• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قانون کے طالبِ علم کے طور پر یہ سوال ذہن میں گونجتا رہتا ہے کہ کیا پاکستان میں بھی عدالتی نظام دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تشکیل پاسکے گا اور کیا سائل، عدالتوں کا گردوغبار پھانکے بغیر آن لائن نظامِ عدل کے تحت داد رسی حاصل کر پائے گا؟

گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کو دورِ جدید سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ آج جہاں پوری دنیا موبائل فون اسکرین پر سمٹ آئی ہے، تو وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں صدیوں سے قائم پرانے نظام کو الوداع کہتے ہوئے اِی۔کورٹس نظام کی طرف سفر شروع کریں۔

بدلتے وقت کا ناگزیر تقاضا: پاکستان کا عدالتی نظام ایک طویل عرصے سے ایسے مسائل سے دوچار ہے، جو انصاف کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مقدمات کا بڑھتا بوجھ، سماعتوں میں تاخیر، پیچیدہ طریقۂ کار اور عوامی مشکلات نے عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول ایک صبر آزما عمل بنا دیا ہے۔

20اپریل 2026ء کو سپریم کورٹ کی پیش رفت نے نئی سوچ جنم دی، جب ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت نے ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ انصاف کو مؤثر اور تیز بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے، جہاں اِی-کورٹس کا تصوّر ایک عملی ضرورت کے طور پر اُبھرتا ہے۔

اِی-کورٹس کا دائرۂ کار: اِی-کورٹس دراصل عدالتی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی کا نام ہے، جس کے تحت مقدمات کے اندراج، سماعت، شواہد کی پیشی اور فیصلوں کا اجرا آن لائن کیا جاتا ہے۔ اِس نظام میں اِی فائلنگ، آن لائن کیس ٹریکنگ، ویڈیو لنک سماعت اور ڈیجیٹل ریکارڈ جیسے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی کو آسان، تیز تر اور شفّاف بنانا ہے تاکہ ہر شہری بلا امتیاز اس سے مستفید ہو سکے۔

آئینی و قانونی بنیاد: پاکستان کا آئین ریاست کو یہ ذمّے داری سونپتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرے۔ آرٹیکل 37(d) اسی اصول کی واضح عکّاسی کرتا ہے۔ اِی-کورٹس یہ خلا پُر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، کیوں کہ اِس سے نہ صرف عدالتی کارروائی تیز ہوتی ہے، بلکہ یہ نظام شفّافیت، جواب دہی اور قانون کی بالادستی بھی یقینی بناتا ہے۔

ایک انسانی اور سماجی مسئلہ: اعدود و شمار کے مطابق، پاکستان میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد بائیس لاکھ سے زائد ہے، جو محض اعداد و شمار نہیں، انسانی کہانیوں کا مجموعہ ہیں۔ ہر کیس کے پیچھے فرد کی اُمید، خاندان کا مستقبل اور انصاف کی ایک ادھوری داستان ہوتی ہے۔

’’تاریخ پر تاریخ‘‘ کا کلچر عوام کا اعتماد مجروح کر چُکا ہے۔ انصاف میں تاخیر نہ صرف قانونی مسئلہ ہے، بلکہ ایک سماجی بحران بھی ہے، جو بے چینی، مایوسی اور عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ اِی-کورٹس اس مسئلے کا ایک مؤثر حل پیش کرتی ہیں۔

عوامی فلاح اور رسائی میں بہتری: اِی-کورٹس کا سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو پہنچے گا، خاص طور پر وہ افراد، جو دیہات یا دُور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔ کوئی کسان، مزدور یا چھوٹا کاروباری شخص جب عدالت جانے کے لیے سفر کرتا ہے، تو اُسے مالی اور وقت کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔

اگر یہی فرد اپنے موبائل فون یا قریبی سہولت مرکز کے ذریعے عدالت میں پیش ہو، تو یہ اُس کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔ اس سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے، بلکہ انصاف تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔

ریاستی سطح پر فوائد اور شفّافیت: اِی کورٹس کے نفاذ سے ریاست کو بھی بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ قیدیوں کی عدالتوں میں پیشی کے لیے سیکیوریٹی، ٹرانسپورٹ اور عملے پر بھاری اخراجات آتے ہیں، جنہیں ویڈیو لنک کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل ریکارڈ کی موجودگی عدالتی نظام میں شفّافیت کو فروغ دیتی ہے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرتی ہے۔ ہر کارروائی کا ریکارڈ محفوظ ہونے سے احتساب کا عمل بھی زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔

بین الاقوامی مثالیں: دنیا کے کئی ممالک میں اِی-کورٹس کا نظام کام یابی سے نافذ العمل ہے۔ برطانیہ میں آن لائن سِول کلیمز کے ذریعے چھوٹے مقدمات عدالت آئے بغیر حل کیے جا رہے ہیں۔ سنگاپور کا اِی لیٹی گیشن سسٹم مکمل ڈیجیٹل عدالتی ماڈل پیش کرتا ہے، جب کہ بھارت میں ورچوئل سماعتوں نے انصاف کو عوام کے قریب تر کر دیا ہے۔

درپیش چیلنجز اور خدشات: اِی-کورٹس کے نفاذ میں کچھ اہم چیلنجز بھی موجود ہیں۔ انٹرنیٹ کی عدم دست یابی(خاص طور پر دیہات میں) ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل خواندگی کی کمی اور سائبر سیکیوریٹی خدشات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ عدالتی ڈیٹا کی حفاظت، ہیکنگ سے بچاؤ اور پرائیویسی کے مسائل ایسے پہلو ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے، لیکن یہ تمام ایسے مسائل ہیں، جن کا حل موجود ہے۔

بس ریاست کی نیک نیّتی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اِن چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ ’’ڈیجیٹل جسٹس پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک پالیسی ترتیب دی جا سکتی ہے، جس میں جدید انفرا اسٹرکچر، عدالتی عملے کی تربیت، سائبر سیکیوریٹی اقدامات اور عوامی آگاہی شامل ہوں۔

دیہات میں اِی سہولت مراکز کا قیام اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں عام شہریوں کو ڈیجیٹل عدالتوں سے منسلک کیا جا سکے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان بار کاؤنسل کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی کو وکلاء کے سلیبس میں ترامیم کرنی ہوں گی، جس میں اِی-کورٹس کی اہمیت، طریقۂ کار اور ضابطے اجاگر کیے جائیں۔

بار کاؤنسلز اور عدلیہ کا کردار: اِی-کورٹس کے کام یاب نفاذ کے لیے وکلاء اور عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ بار کاؤنسلز کو چاہیے کہ وہ وکلاء کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت فراہم کریں۔نیز، عدلیہ بھی یہ نظام اپنانے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

مصنوعی ذہانت اور قانونی نظام: دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں قانونی تحقیق، کیس تجزیے اور عدالتی معاونت میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ بھی جدید ٹیکنالوجی اپناتے ہوئے اپنے عدالتی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنائے۔

اِی-کورٹس محض جدید سہولت نہیں، ایک ناگزیر ضرورت بھی بن چُکی ہیں۔ اگر پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بننا ہے، جہاں انصاف بروقت، شفّاف اور سب کے لیے یک ساں ہو، تو ڈیجیٹل عدالتوں کا قیام لازمی ہے۔ انصاف میں تاخیر، دراصل انصاف سے انکار ہے، اور اب وقت آ چُکا ہے کہ اِس’’انکار‘‘ کو ایک مضبوط، مؤثر اور پائے دار’’ ڈیجیٹل اقرار‘‘ میں بدل دیا جائے۔