ماہم جان، کوٹ غلام محمّد
بلاشُبہ انگریزی زبان دَورِحاضر کی ضرورت ہے مگر ہماری قومی اور مادری زبان ہی ہماری تہذیب، شناخت اور جذبات کی اصل ترجمان ہے۔ انسان اپنی مادری زبان میں نہ صرف بہتر انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے بلکہ اپنے جذبات و روایات کو بھی محفوظ رکھتا ہے لیکن افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ آج ہم پر انگریزی زبان کا خبط اس حد تک سوار ہو چُکا ہے کہ ہم اپنی مادری زبان میں بات چیت کرتے ہوئے شرم اور غیروں کی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یوں ہم زیادہ تعلیم یافتہ، قابل اورمہذّب نظر آئیں گے۔ یاد رہے، یہ سوچ نہ صرف ہماری ثقافتی شناخت کو کم زور بلکہ ہماری نئی نسل کو اپنی جڑوں سے بھی دُور کر رہی ہے۔
اِن دنوں لوگ اپنی روزمرّہ گفتگو کے دوران انگریزی الفاظ کا استعمال اپنی شان میں اضافے کا سبب سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ چاہے لوگوں کو انگریزی آتی ہو یا نہ آتی ہو، اُردو بولنا انہوں نےاپنے وقار کے خلاف سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے میں خالص اردو نایاب ہوگئی ہے۔ ہم نے اُردو اور انگریزی کا ایک ایسا عجیب وغریب ملغوبا تیار کرلیا ہے کہ جسے سُن کر ماہرینِ لسانیات بھی سَر پکڑ کربیٹھ جائیں۔
مثلاً اب کوئی بات چیت کا آغاز کرتے یہ نہیں کہتا کہ ’’مَیں سوچ رہا تھا‘‘ بلکہ کہا جاتا ہے۔ ’’آئی واز تِھنکنگ…‘‘ آج مائیں اپنے بچّوں سے اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ ’’بیٹا! تھینک یو بولو۔‘‘ جب کہ ’’شکریہ‘‘ کہنے پر یوں منہ بنایا جاتا ہے، جیسے بچّے نے کوئی گالی دے دی ہو۔ اِسی طرح بازار میں خریداری کرتے سبزی فروش سے کہا جاتا ہے کہ ’’بھیّا! تھوڑی سی چلیز(مرچیں) اور ایک لیمن (لیموں) بھی ایڈ کر دینا۔‘‘ ہمیں اچّھی طرح یاد ہے، ایک مرتبہ ہمارے گھر مہمان آئے، تو دورانِ گفتگوروزمرّہ استعمال کی اشیاء کا ذکرچِھڑا تو ایک مہمان خاتون بولیں۔’’ہم تو پاؤڈر مِلک اور پیکڈ یوگرٹ استعمال کرتے ہیں، ہمارے بچّے فریش کائو مِلک اورتازہ یوگرٹ بالکل لائیک نہیں کرتے‘‘ پھر کچھ دیر بعد کہنے لگیں ’’آپ کاڈرائنگ رُوم کتناویل ڈیکوریٹڈ ہے۔
کرٹنز کی میچنگ تو بڑی ہی اوسم ہے۔‘‘ اِسی طرح ’’آج کیا پکایا ہے؟‘‘ کے جواب میں بھی ایسے ایسے کھانوں کے نام بتائے جاتے ہیں کہ آدھے تیتر، آدھے بٹیر ہی کا گمان ہوتا ہے۔ آج طاہری،’’پوٹیٹو رائس‘‘ بن چُکی ہے۔ آلو گوشت،’’ مٹن آلو‘‘ یا ’’چکن آلو‘‘ ہے۔ فرائیڈ رائس، چکن بریانی، مٹن بریانی، فرینچ فرائیز، فرینچ ٹوسٹ، چکن جلفریزی، چکن سُوپ، بون لیس کڑاہی، اسٹیک، ڈرم اسٹکس، بیف برگرز وغیرہ سب انتہائی مستعمل ہیں۔
واضح رہے، یہ جدیدیت نہیں، فکری پس ماندگی کی انتہا ہے کہ اصل قابلیت اپنے خیالات کو اچّھے انداز سے پیش کرنے میں پوشیدہ ہے۔ دوسری جانب آج اسکولوں اور دفاتر میں انگریزی زبان کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے کہ اردو اور علاقائی زبانیں بولنے والے افراد خود کو کم ترمحسوس کرنے لگتے ہیں اور یہ انگریزی زبان بولنے کا جنون سب سے زیادہ ہماری نئی نسل میں پایا جاتا ہے۔
اب بچّے اپنی مادری زبان اور اُردو بولنے میں شرم محسوس کرنےلگے ہیں، جب کہ نجی تعلیمی اداروں میں تو انگریزی کو ایک ’’برانڈ‘‘ بنا کر فروخت کیا جاتا ہے، جہاں اردو یا علاقائی زبانوں میں بات کرنے پر جُرمانے تک عاید ہوتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچّے انگریزی پر مکمل عبورحاصل کرپاتے ہیں اورنہ ہی اپنی قومی و مادری زبانوں کے فطری حُسن سے رُوشناس ہوتےہیں۔
اردو ہماری قومی زبان ہے، جب کہ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانیں ہماری ثقافتی میراث ہیں۔ شیکسپیئر کا قول ہے کہ ’’جو قومیں اپنی ثقافت بدلتی ہیں، اُن کے جغرافیے بدل جاتے ہیں۔‘‘ یاد رہے، زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ اقوام کی رُوح ہوتی ہے۔ جاپان، چین اور جرمنی نے اپنی مادری زبان کو گلے لگایا اور دُنیا پر راج کیا لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ افسر شاہی کی فائلوں سے لےکر عدالت کے فیصلوں تک سب کچھ اسی زبان میں ہوتا ہے کہ جسے مُلک کے 90 فی صد عوام سمجھ ہی نہیں پاتے۔
ہم جسمانی طور پر تو 1947ء میں آزاد ہوگئے تھے لیکن ذہنی طور پر آج بھی ’’گورے صاحب‘‘ کے دربار میں سَر جُھکائے کھڑے ہیں۔ یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ کوئی بھی زبان سیکھنا یا علم حاصل کرنا بُری بات نہیں، لیکن علم حاصل کرنے اور کسی زبان کا سَر پر خبط سوار کرنے میں بڑا فرق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ انگریزی ضرور سیکھیں مگر اپنی قومی اور علاقائی زبانوں کی ناقدری بھی ہرگز نہ کریں۔