• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں اپنے کالم ’’ریاست کس کی… اشرافیہ یا غریب کی؟‘‘ میں، میں نے مری سے تعلق رکھنے والے ایک بیمار بچے کا ذکر کیا تھا جس کا مری میں مناسب علاج ممکن نہ ہو سکا۔ جب اسلام آباد میں اپنے دفتر واپس پہنچا تو ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ، محمد شفیع، کا خط موصول ہوا۔ انہوں نے اپنی بیماری اور ریاستی بے حسی کے حوالے سے جو کچھ لکھا، وہ حکمرانوں کی توجہ کے لیے اس کالم میں شامل کر رہا ہوں، تاکہ اشرافیہ کے برعکس غریب کو بھی اس ریاست کا محور بنایا جا سکے؛ یعنی وسائل، سہولتیں اور سرکاری توجہ صرف حکمرانوں اور بااثر طبقے تک محدود نہ رہیں بلکہ عام شہری کو بھی میسر آئیں۔ شفیع صاحب، جن کا تعلق ہری پور، خیبر پختونخوا سے ہے، کا یہ خط دراصل اس ملک کے کروڑوں غریب شہریوں کی وہ آہ ہے جسے سننے کے لیے شاید کوئی حکمران تیار نہیں۔ قارئین کی دلچسپی اور عوام کی یہ پکار اربابِ اختیار تک پہنچانے کے لیے، ضروری ایڈٹنگ کے بعد یہ خط اس کالم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں۔ چلنا پھرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ شوگر، گردوں کی بیماری، گھٹنوں اور جوڑوں کا درد، کمر اور پاؤں میں شدید تکلیف نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ میری عمر 79 سال سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر ریاست عوام سے ٹیکس وصول کر سکتی ہے تو پھر آئین کے آرٹیکل 38(d) کے مطابق ہر پاکستانی شہری کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر مجھے سزائے موت دے دی جائے تاکہ اس اذیت سے نجات مل سکے۔ اگر ریاست ہر طرح کے ٹیکس وصول کر سکتی ہے تو مجھے بھی ایک پاکستانی شہری تسلیم کرتے ہوئے، ملک کے کسی بھی بہترین اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال میں میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر میرا علاج کرایا جائے۔ اپنے لیے تو سہولتیں ہی سہولتیں اور مراعات ہی مراعات ہیں، جبکہ ہمارے لیے عذاب ہی عذاب ہے اور ہمارے خاندانوں کو بے بسی اور محرومی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ہم ریاست سے نہ خیرات مانگتے ہیں، نہ زکوٰۃ۔ ہماری صرف اتنی درخواست ہے کہ قانون، انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے آرٹیکل 38(d) کے مطابق بہترین علاج فراہم کیا جائے۔ میں دل، گردوں اور پھیپھڑوں سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا ہوں۔ میں ریاست سے وہی کچھ مانگ رہا ہوں جس کا حق مجھے میرے دین اور ملکی قوانین کے تحت حاصل ہے۔ ہم شاید آپ کی نظر میں کیڑے مکوڑے ہوں، لیکن آپ کو بھی اور ہمیں بھی ایک ہی طرح سے پیدا کیا گیا۔ ہماری قبر، کفن اور نمازِ جنازہ بھی ایک ہی جیسے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس ملک میں قانون دو ہیں۔ ایک امیر اور بااثر اور دوسرا عوام اور غریب کے لیے۔ آخر میں شفیع صاحب کہتے ہیں کہ اب میرے سامنے صرف دو آپشن ہیں، ریاست جو چاہے قبول کر لے۔ پہلی ترجیح یہ ہے کہ مجھے کسی بہترین سہولتوں سے آراستہ ہسپتال میں بہترین علاج فراہم کیا جائے، ورنہ مجھے سزائے موت دے دی جائے تاکہ اس اذیت سے نجات مل جائے۔ اگر اس ملک میں انصاف اور رحم نام کی کوئی چیز باقی ہے تو میرا علاج کرا کر احسانِ عظیم فرمائیں، ورنہ میرا یہ یقین مزید پختہ ہو جائے گا کہ اس ملک میں انصاف اور بنیادی انسانی حقوق محض نمائشی باتیں ہیں۔

تازہ ترین