• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر چند کہ آج کل دُنیا بَھر میں نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements) یا آرای اِیز کا شُہرہ ہے مگر بیش تر لوگ ان عناصر سے متعلق زیادہ علم نہیں رکھتے۔ تاہم، ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں، جو ان دِنوں ساری دُنیا کی توجّہ اپنی جانب مبذول کروا رہے ہیں۔

دراصل، یہ نایاب ارضی عناصر ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے 17کیمیائی عناصر کا مجموعہ ہیں، جو زمین کی پرت میں نمایاں ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی، صنعت اور توانائی کےشعبوں میں اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان میں سے 15عناصر لینتھینائیڈ سیریز (لینتھینم، سیریم وغیرہ) کے علاوہ اسکینڈیم (Sc) اور ایٹریم (Y) پر مشتمل ہیں اور زمین میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم، کان کنی کے ذریعے ان کا حصول اور صفائی ایک انتہائی پیچیدہ اور منہگا عمل ہے۔

جدید دُنیا میں اسمارٹ فونز، برقی گاڑیوں اور وِنڈ ٹربائنز سے لے کر میزائل گائیڈینس سسٹمز، دفاعی صنعت کے دیگر شعبوں اور خلائی تحقیق تک میں ان نایاب ارضی عناصر کا استعمال ناگزیر ہو چُکا ہے اور ان کی طلب میں ہر سال قابلِ ذکر حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب آر ای اِیز کی بڑھتی ہوئی مانگ نےعالمی طاقتوں میں جاری سیاسی کشمکش بھی بڑھا دی ہے۔ چین اس وقت نایاب ارضی عناصر کی 80 سے 90 فی صد ری فائننگ پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے، جب کہ لیتھیم، کوبالٹ اور نِکل کی سپلائی چینز کا بڑا حصّہ بھی اسی کے پاس ہے اور اسی وجہ سے اب امریکا، یورپ اور دوسرے ممالک متبادل ذرائع تلاش کررہے ہیں۔

گرچہ چین آر ای اِیز کےبڑے ذخائر کا مالک ہے، ریفائننگ کا مکمل کنٹرول بھی اس کے پاس ہے، لیکن یاد رہے، ویت نام، برازیل، رُوس، بھارت، آسٹریلیا، امریکا، گرین لینڈ اور جنوبی افریقا میں بھی ان کے قابلِ ذکر ذخائر پائے جاتے ہیں، جب کہ جہاں تک پاکستان کی بات ہے، تو ایک سائنٹیفک سروے میں یہاں بنیادی طور پر لائٹ آرای اِیز (لینتھینم، سیریم، نیوڈیمیئم اور پراسیوڈیمیئم) کی موجودگی ثابت شدہ ہے۔

اس ضمن میں پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے گئے جیولوجیکل سرویز میں پاکستان میں لینتھینم، سیریم، نیوڈیمیئم اور پراسیوڈیمیئم جیسے ہلکے نایاب ارضی عناصرکی وافر مقدار میں موجودگی کی نشان دہی کی گئی، جو عموماً کیٹالٹک کنورٹرز اور مقناطیس بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستان کے جن علاقوں میں آر ای اِیز کی موجودگی کی نشان دہی ہوئی، ان میں صوبۂ خیبرپختون خوا میں مانسہرہ سے لے کرپاک، افغان سرحد تک تقریباً 200کلومیٹر پر پھیلے 8اسٹرٹیجک مقامات شامل ہیں، جب کہ تربیلا، سوات اور بونیر میں بھی ان کی موجودگی کے شواہد ملےہیں۔ نیز، دِیر اور کوہستان کے علاقے بھی نایاب ارضی عناصر سے مالامال گرینائٹس اور متغیرہ چٹانوں پر مشتمل ہیں۔

مزید برآں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بالتّرتیب اسکردو، چلاس اور نیلم ویلی میں لائٹ آر ای اِیز کی موجودگی جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے مطالعات اور چین کے ساتھ مشترکہ جیوکیمیکل سرویز سے تصدیق شدہ ہے، جب کہ ہمالیائی، قراقرم اور کوہستان بیلٹس میں بھی ان نایاب عناصر کا زیادہ ارتکاز پایا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان میں چاغی میں تھوریم اور یورینیم سے بھرپور گرینیٹک اور پیگمیٹائٹ کمپلیکسز، نیز مکران و بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مونازائٹ کی موجودگی بھی نوٹ کی گئی ہے۔ پوٹھوہار، پنجاب میں سطحِ مرتفع میں دریا کے کنارے پر مونازائٹ سے بھرپور ذخائر اور سندھ میں تھر کے کوئلے کی راکھ کو لینتھینم اور سیریم نکالنے کے لیے جانچا جا رہا ہے، مگر ابھی تک یہ سرویز ابتدائی سطح پر ہیں، تاحال عالمی معیار کے تصدیق شدہ ذخائر مشاہدے میں نہیں آئے۔

آزاد تخمینوں کےمطابق پاکستان میں نایاب ارضی عناصرکا مجموعی حجم ایک لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جب کہ یو ایس جی ایس کے مطابق 2020-21ءمیں پاکستان میں آر ای اِیز کی پیداوارصفر رہی۔ اسی طرح ثابت شدہ نایاب ارضی عناصر کے ذخائر ابھی تک بین الاقوامی معیار کی کان کنی کے حوالے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اس لیے پاکستان میں آر ای اِیز کے 6 ٹریلین ڈالرز یا 50 ٹریلین ڈالرز مالیت کے ذخائر کی موجودگی کے سرکاری دعووں کو تصدیق شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان میں آرای اِیز سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے ضمن میں فوری اور طویل المدّتی حکمتِ عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ابتدا میں فوری طور پر خام مال کی برآمد سے آغاز کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں آسانی سے دست یاب معدنیات جیسا کہ اینٹی مونی، کاپر کنسنٹریٹس اور بنیادی نایاب ارضی خام مال برآمد کر کے آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے، یہ عمل کافی حد تک پہلے ہی شروع کیا جا چُکا ہے اور اکتوبر 2025ء میں پاکستان نے نایاب ارضی عناصر کی پہلی کھیپ برآمد بھی کی تھی، جس میں نیوڈیمیئم اور پراسیوڈیمیئم شامل تھے۔ اِسی کے ساتھ ہمارے مُلک میں کان کنی سے متعلق جدید قوانین بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

نیز، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کےاعتماد میں اضافے کے لیے واضح لائسینسنگ اور رائلٹی نظام، سکیوریٹی کی ضمانت، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے متاثرہ علاقوں میں کان کنی منصوبوں کے تحفّظ کا خاص اور جدید انتظام اور بین الاقوامی معیار کی جیولوجیکل میپنگ وغیرہ لازمی ہونی چاہیے تاکہ آر ای اِیز کے ذخائر کے حقیقی اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار سامنے آسکیں۔

اس حوالے سے طویل المدّتی اقدامات بھی، جو کم ازکم 5 سے 10 سال کی مدّت پر محیط ہوں، سُود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں مقامی سطح پر ری فائننگ کی صلاحیت پیدا کرنا قابلِ ذکر ہےکہ فی الحال پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر نایاب عناصر کی ری فائننگ کی سہولت موجود نہیں۔

یاد رہے، خام مال کی بجائے ری فائنڈ آکسائیڈز اور دھاتوں کی فروخت کہیں زیادہ منافع بخش ثابت ہوگی۔ صنعتی ماہرین کے مطابق پاکستان کو معاشی لحاظ سے فائدہ مند پراسیسنگ کی صلاحیت کے حصول میں 5 سے 7 سال لگ سکتے ہیں، کیوں کہ ملائیشیا میں لائناس فسیلیٹی کی تعمیر میں تقریباً 5 سال لگے تھے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی منتقل کیے جانے کے معاہدے بھی کیے جاسکتے ہیں۔

