• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیٹا اور بیانیے کی جنگ: دنیا کس کے ہاتھ میں ہے

تاریخِ انسانی کا منصفانہ جائزہ بتاتا ہے کہ طاقت کا تصوّر مسلسل تبدیل ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں وسیع سرحدیں اورافواج طاقت کا معیار تھیں، پھر صنعتی انقلاب نے کارخانوں اور سرمائے کو مرکزِ نگاہ بنایا۔ بیسویں صدی میں ایٹمی ہتھیاروں نے عالمی سیاست کی سمت متعین کی، جب کہ موجودہ صدی میں طاقت کا محور معلومات اور ٹیکنالوجی ہیں۔

عہدِ قدیم میں سلطنتوں کی عظمت کا انحصار وسیع سرحدوں، مضبوط افواج اور فتوحات پر تھا۔مگر آج کی صدی نے طاقت کی تعریف ایک بار پھر بدل دی ہے۔ آج دنیا کے با اثر ممالک اور ادارے صرف اس لیے طاقت وَر نہیں کہ اُن کے پاس زیادہ فوج یا زیادہ دولت ہے، بلکہ اثر و رسوخ کا دارومدار معلومات کے حصول، تجزیے اور مستقبل کے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ اور اسی تبدیلی نےایک سوال جنم دیا ہے کہ آج کی دنیا حقائق پر چل رہی ہے یا اُن بیانیوں پر، جو حقیقت کے گرد بُنے جاتے ہیں؟

یہ سوال اب جدید سیاست، معیشت، سفارت کاری، صحافت اور قومی سلامتی کا مرکز بن چکا ہے اور طاقت کے بدلتے معیارات کی نشان دہی کرتا ہے۔ اگر عوام کی رائے، مالیاتی منڈیاں، انتخابات، جنگیں اور بین الاقوامی تعلقات معلومات کے بہاؤ سے متاثر ہوتے ہیں، تو پھر طاقت کی اصل بنیاد بھی تبدیل ہوچکی ہے۔ معلومات اب صرف خبر نہیں، ریاستوں کا اسٹریٹجک اثاثہ ہیں، گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا نے ایسے واقعات دیکھے، جنہوں نے اس تبدیلی کو غیر معمولی طور پر واضح کر دیا۔

عالمی مالیاتی بحران،کوروناوبا، مختلف خطّوں میں جنگیں، مصنوعی ذہانت کا تیز رفتار ارتقا، اور ڈیجیٹل غلبے نے ثابت کیا کہ طاقت کا محور بدل چکا ہے۔ اب ریاستوں کی برتری کا دارومدار صرف عسکری قوت پر نہیں، اطلاعات کی بروقت ترسیل، تجزیے اور موثر فیصلہ سازی کی صلاحیت پر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب بار بار کہتے ہیں کہ ’’ڈیٹا، اکیسویں صدی کا نیا سرمایہ ہے۔‘‘ جب کہ اس جملے کو محض ایک نعرہ سمجھ لینا بھی بڑی غلطی ہوگی۔ سرمایہ صرف وہ نہیں ، جو بینکس میں جمع ہو، سرمایہ وہ بھی ہوتا ہے، جو مستقبل کے فیصلوں، منڈیوں، عوامی رویّوں اور قومی حکمتِ عملی کو متاثر کرسکے۔اور آج ڈیٹا یہی کردار ادا کر رہا ہے۔

ذرا اپنے روزمرّہ معمولات پر غور کیجیے۔ صبح موبائل فون کا الارم بند کرنا، راستے کے لیے نقشہ استعمال کرنا، کسی خبر پر چند سیکنڈ رک جانا، کسی ویڈیو کو پسند کرنا، آن لائن خریداری، یا بینکنگ ایپ استعمال کرنا،یہ سب سرگرمیاں بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہیں، لیکن ہر عمل ایک ڈیجیٹل نشان چھوڑ دیتا ہے۔ جب اربوں انسانوں کے ایسے اربوں نشانات مصنوعی ذہانت اور جدید الگورتھمز کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑے جاتے ہیں، تو وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ بھی اندازہ لگانے لگتے ہیں کہ وہ آئندہ کیا سوچ سکتے ہیں، کیا خرید سکتے ہیں، کس بات سے خوف زدہ ہوں گے اور کن نظریات سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں معلومات، طاقت میں تبدیل ہونا شروع ہوتی ہیں۔ مگر ایک اور حقیقت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ڈیٹا خود فیصلہ نہیں کرتا، فیصلہ انسان ہی کرتے ہیں۔تاہم، آج انسانوں کے فیصلوں کو متاثر کرنے میں ڈیٹا کا کردار پہلے سے کہیں بڑھ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی معیشتیں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سپر کمپیوٹنگ، سائبر سیکیوریٹی اور ڈیٹا سینٹرز میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ مستقبل کی معاشی برتری صرف فیکٹریز سے نہیں، معلومات پر دسترس سے حاصل ہوگی۔لیکن اگر طاقت صرف ڈ یٹا میں ہوتی، تو دنیا کا ہر وہ ادارہ، جس کے پاس وسیع پیمانے پر معلومات موجود ہیں، عالمی سیاست کا سب سے بڑا کھلاڑی بن چکا ہوتا۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ڈیٹا خام مال ہے،اور یہ اس وقت طاقت وَر ہوتا ہے، جب اس خام مال کو ایک ایسی کہانی، ایک ایسی تعبیر اور ایک ایسے مؤثر پیغام میں ڈھال دیا جائے، جس پر لوگ یقین کرنے لگیں۔ یہی بیانیہ ہے، اور یہی اکیسویں صدی کی سب سے فیصلہ کُن قوّت بنتا جا رہا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا کہ انسانی ذہن متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں یہ عمل برسوںپر محیط تھا، آج چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اثر پزیر ہوتا ہے۔ اب جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی،موبائل فون کی اسکرینز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، سرچ انجنز اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسے’’اطلاعاتی جنگ‘‘ (Information Warfare) اور ’’علمی یا اِدراکی جنگ‘‘ (Cognitive Warfare) قرار دیا جاتا ہے، جہاں اصل ہدف زمین نہیں، انسان کا ذہن ہوتا ہے۔

یہی وہ بنیادی اور فیصلہ کُن موڑ ہے، جہاں سے اصل سوال جنم لیتا ہے کہ ’’اگر ’’ڈیٹا‘‘ نئی دولت اور ’’بیانیہ‘‘ نئی طاقت کی علامت ہے، تو اکیسویں صدی کی اس نئی عالمی صف آرائی میں درحقیقت طاقت کا اصل محورکون ہے؟‘‘اگر اکیسویں صدی کی عالمی معیشت، سیاست اور ٹیکنالوجی کو ایک لفظ میں سمیٹ دیا جائے، تو وہ لفظ ہے’’ڈیٹا۔‘‘ مگر ڈیٹا صرف اعداد و شمار کا انبار نہیں، انسانی رویّوں، ترجیحات، خواہشات اور فیصلوں کا آئینہ بھی ہے۔

آج دنیا کی بڑی معیشتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مستقبل کی برتری صرف معدنی وسائل، توانائی یا صنعتی پیداوار سے نہیں، اس صلاحیت سے طے ہوگی کہ کون زیادہ معیاری معلومات جمع کرتا، انہیں بہتر انداز میں سمجھتا اور ان کی بنیاد پر زیادہ درست فیصلے کر سکتا ہے۔یعنی کبھی کہا جاتا تھا کہ ’’جس کے پاس تیل ہے، مستقبل اُسی کا ہے۔‘‘ آج یہی بات یوں ہوگئی ہے کہ ’’ڈیٹا جس کے پاس ہے، مستقبل اُسی کے ہاتھ ہے۔‘‘ تاہم، یہ تشبیہ بھی مکمل نہیں، کیوں کہ تیل ایک محدود قدرتی وسیلہ، جب کہ ڈیٹا ہر لمحہ پیدا ہونے والا، مسلسل بڑھنےاور استعمال کے ساتھ مزید قیمتی بننے والا سرمایہ ہے۔

