بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے کیس میں پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کے رکن روپ کمار شاہ نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
ایک موقع پر گفتگو کرتے ہوئے روپ کمار شاہ نے دعویٰ کیا کہ سوشانت سنگھ راجپوت کو پھانسی دینے سے قبل ان کا 2 سے 3 مرتبہ گلا دبایا گیا تھا۔
روپ کمار شاہ کے مطابق سوشانت کے جسم پر گلا گھونٹے جانے کے واضح نشانات موجود نہیں تھے، تاہم آنکھوں پر موجود زخم بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ محض خودکشی کا نہیں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشانت کی گردن کے بائیں جانب ایک آلے سے 3 سے 4 مرتبہ زخم پہنچایا گیا، جس کی گہرائی 2 سے 3 ملی میٹر تھی۔
پوسٹ مارٹم ٹیم کے رکن نے دعویٰ کیا کہ سوشانت کا پوسٹ مارٹم رات کے وقت کرنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالا گیا، سابق ممبئی پولیس افسر سچن وازے نے مجھے اگلی صبح پوسٹ مارٹم کرنے کے بجائے اسی رات کارروائی مکمل کرنے پر مجبور کیا۔
روپ کمار شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعد ازاں مجھے 15 روز تک حراست میں رکھا گیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مجھے ٹائر کے اندر ڈال کر بھی مارا جاتا تھا جبکہ ماسک پہنے متعدد افراد مجھے دھمکیاں دینے آتے تھے۔
انہوں نے سوشانت کی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت سے متعلق بھی دعوے کیے ہیں۔
روپ کمار شاہ کے مطابق دیشا کے پوسٹ مارٹم میں شامل ایک ساتھی نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے جسم پر متعدد زخم اور نشانات تھے، جبکہ ہونٹوں، کانوں اور سینے پر بھی کٹ کے نشانات موجود تھے۔
روپ کمار شاہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دیشا سالیان کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس میں 5 سے 6 افراد ملوث تھے۔
واضح رہے کہ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یاد رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020ء کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے، ان کی عمر 34 برس تھی، جبکہ ان کی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت 8 جون 2020ء کو ممبئی کے علاقے مالاد میں ایک عمارت کی 14 ویں منزل سے گرنے کے بعد ہوئی تھی۔
دیشا کے والد ستیش نے سوشانت اور دیشا کی اموات کے درمیان تعلق کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ دونوں اموات میں کوئی نہ کوئی تعلق موجود ہے۔
انہوں نے سوشانت کی موت سے متعلق سی بی آئی کی مبینہ کلوزر رپورٹ پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