فیٹی لیور جدید دَور کی ایک ایسی بیماری ہے، جو تشویش ناک رفتار سے بڑھ رہی ہے، جب کہ مغربی ممالک میں تو اس نے وبائی صُورت اختیار کر لی ہے۔ اِس بیماری سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو اب پہلے سے زیادہ تسلیم کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عام افراد میں جگر کی صحت سے متعلق آگاہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی اِس بیماری کی بروقت تشخیص، مؤثر روک تھام اور مناسب علاج کی اہمیت بھی زیادہ اجاگر ہوئی ہے۔
فیٹی لیور میں بنیادی مسئلہ جگر میں چربی کے جمع ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جائے، تو یہ سوزش، جگر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ، طویل مدّت کی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے، جو بعض صُورتوں میں اِس قدر شدید ہو جاتی ہیں کہ مریض کو جگر کی پیوند کاری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ تاہم، خوش آئند امر یہ ہے کہ اِس بیماری سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔
فیٹی لیور کی دو بنیادی اقسام ہیں۔(1) میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیاٹوٹک لیور ڈیزیز (MASLD)، یہ عموماً ایسے افراد میں ہوتی ہے، جو شراب نوشی نہیں کرتے۔
اس کی بنیادی وجوہ میں غیر صحت بخش غذائی عادات، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا، بلند فشارِ خون، ٹائپ ٹو ذیابطیس اور دیگر میٹابولک عوامل شامل ہیں۔(2)دوسری قسم الکحل سے وابستہ جگر کی بیماری (Alcohol-Associated Liver Disease, ALD) ہے، جو طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں شراب نوشی سے پیدا ہوتی ہے۔ الکحل کے ٹوٹنے کے دوران بننے والے زہریلے اجزا (Toxic Metabolites) جگر کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں جگر کی سوزش، خرابی اور دیگر سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ بیماری ایک خاموش قاتل سمجھی جاتی ہے، کیوں کہ ابتدائی مراحل میں عموماً اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ زیادہ تر مریضوں میں اس کی تشخیص اتفاقاً کسی اور طبّی معائنے یا ٹیسٹ کے دَوران ہوتی ہے۔
اگر علامات موجود ہوں بھی، تب بھی وہ عموماً غیر مخصوص (Non-specific) ہوتی ہیں، جیسے: ٭مسلسل تھکن یا جسمانی کم زوری محسوس ہونا٭دائیں اوپری پیٹ میں ہلکا یا مدھم درد٭عمومی کم زوری٭بغیر کسی واضح وجہ کے وزن میں کمی۔
خطرے کے عوامل
طرزِ زندگی سے متعلق عوامل: فیٹی لیور کے خطرے میں اضافہ بعض عادات اور طبّی حالات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ غیر متحرّک طرزِ زندگی:جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور باقاعدہ ورزش نہ کرنا۔موٹاپا:وزن میں اضافے، خصوصاً پیٹ کے گرد چربی بڑھنے سے جگر میں چربی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابطیس:انسولین مزاحمت(Insulin Resistance) کی وجہ سے جگر میں چربی جمع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ خون میں چکنائی کی زیادتی: کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی بلند سطح بھی فیٹی لیور کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔
غذائی عوامل: غیر صحت بخش غذائی عادات بھی فیٹی لیور کی بیماری کی ایک اہم وجہ ہیں۔ جیسے٭ری فائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا زیادہ استعمال٭میٹھے مشروبات کا کثرت سے استعمال٭پراسیسڈ، خاص طور پر زیادہ تلی ہوئی غذاؤں کا زیادہ استعمال۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ اگر اِس بیماری کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہو جائے، تو یہ بڑی حد تک قابلِ علاج اور قابلِ واپسی (Reversible) ہے۔ اس کے علاج کا سب سے اہم اور مؤثر طریقہ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا ہے، جیسے: ٭جسمانی سرگرمی میں اضافہ ٭متوازن اور صحت بخش غذا٭بحیرۂ روم کی غذا (Mediterranean Diet) اپنانا، جس میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، زیتون کا تیل، خشک میوہ جات اور دیگر نباتاتی غذائیں شامل ہوتی ہیں۔٭اضافی چینی (Added Sugars) اور ہائی فروکٹوز کارن سیرپ (High-Fructose Corn Syrup) والی غذاؤں اور مشروبات کا استعمال کم کرنا۔
اگر اِن ہدایات پر باقاعدگی سے عمل کر لیا جائے، تو جگر میں چربی کم، اُس کی کارکردگی بہتر اور بیماری کے مزید بڑھنے کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے٭ شراب نوشی سے مکمل پرہیز کریں، کیوں کہ یہ جگر کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے ٭بنیادی بیماریوں کا مناسب علاج اور کنٹرول ضروری ہے، جیسے: ٭ذیابطیس ٭خون میں چکنائی کی زیادتی ٭ہاشیموٹو تھائی رائڈائٹس (Hashimoto's Thyroiditis)٭وزن میں کمی، فیٹی لیور کے علاج کا ایک اہم حصّہ ہے۔ اگر وزن میں تقریباً 7 سے 10 فی صد کمی کر لی جائے، تو جگر میں جمع شدہ چربی نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔
(مضمون نگار، کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرولوجسٹ ہیں اور امجد میڈیکل سینٹر، کراچی سے وابستہ ہیں)