2025ء کے عالمی جائزوں کے مطابق نجی شعبے میں مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاری ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جب کہ اداروں میںاے۔آئی کے عملی استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ اگرچہ امریکا اس سرمایہ کاری میں بدستور سب سے آگے ہے، تاہم، چین بھی تحقیق، پیٹنٹس اور صنعتی اطلاق میں تیزی سے فاصلہ کم کر رہا ہے۔ یہ مقابلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، ڈیٹا کی بالادستی کا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا ہر طاقت وَر نظام وسیع، متنوّع اور معیاری ڈیٹا چاہتا ہے، یعنی جتنا بہتر ڈیٹا ہوگا، اتنے ہی بہتر فیصلے، زیادہ مؤثر الگورتھمز اور زیادہ مضبوط معاشی و دفاعی صلاحیتیں پیدا ہوں گی۔ اسی لیے آج ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور ہائی پرفارمینس کمپیوٹنگ کو قومی سلامتی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ محض زیادہ ڈیٹا جمع کرنا ہی کافی نہیں، ایک لائبریری میں لاکھوں کتابیں موجود ہو سکتی ہیں، لیکن جب تک کوئی اُنہیں پڑھ کر علم و حکمت میں تبدیل نہ کرے، وہ محض کاغذات کا ذخیرہ ہیں۔ بالکل اسی طرح ڈیٹا بھی ایک خام مال کی حیثیت رکھتا ہے، جسے انسانی رویّوں اور سیاسی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کیے بغیر کام یابی ممکن نہیں۔

اسی حقیقت کو دنیا نے Cambridge Analytica (ایک برطانوی سیاسی مشاورتی ادارہ، جو لوگوں کا ڈیٹا جمع کرکے انتخابی مہمات متاثر کرتا تھا)کے معاملے میں قریب سے دیکھا۔ اس واقعے نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر لوگوں کی نفسیاتی ترجیحات اور آن لائن سرگرمیوں کا تجزیہ کرکے ان تک مخصوص سیاسی پیغامات پہنچائے جائیں، تو کیا ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے؟

اس بحث نے یہ واضح کر دیا کہ ڈیٹا صرف کاروبار کا ذریعہ نہیں، جمہوری عمل، انتخابی سیاست اور قومی سلامتی پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز صرف سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیز نہیں رہیں، معلوماتی طاقت کے مراکز بن چکی ہیں۔ ان کے پاس موجود ڈیٹا انہیں صارفین کی ضروریات سمجھنے، اشتہارات کو ہدف بنانے، نئی مصنوعات تیار کرنے اور بعض اوقات رائے عامّہ کے رجحانات کا اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ اس طاقت کے ساتھ ذمّے داری بھی بڑھتی ہے، اور اسی لیے دنیا بھر میں ڈیٹا پرائیویسی،اے۔ آئی گورننس اور ڈیجیٹل ضابطہ کاری پر بحث پہلے سے کہیں زیادہ شدّت اختیار کر چکی ہے۔

یہاں ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ ڈیٹا خود کسی کو قائل نہیں کرتا، بلکہ اس کی تشریح کرتی ہے۔جب یہی تشریح کسی منظّم فکری پیرائے، مربوط پیغام اور جذباتی یا عقلی قالب میں ڈھلتی ہے، تو باضابطہ بیانیہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ سنگِ میل ہے، جہاں معلومات، سیاست، نفسیات اور میڈیا کے مابین حقیقی گٹھ جوڑ سامنے آتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر ڈیٹا اس نئی دنیا کا ایندھن ہے تو بیانیہ اس کا انجن۔ ایندھن کے بغیر انجن نہیں چل سکتا، اور انجن کے بغیر ایندھن منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔

اکیسویں صدی کی اصل طاقت ان ہی دونوں کے امتزاج میں پوشیدہ ہے، اور یہی امتزاج آنے والے برسوں میں عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری کی سمت متعین کرے گا۔ اگر ڈیٹا طاقت کا خام مال ہے، تو پھر وہ کون سی قوت ہے، جو اسے عوامی رائے، سیاسی فیصلوں اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہونے کے قابل بناتی ہے؟ اس سوال کا جواب ایک ہی لفظ میں پوشیدہ ہے، بیانیہ (Narrative)۔ بیانیہ محض کسی واقعے کی کہانی نہیں، حقیقت کی ایک مخصوص تعبیر ہے۔

