• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

25 کروڑ 50لاکھ کے لگ بھگ آبادی اور دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں شمار ہونے کے باعث پاکستان کے پاس ایک بڑی معاشی کامیابی کی مثال بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم یہ خواب انسانی ترقی (Human Development) کو حکمرانی اور ریاستی پالیسی کا مرکز بنائے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔پاکستان میں مختلف حکومتوں نے صحت، تعلیم، غذائیت، آبادی، غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں متعدد پالیسیاں، پروگرام اور اصلاحات متعارف کرائیں۔جنہیں ملکی وسائل کیساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کی بھرپور مالی اور تکنیکی معاونت بھی حاصل رہی۔ اسکے باوجود نتائج توقعات کے مطابق حاصل نہ ہو سکے، اسلئے کہ اصل مسئلہ پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان ہے۔غذائی قلت کا شکار بچہ مؤثر انداز میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔یوںاسکے غربت میں پھنسے رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماں کی ناقص صحت کم وزن بچوں کی پیدائش کا سبب بنتی ہے، جسکے اثرات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نشوونما پر بھی زندگی بھر مرتب ہوتے ہیں۔ غربت صحت، معیاری غذا اور تعلیم تک رسائی محدود کر دیتی ہے، جبکہ بیماری کمزور خاندانوں کو معاشی مشکلات میں دھکیل دیتی ہے، یوں محرومی کا ایک نہ ختم ہونیوالا چکر وجود میں آ جاتا ہے۔ درحقیقت صحت، تعلیم، غذائیت، آبادی اور غربت انسانی ترقی کے بحران کے ہی مختلف پہلو ہیں۔ افسوس کہ ہماری حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ اس حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔ ہر وزارت کی الگ حکمتِ عملی، اپنا بجٹ، ترقیاتی شراکت داروں سے علیحدہ مذاکرات، الگ اہداف اور اپنی کارکردگی کے بھی الگ پیمانے ہیں۔ نتیجتاً ایک ہی قومی مقصد کیلئے کام کرنیوالے ادارے باہم منسلک ہونے کے بجائے الگ الگ سمتوں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں پالیسیاں تو تشکیل دی جاتی ہیں، مگر ان پر عملدرآمد اضلاع اور یونین کونسلوں میں ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران وزارتوں، محکموں، ڈائریکٹوریٹس، ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ دفاتر پر مشتمل ایک طویل انتظامی سلسلہ وجود میں آ جاتا ہے۔ اگرچہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، لیکن جوں جوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے، جوابدہی کمزور ہوتی جاتی ہے۔ کامیابی سب کی سمجھی جاتی ہے، لیکن ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ اسی لئے پاکستان کو اپنی حکمرانی کے ڈھانچے پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات نہیں ہوتیں، وفاقی حکومت کو وزیراعظم کی سربراہی میں ’’قومی انسانی ترقی ٹاسک فورس‘‘ قائم کرنی چاہیے، جو ملک میں انسانی ترقی سے متعلق پالیسی سازی، بین الوزارتی ہم آہنگی، عملدرآمد، نگرانی اور کارکردگی کے جائزے کا اعلیٰ ترین فورم ہو۔وزیراعظم کے دفتر میں ایک مختصر مگر مؤثر ’’قومی انسانی ترقی ڈلیوری یونٹ‘‘ قائم کیا جانا چاہئے، اس یونٹ کی ذمہ داری مختلف وزارتوں میں جاری منصوبوں پر عملدرآمد کی نگرانی، رکاوٹوں کی نشاندہی، اعداد و شمار کا تجزیہ، بین الوزارتی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور ہر سہ ماہی وزیراعظم کو کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنا ہو۔ اس ٹاسک فورس میں صحت، تعلیم، منصوبہ بندی، خزانہ، غربت کے خاتمے، غذائی تحفظ، بہبودِ آبادی، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتوں کے علاوہ صوبائی حکومتوں، نجی شعبے، جامعات، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے تاکہ انسانی ترقی کو ایک قومی ایجنڈا بنایا جا سکے۔ اسی طرز پر ہر صوبے میں وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ’’صوبائی انسانی ترقی ٹاسک فورس‘‘ قائم کی جائے۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ہر اجلاس میں انسانی ترقی کو مستقل ایجنڈے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔عمل درآمد کا اصل مرکز ضلع ہو۔ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ’’ضلعی انسانی ترقی کمیٹی‘‘ قائم کی جائے، جس میں بلدیاتی حکومت اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان شامل ہوں۔ ہر ضلع ایک ’’ضلعی انسانی ترقی ایکشن پلان‘‘ تیار کرے، جس میں مقامی ضروریات، ترجیحات، اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج واضح طور پر درج ہوں۔ یونین کونسل کو عوامی خدمات کا بنیادی مرکز بنایا جائے۔پاکستان کے پاس دنیا کے بڑے کمیونٹی نیٹ ورکس میں سے ایک موجودہے، جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، پولیو ورکرز، ویکسینیٹرز، اساتذہ، سماجی بہبود کے اہلکار، زرعی توسیعی کارکن اور بلدیاتی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ افسوس کہ یہ تمام افراد الگ الگ نظاموں کے تحت کام کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ان تمام اہلکاروں کو ’’کمیونٹی ہیومن ڈیولپمنٹ ٹیم‘‘ کی صورت میں منظم کیا جائے تاکہ ایک ہی خاندان کو مختلف محکموں کی بجائے ایک مربوط نظام کے ذریعے خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس تصور کی ابتدائی بنیاد مصنف نے وزارتِ صحت کے دوران رکھنے کی کوشش کی تھی تاکہ مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو اور وسائل کا زیادہ مؤثراستعمال ممکن ہو۔ اس تبدیلی کی بنیاد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہونی چاہئے۔ اگر ایک متحدہ ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ رجسٹری قائم کی جائے، جو مختلف شعبوں کے درمیان باہم مربوط ہو، تو فیلڈ میں کام کرنیوالے اہلکار آسانی سے کمزور اور مستحق خاندانوں کی نشاندہی کر سکیں گے، اس طرح اعداد و شمار صرف رپورٹنگ کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر انتظام، منصوبہ بندی اور بروقت فیصلہ سازی کا مؤثر آلہ بن جائینگے۔ قومی انسانی ترقی ٹاسک فورس کو ہر سہ ماہی درج ذیل قومی اہداف کا جائزہ لینا چاہئے:زچگی، نومولود اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں نمایاں کمی۔ بچوں میں غذائی کمی، خصوصاً سٹنٹنگ (Stunting) اور ویسٹنگ (Wasting) کی شرح میں کمی۔ہر بچے کا اسکول میں داخلہ، تعلیم کا معیاری تسلسل۔ معیاری تولیدی صحت اور رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی ۔کثیرالجہت غربت میں کمی۔ نوجوانوں کیلئے روزگار اور مہارتوں کی ترقی۔ ڈیجیٹل شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ۔ان اہداف پر پیشرفت کا جائزہ ہر تین ماہ بعد وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی سربراہی میں لیا جائے، جبکہ سالانہ بنیادوں پراسکی رپورٹ عوام، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کی جائے تاکہ شفافیت، جوابدہی اور صوبوں و اضلاع کے درمیان مثبت مسابقت کو فروغ مل سکے۔ درحقیقت انسانی ترقی صرف سماجی شعبے میں سرمایہ کاری نہیں ،پاکستان کی اہم ترین معاشی حکمتِ عملی ہے۔اگر پاکستان اپنی نوجوان آبادی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اپنے Demographic Dividend کو قومی ترقی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے انسانی ترقی کو حکمرانی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو ایک ایسے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے جو پالیسی کو عملدرآمد سے، وزارتوں کو اضلاع سے، اداروں کو عوام سے اور اختیارات کو جوابدہی سے جوڑ دے۔ایسا نظام دنیا کو یہ واضح پیغام دیگا کہ پاکستان منتشر اور شعبہ وار حکمرانی سے آگے بڑھکر ’’پورے حکومتی نظام‘‘ اور ’’پورے معاشرے‘‘ کے مربوط ماڈل کو اختیار کرنے کیلئے تیار ہے۔ کیا پاکستان اسکے بغیر حقیقی ترقی اور خوشحالی حاصل کر سکتا ہے؟ پاکستان کا اصل سرمایہ زمین کے نیچے موجود معدنیات نہیں بلکہ زمین کے اوپر بسنے والے لوگ ہیں۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں گے، اتنا ہی جلد پاکستان اپنی حقیقی منزل کی جانب گامزن ہو سکے گا۔

(صاحب تحریر سابق وفاقی وزیرِ صحت ہیں)

تازہ ترین