میری یادوں کے نہاں خانےسے ’’ایک خیمہ اسکول‘‘ کی تصویر ابھر رہی ہے۔ خیمہ اسکول قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں (غالباً 1951یا 1952ء) میں کراچی کے اس علاقے میں قائم کیا گیا جسے آج لیاقت آباد کہا جاتا ہے۔ قبل ازیں کھیت اور زرعی زمینوں کے حوالے سے اسے ’’لالو کھیت‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ سال 1947ء میں برصغیر ہندوستان کی تقسیم اور دو نئی مملکتوں بھارت اور پاکستان کے قیام کے بعد مسلم کش فسادات نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کو جنم دیا تو مشرقی پاکستان سمیت مملکت پاکستان کے تمام صوبوں اور شہروں نے لٹے پٹے افراد کیلئے اپنا دامن محبت وا کر دیا۔ کراچی جو اس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا ، مہاجرین کی سب سے بڑی آماج گاہ بن گیا۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں انہیں کھپانے کے بعد بھی آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا تو انتظامیہ نے شہر میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ تین ہٹی کی پرانی شہری سرحد سے آگے لیاری ندی کے پار واقع وسیع زمین پر اچانک ایک نگر ابھر آیا جہاں صرف جھونپڑیاں اور جھگیاں نظر آرہی تھیں۔ سر چھپانے کیلئے ہر خاندان کو چٹائیوں کی رہائش گاہ مل رہی تھی جبکہ مساجد سے لے کر اسپتال اور سرکاری دفاتر تک جھونپڑوں یا نامکمل عمارتوں میں قائم تھے۔ اسی جھونپڑ بستی میں ڈاک خانے سے گجر نالے کے درمیانی میدان میں ایک وسیع خیمہ دور سے ہی نظر آتا تھا۔ یہ خیمہ اور اس کے قریب واقع نامکمل مکان گورنمنٹ پرائمری اسکول کا عارضی کیمپس (Campus) قرار دیا جا سکتا ہے۔ خیمے کے مختلف کونوں میں واقع پہلی کلاس کے مختلف سیکشنوں (غالباً کچی اور پکی پہلی) میں اساتذہ بلیک بورڈ اور امدادی سامان کی مدد سے پڑھاتے نظر آتے تھے۔ قریبی نامکمل عمارت کا وسیع برآمدہ دوسری کلاس کے طور پر استعمال ہوتا تھا جبکہ دو ملحقہ کمرے آفس اور اسٹور کا تاثر دیتے تھے۔ باہر لگے ایک نل پر تختیاں دھو کر ملتانی مٹی کا لیپ کیا جاتا اور دھوپ میں سوکھنے کے بعد ان تختیوں پر سرکنڈے کے قلم سے لکھنے کی مشق کرائی جاتی جبکہ چھوٹی کاپیوں پر املا کرایا جاتا تھا۔ ریاضی کے سوالات حل کرنے اور لکھائی پڑھائی کیلئےزیادہ تر سلیٹ استعمال کی جاتی تھی۔ ایک خاص اہتمام یہ کیا جاتا کہ رات کو بالٹی میں چنے بھگو دیئے جاتے اور اگلے دن تاکید سے بچوں کو کھلائے جاتے تھے۔اس ’’تناول ماحضر‘‘ میں اساتذہ سمیت پورا عملہ بھی شامل ہوتا تھا۔ غالباً ایسا ہی عارضی انتظام کسی اور مقام پر پانچویں اور اس سے بڑی کلاسوں کی تدریس کیلئے کیا گیا تھا۔بعد میں جھونپڑ بستی سے آگے ایک کمرے، واش روم اورچہار دیواری پر مشتمل کوارٹرز تعمیر کیے گئے جو دس بلاکوں پر مشتمل تھے۔ لہٰذا دو برس بعد لیاقت آباد بلاک نمبر’’چار‘‘ میں گورنمنٹ سیکنڈری اسکول کی نئی تعمیر کردہ عمارت میں پڑھائی کا آغاز ہوا تو وہاں نئے یا پرانے یا دونوں اقسام کے بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ کچھ عرصہ بعد گورنمنٹ پرائمری اسکول بھی ’’ڈاک خانے‘‘ کے قریب سے اٹھ کر بلاک نمبر ’’دو‘‘ لیاقت آباد میں منتقل ہو گیا جہاں پکی عمارت ، جدید فرنیچر اور کھیل کے میدان پر مشتمل چار دیواری بچوں کی منتظر تھی۔
یہ اور ان جیسے متعدد خیمہ اسکول اور بچوں کی پڑھائی کے عارضی انتظامات کراچی ہی نہیں مختلف شہروں کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں خزانہ خالی تھا۔ بھارت نے پاکستان کے حصے کی رقم اسے دینے سے انکار کردیا تھا ۔ مہاجرین کی آمد اور آبادکاری کے مسائل تھے اور ان سے بھی بڑے قومی و بین الاقوامی چیلنجوں کا نئی مملکت کو سامنا تھا۔ مگر ملک کی ابتدائی قیادت کے فیصلوں اور اقدامات کی صورت میں اس کی ترجیحات اور اہداف سامنے آ رہے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت کی قیادت انہی رہنماؤں پر مشتمل تھی جو تحریک پاکستان کا ہراول دستہ تھے اور اس کے فکری و عملی پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی پاکستان قائم ہوا متعدد اسکولوں کی تعمیر کا آغاز ہو گیا۔ خیمہ اسکولوں کے ذریعے بچوں کو درس گاہ سے وابستہ رکھنے اور ان کی مکمل شخصیت کی تعمیر و تشکیل وہ اولین ترجیح تھی جسکی خاطر اس وقت کی قیادت نے ہر طرح کی ذاتی سہولتوں کو نظر انداز کیا اور دن رات ’’کام کام اور کام‘‘ کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ خیمہ اسکول علامت ہیں اس وقت کے رہنماؤں کی اس سوچ کی کہ تعلیم کا حقیقی فروغ ہی کسی مملکت کی ترقی کی کلید ہے۔ مطمح نظر یہ تھا کہ بچوں کو اسکول تک پہنچانے اور معیاری تعلیم سے لیس کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ بعد میں اسی فکر کا تسلسل آئین پاکستان کی شق 25Aکی صورت میں نمایاں ہوا جو پانچ سے 16سال تک کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حقدار بناتی ہے۔ بعد کی کئی دہائیاں خواب خرگوش کی وہ کہانی دہراتی ہیں جسکے باعث8 مئی 2024ءکی قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ناگزیر ہو گیا۔ تعلیمی ایمرجنسی کے معنی یہ ہیں کہ اسکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کو تعلیم گاہ تک پہنچانے کیلئے زیادہ سرگرمی سے کام کیا جائے گا۔ مگر سول سروس اکیڈمی کی حال ہی میں آنے والی رپورٹ واضح لفظوں میں بتا رہی ہے کہ پاکستان ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کے بوجھ کے ساتھ اس باب میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتی اور اس کے حل کی سفارشات کرتی مذکورہ تفصیلی رپورٹ کے پہلو بہ پہلو معروف ماہر تعلیم پروفیسر فیصل باری کا مشاہدہ سادہ الفاظ میں یہ بتا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ ریاستوں کو اپنی جی ڈی پی کا کم از کم 4فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کا مشورہ دیتا ہے مگر ہم اس مد میں 1.7فیصد خرچ کرتے ہیں، وہ بھی اب ایک فیصد پر آگیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی دنوں کی طرح قائداعظم ، قائد ملت اور دیگر رہنماؤں کی مانند سادگی و بچت کے طریقے اختیار کئے جائیں اور کمترین وسائل میں بھی تعلیمی میدان میں سرمایہ کاری نظر انداز نہ کی جائے۔
خیمہ اسکول سے شروع ہونے والا یہ سفرآج ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں سوال صرف ایک اسکول کا نہیں، پوری قوم کی ترجیحات کا ہے۔ آج کا طویل عرصہ سے جاری اورمسلسل گہرا ہوتا تعلیمی بحران نمایاں کر رہا ہے اس حقیقت کو کہ ہم سے کہیں نہ کہیں اجتماعی غفلت ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خیمہ اسکول کے واقعہ کو قصہ پارینہ بنا کر نہ رکھ دیں۔ بلکہ اسے ہر بچے کے حق تعلیم کی نئی تحریک کانقطۂ آغاز، ایک قومی مشق اور ایک عملی جدوجہد کی مثال بنائیں۔