خبر صرف یہ بتاتی ہے کہ ’’کیا ہوا؟‘‘ لیکن بیانیہ یہ طے کرتا ہے کہ ’’اسے کس نظر سے دیکھا جائے، کسے ذمّے دار سمجھا جائے، کس سے ہم دردی کی جائے اور کس سے نفرت۔‘‘ اسی لیے جدید دنیا میں اکثر کہا جاتا ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں، انسانی ذہن میں جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر دَور کی بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے مطابق بیانیے تشکیل دیے۔ نوآبادیاتی دَور میں قبضے کو ’’تہذیب کا مشن‘‘ قرار دیا گیا۔

سرد جنگ میں سرمایہ داری اور اشتراکیت نے خود کو انسانیت کا نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش کی، اور آج بھی عالمی طاقتیں اپنی خارجہ پالیسی، معاشی پابندیوں یا فوجی کارروائیوں کو ایسے الفاظ میں پیش کرتی ہیں، جو عالمی رائے عامّہ کو اُن کے حق میں ہم وار کرسکیں۔

دورِ حاضر میں اطلاعات کی ترسیل کا انداز یک سَر بدل چکا ہے۔ ماضی کے برعکس، جب بیانیہ روایتی ذرائع ابلاغ تک محدود تھا، آج ایک تصویر، ویڈیو یا ہیش ٹیگ منٹوں میں کروڑوں افراد تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ مگر اس تیز رفتاری نے ابلاغ کو عوامی سطح پر بااختیار تو بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی جعلی خبروں اور منظم پراپیگنڈے کے خطرات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

آج الگورتھمز کا کردار انتہائی اہم ہوچکاہے۔ عام صارف سمجھتا ہے، وہ اپنی پسند کا مواد دیکھ رہا ہے، جب کہ حقیقت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مسلسل اس کے رویّوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صارف کن موضوعات پر زیادہ وقت گزارتا ہے، کن خبروں پر ردِّعمل دیتا ہے، کن ویڈیوز کو مکمل دیکھتا ہے اور کن پر فوراً آگے بڑھ جاتا ہے۔

ان ہی معلومات کی بنیاد پر اس کے سامنے ایسا مواد رکھا جاتا ہے، جو اس کی دل چسپی مزید بڑھائے۔ اس عمل کا تجارتی مقصد تو صارف کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنا ہوتا ہے، مگر اس کا سماجی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ صرف ان ہی خیالات کے دائرے میں محدود ہونے لگتے ہیں، جن سے وہ پہلے ہی اتفاق رکھتے ہیں۔

اس کیفیت کو ماہرین ’’ایکو چیمبر‘‘ اور ’’فلٹر ببل‘‘ کا نام دیتے ہیں، جہاں انسان مختلف آراء سُننے کے بجائے اپنی ہی سوچ کی بازگشت سُنتا رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں اختلافِ رائے کم زور پڑ جاتا ہے، جب کہ جذباتی اور انتہاپسند بیانیے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اس پورے عمل نے صحافت کو بھی ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔

پہلے صحافی کی ذمّے داری خبر جمع کرنا اور اس کی تصدیق کرنا تھی، مگر اب اسے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ خبر کے ساتھ پھیلنے والا بیانیہ کیا ہے، تصویر حقیقی ہے یا مصنوعی، ویڈیو اصلی ہے یا ڈیپ فیک اور عوامی ردِّعمل قدرتی ہے یا مصنوعی اکاؤنٹس اور بوٹس کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ معتبر صحافت آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ اسی طرح روس، یوکرین جنگ، غزہ کی صُورتِ حال، اور مختلف ممالک کے انتخابات نے ثابت کیا کہ معلوماتی محاذ اب عسکری محاذ سے کم اہم نہیں رہا۔ ہر فریق صرف اپنی فوجی کام یابی دکھانے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ عالمی رائے عامّہ بھی اپنے حق میں ہم وار کرنا چاہتا ہے۔