یعنی امریکا، آسٹریلیا اور دیگر شراکت دار ممالک سے صرف برآمدات ہی نہیں، ری فائننگ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی شرط عائد کرکے فوائد حاصل کیے جائیں۔ علاوہ ازیں، آر ای اِیز کی مدد سے مقامی سطح پر مقناطیس، بیٹری کے اجزاء یا برقی آلات کے پرُزے تیار کیے جائیں تاکہ خام مال برآمد کرنے کی بجائے تیار مصنوعات ایکسپورٹ کر کے بیش بہا منافع حاصل کیا جا سکے۔

آر ای اِیز سے فائدہ اُٹھانے کےلیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بھی ضروری ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق معدنیات کے ضمن میں ایک وفاقی اتھارٹی کی تشکیل کی تجویز بھی زیرِغور ہے، جس پر صوبائی سطح پر مزاحمت کا قوی امکان ہے۔ لہٰذا، اس مسئلے کا منصفانہ اور جامع حل نکالنا بھی ضروری ہے۔

علاہ ازیں، نایاب ارضی عناصرکی تلاش پر مختلف ماحولیاتی و سماجی تنظیموں کے اعتراضات دُور کرنے کے لیے مضبوط ریگولیٹری میکنزم اور منصفانہ معاہدوں کی موجودگی بھی لازمی اَمر ہے تاکہ مقامی آبادی کےحقوق اور ماحول محفوظ رہے۔ مزید برآں، متنوّع شراکت داری پر غور و خوض کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ صرف امریکا یا چین پر انحصار نہ کرنا پڑے جب کہ بالخصوص چین کی اجارہ داری کے اثرات سے بچنے کے لیے متعدد شراکت داروں کے ساتھ متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا بھی سُود مند ثابت ہوگا۔

دوسری جانب وفاقی و صوبائی حکومتیں، ماہرین اور سرمایہ کار مل کر ایک شفّاف، مستحکم اور سرمایہ کار دوست قانونی فریم ورک تشکیل دیں کہ جو رائلٹی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے اور اس ضمن میں ریکوڈِک جیسے منصوبوں سے سبق حاصل کیا جائے۔ سطحی جیو کیمیکل سروے پر انحصار کی بجائے جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) اور متعلقہ تعلیمی ادارے مل کر بین الاقوامی معیار کی حامل تفصیلی ایکسپلوریشن اور ڈرلنگ کروائیں تاکہ آر ای اِیز کے ذخائر کے حقیقی اعداد و شمار سامنے آسکیں۔

نجی شعبے، ایف ڈبلیو او جیسے ادارے اور دیگر بین الاقوامی کان کنی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز کیے جائیں، جن میں ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی بھی شامل ہو۔ انجینئرز اور ماہرینِ صنعت پراسیسنگ اور مینوفیکچرنگ انجینئرنگ کی مہارت کے ساتھ ری فائننگ اور ویلیو ایڈیشن پلانٹس کے لیے مقامی افرادی قوّت کی تیاری میں کردار ادا کریں جب کہ مقامی کمیونیٹیز کان کنی منصوبوں میں شفافیت اور ثمرات کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کریں تاکہ سابقہ تنازعات نہ دُہرائے جائیں۔

قصّہ مختصر، پاکستان میں نایاب ارضی عناصر کی موجودگی کے شواہد تو موجود ہیں لیکن فی الوقت اس ضمن میں حتمی اعداد و شمار پیش نہیں کیے جا سکتے، جب کہ حقیقی معاشی فائدہ صرف خام مال کی فروخت سے نہیں، تصدیق شدہ ذخائر، ری فائننگ کی مقامی صلاحیت، شفّاف گورنینس اور بہتر سیکیوریٹی ہی سے ممکن ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز کو اس شعبے میں بھی ترقّی و خوش حالی نصیب فرمائے۔ آمین۔

(مضمون نگار، جامعہ اردو، کراچی کے شعبۂ ارضیات کی سابق چیئرپرسن ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید