سعد علی چھیپا، گلستانِ جوہر، کراچی
کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ گھرسے کافی دُور نکل چُکے ہوں، راستے میں ہوں یا دفتر پہنچ چُکے ہوں، لیکن اچانک دل میں ایک اَن جانی سی خلش جاگ اٹھے؟ یوں محسوس ہو، جیسے کوئی خاموش آواز آپ کو پکار رہی ہے۔
آپ بے اختیار سوچنے لگیں کہ شاید کمرے کی بتی جلتی رہ گئی ہے، گیس کا چولھا بند نہیں ہوا، استری کا بٹن بند کرنے سے رہ گیا ہے یا گھر کا دروازہ مکمل طور پر مقفّل نہیں ہوا۔ اُس وقت انسان کے پاس کوئی واضح دلیل نہیں ہوتی، کوئی ثبوت نہیں ہوتا، مگر اندر کہیں ایک احساس جنم لے چُکا ہوتا ہے اور یہی احساس عام زبان میں ’’چھٹی حِس‘‘ کہلاتا ہے۔
انسانی زندگی جوں جوں ترقی کی منازل طے کرتی گئی، ویسے ویسے اس کے مسائل اور خدشات بھی بڑھتے گئے۔ ایک زمانہ تھا، جب گھروں میں محض چند ضروری اشیاء ہوا کرتی تھیں۔ ایک صندوق، چند برتن، ایک چارپائی اور چند کپڑے۔
چوری کا خوف بھی کم تھا اورنقصان کا دائرہ بھی محدود، لیکن آج کے گھر محض رہائش گاہیں نہیں، قیمتی اشیاء، برقی آلات، دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور یادگار چیزوں کا ایک وسیع ذخیرہ ہیں۔ سو، ایسے میں اِن اشیاء کی حفاظت بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بن گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام جدید سہولتوں، حفاظتی نظاموں اور ٹیکنالوجی کے باوجود انسان اب بھی اپنے ایک قدیم ساتھی پر بھروسا کرتا ہے اور وہ ہے اُس کا احساس۔
چھٹی حِس دراصل ایک ایسا لفظ ہے، جو انسانی تجربے کے اُس حصّے کو بیان کرتا ہے، جسے سائنس بھی مکمل طور پر رد نہیں کرتی، مگر مکمل طور پر تسلیم بھی نہیں کرتی۔ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کا دماغ ہر لمحہ اپنے ارد گرد سے ہزاروں معلومات حاصل کررہا ہوتا ہے۔
ان میں سے بیش تر معلومات لاشعور میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور جب انہی معلومات میں کوئی معمولی سی تبدیلی آتی ہے تو دماغ خطرے کا اشارہ دیتا ہے، حالاں کہ شعوری طور پر ہمیں اس تبدیلی کا علم نہیں ہوتا۔ اور یہی خاموش اشارہ بعد میں ’’دل کا احساس‘‘ یا ’’چھٹی حِس‘‘ بن کر سامنے آتا ہے۔
گھریلو اشیاء کی حفاظت کے ضمن میں اس احساس کی اہمیت کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے ہی لوگ یہ بتاتے ہیں کہ ایک روز گھر سے نکلتے ہوئے اُنہیں بار بار یوں محسوس ہوا، جیسے کچھ بھول گئے ہوں۔
انہوں نے واپس جا کر دیکھا تو گیس کا چولھا جل رہا تھا یا پنکھا چل رہا تھا یا دروازہ پوری طرح بند نہیں ہوا تھا۔ بظاہر یہ اتفاق معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں انسان کا ذہن ان باریک اشاروں کو پہلے ہی محسوس کرچُکا ہوتا ہے، جنہیں شعور نے پوری طرح نہیں پکڑا ہوتا۔ البتہ یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف چھٹی حس پر انحصار کر لینا چاہیے؟ یقیناً نہیں۔
احساس انسان کی رہنمائی کر سکتا ہے، لیکن حفاظت کی بنیاد ہمیشہ احتیاط، نظم اور ذمّےداری پر قائم ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ہر معاملے کو محض دل کی کیفیت پر چھوڑ دے تو وہ جلد ہی وہم اور حقیقت میں فرق کرنا بھول جائے گا، اس لیے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ چھٹی حِس کو ایک معاون قوّت سمجھا جائے، بنیادی سہارا نہیں۔ موجودہ دَور میں گھریلو اشیاء کی حفاظت کا مفہوم بھی تبدیل ہوچکا ہے۔
اب صرف سونے چاندی یا نقدی کی حفاظت ضروری نہیں رہی، بلکہ موبائل فون، لیپ ٹاپ، اہم دستاویزات، بینک کارڈز، شناختی کاغذات، ڈیجیٹل معلومات اور گھریلو برقی آلات بھی اُتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک موبائل فون گم ہونے سے کبھی کبھی اتنا نقصان ہو سکتا ہے، جتنا پہلے زمانے میں کسی قیمتی ترین شئے کے چلے جانے سے بھی نہیں ہوتا تھا، اسی لیے جدید معاشرے میں حفاظت کا تصوّر صرف تالوں اور چابیوں تک محدود نہیں رہ گیا۔
آج اسمارٹ کیمرے، ڈیجیٹل لاکس، موشن سینسرز، دھویں کا پتا چلانے والے آلات، گیس لیکیج الارمز اور موبائل ایپس گھرکی حفاظت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں کی نگرانی موبائل فونز کے ذریعے کرتے ہیں۔ وہ سیکڑوں میل دور بیٹھ کر بھی اپنے گھر کے دروازے، صحن اور کمرے دیکھ سکتے ہیں، مگر ایک دل چسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جدید ترین مشینیں بھی اُس وقت تک مؤثر نہیں ہوتیں، جب تک انسان خود ذمّےداری کا مظاہرہ نہ کرے۔
اگر کوئی شخص گھر سے نکلتے وقت جلد بازی کاشکار ہو، چیزوں کو بےترتیبی سے رکھتا ہو اور معمولی احتیاطی اصولوں کو بھی نظرانداز کرتا ہو تو بہترین حفاظتی نظام بھی مکمل تحفّظ فراہم نہیں کر سکتا۔ گھریلو اشیا کی حفاظت دراصل ایک عادت کا نام ہے۔ وہ عادت، جوانسان کو سونے سے پہلے دروازے چیک کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
وہ عادت، جو گھر سے نکلتے وقت گیس کے نوبز اور بجلی کے سوئچ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ عادت، جو قیمتی اشیاء کو ایک مقررہ جگہ رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ اور وہ عادت، جوانسان کو لاپروائی کے بجائے ذمّےداری کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہمارے یہاں اکثر نقصانان، چوری یا حادثے سے کم اور بےاحتیاطی سے زیادہ ہوتے ہیں۔
ہم کبھی موبائل کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں، کبھی گاڑی کی چابی گم ہو جاتی ہے، کبھی اہم فائل کسی غیرمحفوظ جگہ پر رکھ دی جاتی ہے اور کبھی بجلی کا کوئی آلہ چلتا رہ جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کا تعلق صرف حفاظت سے نہیں، بلکہ طرزِ زندگی سے بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ منظّم زندگی خُود ایک حفاظتی ڈھال ہے۔ جس گھرمیں اشیاء اپنی مقررہ جگہ پر رکھی جاتی ہیں، جہاں ہر فرد ذمّے داری کا احساس رکھتا ہے اور جہاں معمولی احتیاط کو اہمیت دی جاتی ہے، وہاں نقصان کے امکانات خُود بخود کم ہو جاتے ہیں۔ اور یہاں چھٹی حِس ایک بار پھر اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
درحقیقت، چھٹی حِس کوئی پُراسرار طاقت نہیں، بلکہ تجربات کا نچوڑہے۔ انسان جتنا زیادہ محتاط، منظّم اور مشاہداتی ہوگا، اُس کی چھٹی حِس اتنی ہی تیز اور مضبوط ہوگی۔ وہ چھوٹے چھوٹے اشارے بھی محسوس کرلے گا، جنہیں دوسرے لوگ عموماً نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چھٹی حِس اور احتیاط ایک دوسرے کی مخالف نہیں، بلکہ ساتھی ہیں۔
ایک خطرے کی سرگوشی سُناتی، تو دوسری اُس خطرے سے بچنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ آج جب زندگی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چُکی ہے، جب انسان وقت کے تعاقب میں مسلسل دوڑ رہا ہے اور جب گھروں میں موجود اشیاء کی تعداد اور اہمیت دونوں بڑھ چکی ہیں، تب گھریلو اشیاء کی حفاظت صرف ایک ضرورت نہیں، ایک اہم ترین ذمّے داری بن چُکی ہے۔
بےشک، ہمیں جدید ٹیکنالوجی سےفائدہ اٹھانا چاہیے، حفاظتی اصول اپنانے چاہئیں اور اپنی عادات کو بہتر بنانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اپنے اندر کی اُس خاموش آواز کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، جو بعض اوقات کسی الارم سے پہلے جاگ جاتی ہے۔
شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کے پاس پانچ حواس ضرور ہیں، مگر زندگی کے بعض اہم فیصلوں میں ایک چھٹی حس بھی اس کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے۔ اور جب یہ چھٹی حس شعور، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ مل جائے تو گھر صرف محفوظ نہیں رہتا، بلکہ سکون اور اطمینان کا گہوارہ بھی بن جاتا ہے۔