• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنگنا رناوت کا طلبہ پر پولیس تشدد کا دفاع، عوامی ردعمل قرار دیدیا

متنازع بیانات دینے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی بالی ووڈ اداکارہ اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے سڑکوں پر طلبہ کو مارنے والوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب بولتے ہو تو سننا بھی پڑے گا۔

کنگنا رناوت نے کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاجی تحریک پر کڑی تنقید کی اور احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد کرنے والے پولیس والوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر عمل کا ایک برابر اور مخالف ردعمل بھی ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت جینزی کی اس تحریک کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ 20 جولائی کو تقریباً 50,000 مظاہرین نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں بالآخر بھارت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔

کنگنا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر لکھا، جو احتجاج کرنے والے آج سڑکوں پر عام لوگوں کے ہاتھوں مار کھا رہے ہیں اور بدسلوکی کا سامنا کر رہے ہیں، وہ اپنی گندی اور توہین آمیز ویڈیو کلپس کی وجہ سے اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جب آپ بولتے ہیں تو دوسروں کی بات بھی سننی پڑتی ہے۔

کنگنا کے مطابق اگر آپ عوامی املاک کو نقصان پہنچائیں گے تو عوام بھی آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔ اگر آپ کو ملک اور اس کی قیادت سے مسئلہ ہے اور آپ نے سرعام انتہائی گندی گالیاں دیں، تو اب ان لوگوں کی بھی سنیں جو اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور جنہوں نے ووٹ کی طاقت سے اس حکومت کو منتخب کیا ہے کیونکہ بولنے کا حق انہیں بھی حاصل ہے۔

رکن پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ اب رونے کی کوئی بات نہیں، ہر عمل کا ایک ردعمل بھی ہوتا ہے۔ اگر پڑھائی کے باوجود آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے تو اب آ جائے گا اور بہت اچھی طرح سمجھ آ جائے گا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید