ہند و پاک کے دیوبندی علمائے کرام میں سے میدان سیاست میں سب سے بڑا نام ، کام اور مقام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃُ اللّٰہ علیہ کا ہی ہے جن کے ذکر کے بغیر برصغیر کا باب سیاست مکمل نہیں ہوتا، مفتی جی مرحوم نے فتنہ قادیانیت کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کے فرزند ارجمند اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن عصر حاضر میں سینئر ترین اور تجربہ کار سیاسی رہنما کے طور پہ جانے جاتے ہیں ۔
مولانا موصوف پاکستان کی سیاست حاضرہ میں خود کو مکتب ہائے فکر دیوبند، علمائے دیوبند، الغرض دارالعلوم دیوبند کا وارث نہ صرف سمجھتے اور جانتے ہیں بلکہ گردانتے بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ حضرت مدظلہ کبھی کبھار پختون پتے پھینکتے بھی پائے گئے ہیں ۔ گزشتہ دنوں قصور کے علاقہ پھول نگر میں تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں کہ’’ ملک میں عوامی مینڈیٹ، آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے جبکہ مہنگائی ، بدامنی اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی ہی اجیرن بنا دی ہے ، انتخابی عمل میں دھاندلی کے باعث عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے ، ٹیکسوں کے بوجھ کے باوجود عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ انتخابی عمل میں دھاندلی کے باعث عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے ، اسی لیے موجودہ حکومت کو عوامی تائید حاصل نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کے رویوں میں تبدیلی کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں ، جے یو آئی کسانوں ، مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑے گی اور کسی بھی طاقتور طبقے کو عام آدمی کے استحصال کی اجازت کبھی بھی نہیں دے گی ، بیرونی دباؤ اور مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی ‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا فرض عوامی حقوق کا تحفظ ہے ۔
جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن ہمیشہ سے ہی ہر اتحادی حکومت کا حصہ ہوتے تھے مگر اس بار وہ پیچھے رہ گئے ہیں ، انھیں گہرا صدمہ ہے شاید اسی وجہ سے اس مرتبہ یہ ایسے بیانات دے رہے ہیں ۔میری رائے میں مولانا فضل الرحمن کو ایسی باتیں کرنے کا حق اس لیے بھی نہیں ہے کیونکہ یہ رجیم چینج کے وقت اسی سسٹم کے ساتھ ہی کھڑے تھے جس کو آج یہ للکار رہے ہیں ، ویسے اس کی کوئی لاجک تو سمجھ میں نہیں آ رہی ہے ۔ شہدائے وطن کے حوالے سے نازیبا باتیں کر کے اور تنخواہیں لینے کے طعنے دے کر مولانا فضل الرحمن صاحب نے اہل پاکستان کا دل دکھایا ہے ۔ ملک و قوم کی سلامتی کی خاطر جانیں قربان کرنے والے دیش دھرتی کی جان ہوتے ہیں اور مان ہوتے ہیں ، شہید ہی تو ممالک و اقوام کی آن بان شان ہوتے ہیں ۔ شہادت کبھی مرتی ہے نہ مٹتی ہے اور کبھی مردہ مت کہو شہید تو زندہ ہوتے ہیں ۔
آپ سب سُنیں ایک فوجی کی ماں ، بہن اور بیٹی کی یہ صدائے حق جو دلوں پہ دستک دیتی ہے اور دعوت فکر بھی دیتی ہے اپنے وطن سے پیار ، وفا اور حُب الوطنی کی ۔ پاکستان تحریک انصاف کی سابق ایم پی اے ( پنجاب اسمبلی ) محترمہ سبرینہ جاوید صاحبہ فرماتی ہیں کہ ’’مولانا صاحب! آپ کا حالیہ بیان سنا، سچ پوچھیں تو گہرا افسوس اور دلی دکھ ہوا ہے ، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، حکومتوں سے اختلاف بھی ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ، مگر پاک فوج کے شہداء کے بارے میں آپ کے الفاظ سن کر دل بڑا ہی بے چین ہے ، میں ایک فوجی افسر کی بیٹی ، ایک فوجی افسر کی بہو ، ایک فوجی افسر کی بیوی اور ایک حاضر سروس فوجی افسر کی ماں بھی ہوں ، مولانا صاحب! آپ سیاستدان ہیں مگر خدارا، اپنے سیاسی مفادات کی جنگ میں ہمارے شہداء کو مت لائیے ، صرف چوبیس گھنٹوں کے لیے اپنے کسی ایک بیٹے کو کسی حساس سرحد یا خطرناک محاذ پر بھیج کر دیکھیے ۔ شاید تب آپ بھی یہ محسوس کر سکیں کہ ایک فوجی کی ماں اور اس کے گھر والوں پر کیا گزرتی ہے ، ذرا ان ماؤں کے بارے میں سوچئے جن کے جوان بیٹے واپس تو آتے ہیں ، مگر قومی پرچم میں لپٹے ہوئے آتے ہیں ۔ آپ کے بچے سیکورٹی کے حصار میں ہوں گے ، مگر سرحدوں ، پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں میں کھڑے جوان بھی کسی کی اولاد ہیں ۔ ان کی مائیں بھی راتوں کو جاگتی ہیں اور ان کے بچے بھی اپنے باپ کا انتظار کرتے ہیں ، مولانا صاحب آپ بزرگ ہیں اور ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں ۔ اسی لیے آپ کے منہ سے ایسے الفاظ اور بھی زیادہ تکلیف دیتے ہیں ، اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ کے اس بیان کے پیچھے کیا سیاسی مصلحت یا مقصد ہے ۔ سیاست کیجیے، بھرپور اختلاف کیجیے ، مگر ان ماؤں کے زخم نہ چھیڑیے جنہوں نے پاکستان کو اپنے بیٹے دیے ہیں ، میں آپ سے صرف اتنا کہوں گی ، آئندہ بولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے کسی شہید کی ماں کے دل کو سامنے رکھ لیجیے گا ، شاید الفاظ خود رک جائیں ‘‘۔