بعض اوقات ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک مختصر بیان عالمی سفارت کاری پر اتنا اثر ڈال دیتا ہے، جتنا روایتی سفارتی بیانات بھی نہیں ڈال پاتے۔ یہاں مصنوعی ذہانت نے اس جنگ کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ آج اے۔ آئی چند سیکنڈز میں ایسی تحریریں، تصاویر، ویڈیوز اور آوازیں تیار کر سکتی ہے، جو حقیقت سے اس قدر مشابہ ہوتی ہیں کہ عام آدمی کے لیے اُن میں فرق آسان نہیں رہتا۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں سب سے بڑا بحران شاید معلومات کی کمی نہیں، بلکہ مستند معلومات کی شناخت ہوگا۔ درحقیقت، اکیسویں صدی کی اصل جنگ سچ اور جھوٹ کے درمیان بھی نہیں، بلکہ اعتماد اور بے اعتمادی کے درمیان ہے۔ جو ریاست، ادارہ، میڈیا ہاؤس یا پلیٹ فارم عوام کا اعتماد حاصل کر لیتا ہے، اس کا بیانیہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے جدید دَور میں صرف معلومات مہیّا کرنا کافی نہیں، بلکہ اُن کی ساکھ اور اعتبار بھی اُتنے ہی اہم ہو چکے ہیں۔

اگر بیسویں صدی کی سیاست کا محور فوجی اتحاد، ایٹمی طاقت اور نظریاتی کشمکش تھی، تو اکیسویں صدی کی سیاست کا مرکز ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور اطلاعاتی برتری ہے۔اسی حقیقت نے عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کو جنم دیا ہے۔ امریکا، چین، یورپی یونین اور روس صرف معاشی یا عسکری میدان میں نہیں، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، کلاؤڈ انفرااسٹرکچر اور ڈیٹا گورنینس میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا کی برتری کا ایک اہم سبب اس کی وہ ٹیکنالوجی کمپنیز ہیں، جن کے پلیٹ فارم دنیا کے اربوں افراد روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف چین نے ریاستی منصوبہ بندی کے تحت مصنوعی ذہانت، اسمارٹ شہروں،فائیو۔جی نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ وہ صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں، اس کا عالمی رہنما بن سکے۔ روس نے اس مقابلے میں نسبتاً مختلف حکمتِ عملی اختیار کی۔

اس نے روایتی فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی جنگ اور سائبر آپریشنز کو قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا اہم حصّہ بنایا۔ اور گزشتہ برسوں میں دنیا نے دیکھا کہ سائبر حملے، جعلی اکاؤنٹس، بوٹس، منظّم معلوماتی مہمات اور آن لائن پراپیگنڈے کس طرح عالمی سیاست کا مستقل موضوع بن گئے ہیں۔

اب دشمن کو کم زور کرنے کے لیے میزائل چلانا ضروری نہیں، بعض اوقات اس کے معاشرے میں بے یقینی، انتشار اور عدم اعتماد پیدا کرنا بھی ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ روس، یوکرین جنگ نےبھی اس حقیقت کو پوری دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا کہ یہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جارہی، سوشل میڈیا، سیٹیلائٹ تصاویر، آن لائن ویڈیوز، ڈیجیٹل سفارت کاری اور عالمی میڈیا کے ذریعے بھی جاری ہے۔ اسی طرح غزہ جنگ نے بھی واضح کیا کہ آج ایک تصویر، ایک مختصر ویڈیو یا براہِ راست نشریات دنیا بھر میں عوامی ردِّعمل، سفارتی دباؤ اور سیاسی مباحث کو متاثر کر سکتی ہیں۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اطلاعاتی برتری اب روایتی عسکری برتری جتنی اہم ہو چکی ہے۔ اسی لیے کئی ممالک نے سائبر کمانڈز، ڈیجیٹل سلامتی کے ادارے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام قائم کیے ہیں۔ اب مستقبل کی جنگیں صرف زمین، فضا یا سمندر میں نہیں، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، سیٹیلائٹ نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور عوامی رائے کے محاذ پر بھی لڑی جائیں گی۔

جب کہ پاکستان کے لیے اس بدلتی دنیا میں کئی اہم اسباق موجود ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ ڈیجیٹل خودمختاری (Digital Sovereignty) کو صرف ایک تیکنیکی اصطلاح سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی کے تصوّر کا حصّہ بنایا جائے۔ ملک میں ڈیٹا گورنینس، سائبر سیکیوریٹی، مصنوعی ذہانت، تحقیق اور مقامی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر پر سنجیدہ سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم صرف بیرونی پلیٹ فارمز کے صارف بنے رہے اور اپنی تحقیق، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی پر توجّہ نہ دی، تو مستقبل کی معلوماتی معیشت میں ہمارا کردار محدود رہ جائے گا۔

دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی کو تعلیمی نظام کا بنیادی جزو بنایا جائے۔ نوجوانوں کو صرف کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت کے استعمال کے علاوہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ معلومات کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے، جعلی خبروں کی شناخت کیسے ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل دنیا میں ذمّے دار شہری کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ آنے والے برسوں میں یہ مہارتیں اتنی ہی ضروری ہوں گی، جتنی کبھی پڑھنا اور لکھنا تھیں۔

صحافت، جامعات، تحقیقی اداروں اور پالیسی سازوں کو بھی اپنی ذمّے داریوں کا ازسرِنو تعین کرنا ہوگا۔ دنیا اس وقت’’Attention Economy‘‘ (توجّہ کی معیشت) میں داخل ہوچکی ہے، جہاں سب سے قیمتی چیز انسان کی توجّہ ہے۔ جو ادارہ یا ریاست عوام کی توجّہ اور اعتماد حاصل کرلے گی، وہ اپنے بیانیے کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرسکے گی۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی درآمد کرنے والی ریاست نہیں، بلکہ علم پیدا کرنے والی ریاست بننے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

کیوں کہ اکیسویں صدی میں حقیقی خودمختاری صرف سرحدوں کے تحفّظ سے نہیں، معلومات، تحقیق، اختراع اور قومی بیانیے کی مضبوطی سے حاصل ہوگی۔آج مصنوعی ذہانت نے اس پوری بحث کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں مستقبل کے امکانات اور خدشات ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اے۔آئی صحت، تعلیم، معیشت، زراعت اور تحقیق میں غیر معمولی انقلابات لا سکتی ہے، تو یہی ٹیکنالوجی غلط معلومات، ڈیپ فیک، خودکار پراپیگنڈے اور نفسیاتی اثراندازی کو بھی پہلے سے کہیں زیادہ طاقت وَر بنا سکتی ہے۔

اس لیے مسئلہ صرف مصنوعی ذہانت کا وجود نہیں، اس کے استعمال،نگرانی اور اخلاقی سمت کا بھی ہے۔ آج دنیا کے کئی ممالک اے۔ آئی گورنینس، ڈیجیٹل حقوق اور ڈیٹا کے تحفّظ کے لیے نئے قوانین وضع کر رہے ہیں، انہیں احساس ہے کہ اگر معلومات کے بہاؤ، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر غیر منظّم چھوڑ دیا گیا، تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہیں گے، جمہوریت، معیشت، قومی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی تک بھی پہنچیں گے۔

اسی لیے مستقبل کی سب سے اہم بحث شاید یہ نہیں ہوگی کہ مصنوعی ذہانت کتنی طاقت وَر ہے، بلکہ یہ ہوگی کہ اس طاقت کو کس اصول، قانون اور اخلاقی دائرے میں استعمال کیا جائے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کُن ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی میں، تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل رسائی اور ٹیکنالوجی سیکھنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، لیکن اگر ہم محض نئی ایپس استعمال کرنے یا درآمد شدہ ٹیکنالوجی ہی پر انحصار کرتے رہے، تو ہم اس دوڑ میں دوسروں سے پیچھے ہی رہیں گے۔

نیز، صحافت کی ذمّے داری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ خبر سب سے پہلے دینے کی دوڑ میں اگر تحقیق، تصدیق اور سیاق و سباق قربان ہو جائیں، تو میڈیا خود بیانیوں کی جنگ کا ہتھیار بن سکتا ہے اور یہی اصول عام شہری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آج ہر شخص صرف معلومات کا صارف نہیں، معلومات کا ناشر بھی ہے۔ ایک غیر مصدقہ پیغام آگے بھیجنا، ایک جعلی ویڈیو شیئر کرنا یا بغیر تحقیق کسی دعوے پر یقین کر لینا محض ذاتی عمل نہیں، اجتماعی شعور کو متاثر کرنے والا عمل بن چکا ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل دور میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) بھی قومی اثاثہ ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید