راہداری گزر گئی تو مقابل ایک درمیانہ سا کمرہ تھا جس کے دروازے پر ’’شبینہ عدالت‘‘ کی تختی آویزاں تھی۔ کمرے کے اندر داخل ہوئے تو یہاں عدالت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے، جبکہ عدالتی کارروائی شروع ہونے میں محض 10منٹ باقی تھے۔ عجب عدالتی منظر تھا کہ جسکے بارے مشہور تھا کہ ہر تنازعے کی شنید اور دلیل کا فیصلہ محض ایک رات کی سماعت کے دوران ہی جاری ہو جاتا۔ البتہ حاضرین کی کرسیوں پر فریقین اور معاون وکلاء خاموش بیٹھے عدالتی کارروائی شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے، اب محض دو منٹ باقی تھے۔ حیرت ہے نہ کوئی ’’ہٹو بچو‘‘ کی بیرونی آواز سنائی دے رہی تھی اور نہ ہی کمرۂ عدالت میں کوئی ہلچل کہ اچانک ایک غائب آواز نے اللہ کی حمد و ثناء کے بعد کارروائی کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ بعدازاں پکارنے پر آج کے مستغیث یعنی آلودہ پانیوں کے وکیل صاحب نے اپنا مؤقف بیان کرنا شروع کیا۔ مدلل اور جامع گفتگو جس میں کسی فقرےکی معنوی تکرار موجود نہ تھی۔ حیرت ہے ایک تربیت یافتہ عدالتی معاون کی طرح یہاں صرف آلودہ پانیوں کے مصائب بیان کئے جا رہے تھے۔ کوئی سوفٹ پروگرام اندرونی اسکرین پر چلنے والے روشن جملوں میں متعلقہ عدالتی فیصلے اور قوانین کو بھی ساتھ ساتھ چلا رہا تھا۔ یوں معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی مصنوعی یا اصل ذہانت کا پیکر یا مشین چلمن کے پیچھے سے عدالتی کارروائی میں شامل ہے اور گوش برآواز بھی۔ وکیل صاحب بیان کر رہے تھے کہ کس طرح خالق کے حکم پر صافی پانی، حضرتِ انسان اور مخلوق کی خدمت کیلئے مشقتیں برداشت کرتا ہے، طویل سفر اختیار کرتا ہے۔ پانی سورج کی حدت برداشت کرتا ہے۔ سمندروں سے بخارات بنتے ہیں۔ اپنی طبعی وجودی قربانی دیتا ہے۔ بادلوں کی شکل میں بالائی صحرائوں، میدانوں، جنگلات اور پربتوں تک پہنچتا ہے، ان پر برستا ہے، انہیں گل و گلزار کرتا ہے۔ یوں خلق کیلئے رزق اور راحتوں کی تقسیم کرتا ہے۔ پانی کی ان مہربانیوں کی وجہ سے انسان غالب فیض حاصل کرتا ہے۔ لیکن افسوس انسان کے ہاتھوں ہی اس مہمان کی زیادہ بے توقیری ہو رہی ہے۔ بالخصوص ارضِ پاک کے ادارے اور باشندے ان مہمان پانیوں کو کثرتِ استعمال کے بعد انکی پاکیزگیوں کو غلاظتوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پانیوں سے کھیتوں، کارخانوں، بازاروں اور گھروں کی غلاظتوں کو سمیٹنے کا کام لیا جاتا ہے۔ بعدازاں مہمان پانیوں سے تشکر کی بجائے انکی روانگی سے پہلے انکی صفائیوں سے بھی انکاری رہتا ہے تاکہ وہ ایک بار پھر اجلا ہو کر اس کی آئندہ نسلوں کیلئے راحتوں کا سامان مہیا کر دے۔ معزز عدالت کے علم میں لایا جا رہا تھا کہ میونسپل سیوریج، انڈسٹریل فضلہ جات اور زرعی ادویات کس طرح صاف پانی کو مضر صحت بنا رہی ہیں جسکے نتیجے میں ہر روز تقریباً 250کروڑ گیلن آلودہ پانی گھریلو، صنعتی اور زرعی آلائشوں کے ہمراہ زمین، ندی، نالوں اور دریائوں میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں انسانی اموات کا سالانہ 40فیصد ان گندے اور آلودہ پانیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس سنگین خطرے کو قبولیت ہے، کیونکہ اسوقت پانی کی آلودگیوں کے خاتمے کیلئے صرف 2فیصد سہولتیں میسر ہیں۔ انہیں مصفا بنایا جا رہا ہے۔ باقی کا 98% آلودہ پانی یہاں کی نباتات، انسانوں اور آبی ذخائر میں تباہیاںپھیلا رہا ہے۔ چنانچہ خطرناک وائرس، گھریلو کیمیکلز، بھاری دھاتیں، مائیکرو پلاسٹک وغیرہ پانی میں داخل ہو رہے ہیں اور وہاں سے پھر ہماری خوراک یا جسموں میں دخل اندازی کر رہے ہیں، مہلک بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔وکیل صاحب بیان کر رہے تھے کہ پانی کی پرانی پائپ لائنوں میں موجود دھاتیں یعنی Lead، مرکری، سائنامائیڈز، ہسپتالوں کی آلودگیاں، مذبح خانوں کی آلائشیں اور انسانی بول و براز کی ملاوٹ ان مہمان پانیوں کیلئے کس قدر ذہنی بوجھ ہے۔ نیز حیوانی اور انسانی صحتوں کیلئے تباہ کن ہے۔ گندی میونسپل غلاظتوں کی وجہ سے سانس اور گیسٹرو کی شکایات بڑھ گئی ہیں۔ پانی میں کیڈمیم اور بھاری دھاتوں کی آمیزش نے انسانی گردوں اور ہڈیوں کو ناکارہ اور خستہ بنا دیا ہے۔ فصلوں میں کیمیائی مرکبات یعنی نائٹریٹ نوزائیدہ بچوں کو نیلگوں کر رہے ہیں۔ انسانوں میں تھائی رائیڈز کا توازن بگڑ گیا ہے جو کینسرز کی افزائش کر رہے ہیں۔ وکیل استغاثہ کے دلائل کے بعد عدالت نے تمام سرکاری فریقین کے مشترکہ مؤقف کی بھی سماعت کی جو عدالت کو زیادہ متاثر نہ کر سکا۔ ماسوائے وسائل کی کمی کا دیرینہ رونا اور عوام کی عدم شمولیت اور تعلیمی شعور بارے گلہ شکوہ۔ عدالت نے آخر میں اپنے فیصلے میں صنعتوں، حکومتی فریقین کے اقدامات کو انتہائی ناکافی قرار دیا اورفیصلہ صادر فرمایا کہ حکومتی ادارے گھریلو اور صنعتی آبی آلودگیوں کے خاتمے کیلئے ہر چھوٹے بڑے شہر کیلئے جامع پروگرام وضع کریں۔ عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی جیسے میٹروپولیٹن میں ابھی تک گدلا پانی سمندر میں پھینکا جا رہا ہے اور شہر کیلئے تیار کئے گئے منصوبہ جات (ٹی-پی سیریز) کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکے۔ عدالت نے اسلام آباد کیلئے محض ایک چھوٹے اور ناکارہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر قناعت کو نوٹ کیا اورحکم دیا کہ اسلام آباد، نالہ لئی، راولپنڈی، جیسے شہروں میں مجوزہ ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلئے فوری طور پر وسائل مہیا کئے جائیں۔ عدالت نے اس اَمر پر سخت خفگی کا اظہار کیا کہ ادارے دریائے راوی کی زمینوں کی بندربانٹ اور کمرشل سرگرمیوں میں ازحد مصروف ہو گئے ہیں۔ اپنے اصلی مقاصد یعنی بابو صابو کے پلانٹ کی تعمیر کو بھول چکے ہیں۔ علاوہ ازیں لاہور کے زیرزمین پانیوں کی دگرگوں صورتِ حال کا مؤثر مداوا نہ کر سکے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے جب تک اصلاحِ آب کے منصوبہ جات مکمل نہ ہو جائیں، اپنی دیگر ترقیاتی ترجیحات کو مؤخر کر دیں۔ آلودہ پانیوں کی دلجوئی کریں، انکی صفائیوں کا بندوبست کریں تاکہ آبی و ماحولیاتی تخریب سے نجات ملے۔ اس کیساتھ ہی آج شب کے کیس کی سماعت اختتام کو پہنچی اور ہم بھی خواب سے بیدار ہو گئے۔