لاہور کو صدیوں سے باغوں، پھولوں اور سرسبز مناظر کا شہر کہا جاتا رہا ہے۔ مغل دَور کے شاہی باغات سے لے کر برطانوی عہد کے منظّم پارکس تک، اِس شہر کی شناخت ہمیشہ قدرتی حُسن اور شہری تہذیب کے امتزاج سے وابستہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی لاہور کا ذکر ہوتا ہے، تو ذہن میں شالامار باغ، لارنس گارڈن، گلشنِ اقبال پارک اور دیگر ہرے بھرے مقامات کی تصاویر اُبھر آتی ہیں۔
ان ہی میں سے ایک تاریخی اور منفرد مقام،’’باغِ جناح‘‘ بھی ہے، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اہلِ لاہور کے لیے سُکون، تفریح اور قدرتی حُسن کا مرکز چلا آ رہا ہے، مگر افسوس کہ آج یہ عظیم تاریخی وَرثہ متعدّد مسائل کا شکار ہے اور اس کی موجودہ حالت، اس کے شان دار ماضی سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتی۔
باغِ جناح کی تاریخ دراصل برّ ِعظیم میں برطانوی راج کے دَور سے جُڑی ہوئی ہے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، جب لاہور کو پنجاب کا انتظامی مرکز بنایا گیا، انگریز حُکم رانوں نے شہر کی منصوبہ بندی میں عوامی باغات اور تفریحی مقامات کو خصوصی اہمیت دی۔ اِسی سوچ کے تحت 1860ء کی دہائی میں ایک وسیع و عریض باغ قائم کیا گیا، جسے اُس وقت’’لارنس گارڈن‘‘ کا نام دیا گیا۔
یہ نام دراصل برطانوی پنجاب کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر، سر جان لارنس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اُس دور میں یہ باغ صرف تفریح گاہ ہی نہیں تھا، نباتات، باغ بانی اور شہری منصوبہ بندی کے جدید تصوّرات کی عملی مثال بھی سمجھا جاتا تھا۔
لارنس گارڈن میں دنیا کے مختلف خطّوں سے درختوں، پودوں اور پھولوں کی اقسام لا کر لگائی گئیں۔ یہاں وسیع سبزہ زار، سایہ دار درخت، پھولوں کی قطاریں، پیدل چلنے کے راستے اور تحقیقی نوعیت کے نباتاتی ذخائر تعمیر کیے گئے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ باغ لاہور کی سماجی و ثقافتی زندگی کا اہم حصّہ بن گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمّد علی جناح کے نام پر’’باغِ جناح‘‘رکھ دیا گیا۔
یہ حقیقت کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی دَور میں لاہور کا لارنس گارڈن اور لندن کا ہائیڈ پارک ایک ہی طرزِ فکر کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ اگرچہ دونوں کا حجم، جغرافیہ اور آب و ہوا مختلف ہیں، لیکن ان کا بنیادی مقصد شہریوں کو فطرت کے قریب لانا اور مصروف شہری زندگی سے چند لمحوں کی راحت فراہم کرنا تھا۔ آج لندن کا ہائیڈ پارک دنیا کے بہترین شہری پارکس میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں ہر روز ہزاروں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں اور کھیلوں میں حصّہ لیتے ہیں۔ نیز، ثقافتی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔
پارک میں صفائی، سیکیوریٹی، پینے کے پانی، عوامی واش رومز، تاریخی عمارتوں اور نباتاتی وَرثے کے تحفّظ کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہے۔ اس کے برعکس، باغِ جناح، جو کبھی برّ ِعظیم کے بہترین شہری باغات میں شمار کیا جاتا تھا، آج متعدّد مسائل سے دوچار ہے۔ اگر کوئی شخص صبح سویرے باغ کا چکر لگائے، تو اُسے ایک طرف بلند و بالا درختوں، خُوش بُودار پھولوں اور قدرتی حُسن کی جھلک دِکھائی دیتی ہے، لیکن دوسری طرف انتظامی کم زوریوں کے اثرات بھی واضح محسوس ہوتے ہیں۔
کئی مقامات پر صفائی کی صُورتِ حال تسلّی بخش نہیں۔ درختوں کے سوکھے پتّے، گرے ہوئے پھول اور دیگر کچرا دِنوں تک پڑا رہتا ہے، جب کہ بعض مقامات پر کچرے کے ڈھیر اِس تاریخی باغ کے حُسن کو بُری طرح ماند کرتے نظر آتے ہیں۔باغ کی مسجد کے اطراف اور بعض پھولوں والی گزرگاہوں میں جمع کچرا نہ صرف بُدصورتی کا سبب ہے، بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا بھی باعث بنتا ہے۔
