا ہی سے تعلیم کو اپنی زندگی میں بنیادی اہمیت دی۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بین الاقوامی تعلقات جیسے وسیع اور اہم مضمون میں تعلیم نے انہیں عالمی سیاست، ریاستی نظام، بین الاقوامی اداروں، سفارتکاری اور مختلف ممالک کے انتظامی و سیاسی ڈھانچوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے علمی سفر کو مزید وسعت دیتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف مانچسٹر سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم نے انہیں اداروں کے اندر انسانی وسائل کی اہمیت، قیادت، ملازمین کی تربیت، کارکردگی، تنظیمی رویوں اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے گہری آگاہی فراہم کی۔انھوں نے سال 2000 میں حکومت پنجاب کے ایک سینئر افسر کی حیثیت سے صوبائی سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے ایک ممتاز اور باوقار پیشہ ورانہ کیریئر تشکیل دیا۔
سرکاری ملازمت کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے فرائض محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کیے بلکہ انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کو مؤثر خدمات فراہم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ سول سروس کے معاملات، اسٹیبلشمنٹ کوڈ، جسے عمومی طور پر ESTA Code کہا جاتا ہے، پبلک ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ کے شعبوں میں انہیں خصوصی مہارت حاصل ہے۔ سرکاری افسران کیلئےسروس رولز، تقرری، ترقی، نظم و ضبط، انتظامی طریقہ کار اور انسانی وسائل سے متعلق قوانین کو سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ انھوں نے ان موضوعات پر اپنی مہارت کے باعث سرکاری اور تعلیمی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں اور عوامی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہترین پبلک سروس آفیسر کے طور پر بھی سراہا گیا۔ ہمارے خیال میں جناب کاشف منظور جیسے علم دوست، باصلاحیت اور دیانتدار افسر کو ان کی قومی خدمات کی بنیاد پر تمغہ حسن کارکردگی کے ایوارڈ سے نوازا جائے تاکہ پاکستانی بیوروکریسی میں محب وطن اور اہل افراد کی حوصلہ افزائی ہو سکے ۔ دسمبر 2024 میں ان کو امریکہ کے باوقار انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام، یعنی IVLP، کیلئے منتخب کیا گیا۔
اس پروگرام کے دوران انہوں نے امریکہ کے مختلف معروف تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی اداروں کا دورہ کیا۔ان کے دوروں میں لائبریری آف کانگریس، ہارورڈ یونیورسٹی، مختلف عجائب گھر، تعلیمی ادارے، ثقافتی مراکز اور تاریخی مقامات شامل تھے۔ ان دوروں نے انہیں عالمی سطح پر لائبریری مینجمنٹ، تعلیمی پالیسی، ثقافتی ورثے کے تحفظ، ڈیجیٹل وسائل اور علمی اداروں کے جدید نظام کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بین الاقوامی تجربے سے حاصل ہونے والے علم کو انہوں نے حکومت پنجاب کے پبلک لائبریری نظام کی بہتری اور جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے استعمال کیا۔ پبلک لائبریریز ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے انھوں نےصوبے کے لائبریری نظام کو جدید، فعال اور عوام دوست بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں۔ انکی قیادت میں پنجاب کی پبلک لائبریریوں میں لاکھوں نئی کتابوں کا ایسا بڑا اضافہ کیا گیا جو گزشتہ ستائیس برسوں کے دوران اپنی نوعیت کا سب سے نمایاں اضافہ قرار دیا جاتا ہے۔ نئی کتابوں کی فراہمی سے نہ صرف طلبہ اور محققین کو فائدہ پہنچا بلکہ عام قارئین، نوجوانوں اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے بھی مطالعے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔جدید دور میں لائبریری کا تصور صرف کتابیں محفوظ رکھنے کی جگہ تک محدود نہیں رہا۔ آج لائبریریاں تحقیق، ڈیجیٹل تعلیم، معلومات تک رسائی، کمیونٹی سرگرمیوں، بچوں کی تربیت اور نوجوانوں کی ذہنی نشوونما کے اہم مراکز بن چکی ہیں۔ وہ اسی جدید تصور کے مطابق پنجاب کی پبلک لائبریریوں کو زیادہ فعال اور مؤثر اداروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی نمایاں کاوشوں میں نیشنل بک ریڈنگ موومنٹ کا آغاز بھی شامل ہے۔ انہوں نے ہم خیال افسران، اسکالرز، ادیبوں، صحافیوں اور تعلیم دوست شخصیات کے تعاون سے ملک میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے کی تحریک شروع کی۔ اس تحریک کا مقصد بالخصوص نوجوان نسل کو کتاب کے قریب لانا، مطالعے کی عادت پیدا کرنا اور علم کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