شہریوں کا شکوہ ہے کہ مالیوں اور صفائی کے عملے کی مناسب تعداد ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نظر نہیں آتے۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ باغِ جناح کی دیکھ بھال کا نظام صرف کاغذات ہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور کسی کو اِس باغ کی کوئی فکر نہیں۔ باغ میں آوارہ کتّوں کی بڑھتی تعداد بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں درجنوں کتّے مختلف راستوں پر گھومتے نظر آتے ہیں، جن کی موجودگی سے مارننگ واک کے لیے آنے والے بزرگ شہری، خواتین اور بچّے خوف محسوس کرتے ہیں۔
کسی بھی بین الاقوامی معیار کے پارک میں آوارہ جانوروں کا داخلہ روکنے کے لیے واضح حکمتِ عملی موجود ہوتی ہے، مگر یہاں اِس جانب خاطر خواہ توجّہ دِکھائی نہیں دیتی۔ یہ باغ لاہور کے وسط میں واقع ہونے کے باعث ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی طرف متوجّہ کرتا ہے۔ صبح کے وقت یہاں صحت کے متوالے افراد جاگنگ کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ دن کے اوقات میں نوجوانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد یہاں موجود ہوتی ہے۔
بعض والدین اور اساتذہ اِس امر پر تشویش کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ تعلیمی اوقات میں طلبہ پارک میں وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ پارکس، عوامی مقامات ہوتے ہیں اور اُن پر ہر شہری کا حق ہے، تاہم نوجوان نسل کی تعمیری سرگرمیوں کی جانب رہنمائی بھی ضروری ہے۔ اِسی طرح باغِ جناح میں آوارہ پِھرنے والوں اور مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے تا کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
اِس باغ کے ضمن میں ایک اور افسوس ناک پہلو بعض غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق شکایات ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ باغ کے نسبتاً سنسان حصّوں میں منشیات کے استعمال اور دیگر نامناسب سرگرمیوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔اگرچہ ایسے معاملات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی باقاعدہ تحقیقات کے متقاضی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر کسی بھی بڑے عوامی مقام کا ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں باغات’’نو اسموکنگ زون‘‘ ڈیکلیئر کیے گئے ہیں، جس کا مقصد سیر و تفریح کے لیے آنے والے افراد کو صحت بخش اور تازہ فضا مہیا کرنا ہے، تاہم، باغِ جناح میں اِس عالمی قانون بھی کی کُھلم کُھلا خلاف ورزی ہورہی ہے۔ سیکیوریٹی گارڈز کی غفلت اور لاپروائی کی بناء پر اکثر افراد دوسروں کی پروا کیے بغیر تمباکو نوشی کرتے نظر آتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایسے افراد پر جرمانہ عائد کیا جائے تاکہ لوگوں کو آکسیجن سے بھرپور فضا مل سکے۔
شہریوں کی سیکیوریٹی کے ضمن میں بھی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ دنیا کے ترقّی یافتہ ممالک میں پارک مینجمینٹ ایک مکمل سائنس کی حیثیت اختیار کر چُکی ہے۔ ہائیڈ پارک لندن، سینٹرل پارک نیویارک اور سنگاپور کے گارڈنز بائی دی بے جیسے مقامات پر سیکیوریٹی، نگرانی اور عوامی سہولتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، باغِ جناح میں جدید نگرانی کے نظام، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت شدّت سے محسوس کی جاتی ہے۔
پارک کے عوامی ٹوائلٹس کی حالت بھی شہریوں کی شکایات کا اہم موضوع ہے۔ کئی مقامات پر پانی، صفائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ بدبُو اور ناقص نکاسیٔ آب کا مسئلہ نہ صرف تکلیف دہ ہے، بلکہ صحتِ عامّہ کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ کسی بھی مہذّب شہر کی پہچان اُس کے عوامی مقامات کی صفائی ستھرائی سے ہوتی ہے اور اِس ضمن میں باغِ جناح کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔
یہاں پینے کے صاف پانی کی عدم دست یابی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ دنیا بَھر کے جدید پارکس میں واٹر فلٹریشن اسٹیشن اور پینے کے پانی کے مفت پوائنٹس موجود ہوتے ہیں، جب کہ باغِ جناح میں آنے والے افراد کو عموماً بوتل بند پانی خریدنا پڑتا ہے اور استعمال کے بعد خالی بوتلیں اور دیگر پلاسٹک ویسٹ اکثر راستوں اور سبزہ زاروں میں بکھرا نظر آتا ہے، جو ماحولیات کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اِسی طرح بچّوں کے جھولوں والے حصّے کی گھاس کافی عرصے سے نہیں کاٹی گئی اور اِس گھاس میں کیڑے مکوڑوں کی موجودگی چھوٹے بچّوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔
باغِ جناح کی سب سے قیمتی، مگر نظر انداز شدہ یادگار، اُس میں موجود برطانوی دَور کی تاریخی رہائش گاہ ہے، جو کبھی سپرنٹنڈنٹ کی سرکاری اقامت گاہ ہوا کرتی تھی۔ آج یہ عمارت ضروری مرمّت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی بناء پر خستہ حالی کا شکار ہے۔ اگر یہی عمارت لندن، پیرس یا میلبورن میں واقع ہوتی، تو شاید اسے عجائب گھر، ثقافتی مرکز یا سیّاحتی مقام میں تبدیل کرکے خاصا منافع کمایا جاتا۔
تاریخی عمارات کا تحفّظ صرف ماضی کو محفوظ کرنا نہیں، مستقبل کے لیے معاشی امکانات پیدا کرنا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ باغِ جناح محض ایک پارک نہیں، زندہ تاریخی دستاویز ہے۔ اس کے درخت، راستے، عمارتیں اور سبزہ زار لاہور کی ڈیڑھ سو سالہ شہری تاریخ کے گواہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا خیال ہے کہ اسے ایک جدید بوٹینیکل گارڈن اور ہارٹیکلچر ریسرچ سینٹر میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
زرعی یونی ورسٹیز، تحقیقی اداروں اور باغ بانی کے ماہرین کو اِس منصوبے کا حصّہ بنایا جا سکتا ہے۔ نیز، یہاں نئی اقسام کے پھول، آرائشی پودے، بیلیں اور درخت متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔ کچن گارڈننگ، اربن فارمنگ اور اِن ڈور پلانٹس کی صنعت دنیا بَھر میں اربوں ڈالرز کی معیشت بن چُکی ہے۔ اگر باغِ جناح کو اِس شعبے کی تربیت گاہ بنایا جائے، تو بے روزگار نوجوانوں، زرعی گریجویٹس اور خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ باغ لاہور میں گرین انڈسٹری کے فروغ کا مرکز بن کر معاشی ترقّی میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، لاہور آج فضائی آلودگی، درجۂ حرارت میں اضافے اور تیزی سے کم ہوتے سبز رقبے جیسے سنگین ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں باغِ جناح جیسے مقامات کی اہمیت کئی گُنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ صرف تفریحی مقام نہیں، شہر کے لیے قدرتی پھیپھڑوں کی حیثیت رکھتا ہے، جو آلودگی میں کمی، درجۂ حرارت میں توازن اور شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
اگر حکومتِ پنجاب، ماہرینِ ماحولیات، شہری منصوبہ ساز، تعلیمی ادارے اور سِول سوسائٹی مل کر ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت باغِ جناح کی بحالی کا کام شروع کریں، تو یہ باغ دوبارہ اپنی کھوئی شان حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح لندن کا ہائیڈ پارک، برطانیہ کی پہچان بن چُکا ہے، اِسی طرح باغِ جناح بھی لاہور اور پاکستان کی مثبت شناخت بن سکتا ہے۔
یہ باغ اہلِ لاہور کے لیے محض ایک سبزہ زار نہیں، ایک تاریخی امانت، ثقافتی سرمایہ اور ایک ایسا خواب ہے، جو مناسب توجّہ، بہتر انتظام اور دُور رس منصوبہ بندی کے ذریعے دوبارہ حقیقت کا رُوپ دھار سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اِس عظیم وَرثے کو محض ایک پارک نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیے جانے والے قومی اثاثے کے طور پر دیکھیں کہ ایسے تاریخی اثاثے ہی قوموں کی پہچان ہوا کرتے ہیں۔