• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی عالمی مقبولیت میں مسلسل کمی اور چین کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے‘‘، یہ نتیجہ ہے رائے عامہ کے سب سے بڑے سالانہ بین الاقوامی جائزے کا جس میں دنیا کی 90فی صد آبادی پر مشتمل98 ملکوںکے94000 افراد شامل تھے۔الائنس آف ڈیموکریسی فاؤنڈیشن نامی عالمی ادارے کے تعاون سے ڈیمو کریسی پرسپشن انڈیکس 2026کے عنوان سے یہ سالانہ سروے حالیہ موسم بہار میں کیا گیا۔ سروے کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ جو کم و بیش پچھلی ایک صدی کے دوران جمہوری روایات اور انسانی حقوق کا مخلص و نیک نیت علم بردار سمجھا جاتا رہا، اب کرہ ارض پر سب سے زیادہ منفی تاثر کے حا مل ملکوں میں شامل ہے۔

اس صورت حال کے جو اسباب ان تقریباً ایک لاکھ افراد کے انٹرویوز سے سامنے آئے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ اور مغرب کے حکمراںطبقے بظاہر جن حقائق کے ادراک کی صلاحیت سے محروم نظر آتے ہیں، عام لوگ بالعموم ان سے بخوبی آگاہ ہیں۔ سروے کے مطابق امریکہ اور اس کے حواریوں سے عالمی رائے عامہ کی بڑھتی ہوئی بے زاری کی وجوہات میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے مقتدر طبقوں کی اپنے ہی بنائے ہوئے جمہوری نظام اور احترام انسانی کے اصولوں سے روگردانی، بین الاقوامی تنازعات میں غیر منصفانہ رویوں، جمہوریت کے چمپئن ہونے کے دعووں کے برخلاف جمہوریت کش سامراجی طرز عمل، عالمی امن کو تباہ کرنے والے اقدامات، دنیا بھر میں فوجی اڈوں کا قیام ، جنگوں کو ختم کرانے کے بجائے مسلسل نئی جنگیں چھیڑ کر اپنے ہتھیاروں کی فروخت اور دیگر فوائد کے حصول کا راستہ ہموار کرنا، بالخصوص ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کی بہیمانہ کارروائیوں اور فلسطینیوں کی حق تلفیوں سے مجرمانہ صرف نظر شامل ہیں۔

سروے کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ جمہوریت کے خلاف نہیں لیکن اُن ریاستوں کے طرز عمل سے مایوس ہیں جو جمہوریت کی دعویدار تو ہیں مگر جن کا عمل جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ سروے کے مطابق امریکی اڈے رکھنے والے 97ملکوں میں سے 86میں اکثریت امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی مخالف ہے۔ڈیموکریسی پرسپشن انڈیکس سروے کی تاریخ میں پہلی بار، امریکہ کو روس کے مقابلے میں زیادہ منفی انداز میں دیکھا گیا ہے ،جبکہ سروے میں شامل بیشتر یورپی ممالک سمیت 68 ملکوں میں چین کو امریکہ کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ سروے کے مرتبین عالمی رائے عامہ کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’دنیا اب مغرب پر بھروسہ نہیں کرتی ہے اور وجوہات کوئی معمہ نہیں ۔‘‘

سروے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ مثبت سمجھے جانیوالے ممالک سب سے بڑی جمہوریت یا سب سے بڑی عسکری طاقتیں نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جاپان، سویڈن، اٹلی اور ناروے ہیں -اس کی وجہ ان کی غیر جانبداری، عدم جارحیت ، سماجی سہولتیں، اچھی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور سلامتی کے انتظامات ہیں۔ جبکہ سب سے کم مثبت سمجھے جانے والے ملک اسرائیل، شمالی کوریا، افغانستان، ایران اور امریکہ ہیں۔اس کا سبب انتخابات کا ہونا یا نہ ہونا نہیں بلکہ تشدد کے رجحان کا غالب ہونا ہے۔ الائنس آف ڈیموکریسی فاؤنڈیشن کی بنیاد نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل اور ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرس فوگ راسموسن نے رکھی تھی تاکہ دنیا میں مغربی طرز کی لبرل جمہوریت کو فروغ دیا جائے۔ڈنمارک کی فرم نیرا ڈیٹا عالمی سروے کے عمل کو انتہائی سائنٹفک طریقے سے جمہوری اقدار کی خدمت کے جذبے سے انجام دیتی ہے۔

فی الحقیقت اس عالمی جائزے نے امریکہ کی متنازع پالیسیوں کی بنا پر ایک مدت سے اس کے بارے میں ابھرتے ہوئے منفی تاثر پر مہر توثیق ثبت کردی ہے جو صدر ٹرمپ کے غیر ذمے دارانہ،غیر سنجیدہ اور بسا اوقات مضحکہ خیز طرز سیاست ، بیان بازیوں اور شوق جنگجوئی کے باعث بڑی تیزی سے بڑھا ہے اور بڑھ رہاہے۔ سروے کے مرتبین اس صورت حال کو بجا طور پر امریکی وقار اور نیک نامی کا تاریخی زوال قرار دیتے ہیں جس کا اظہار عالمی رائے عامہ نے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی پالیسیوں پر اپنی بے لاگ منفی رائے سے کیا ہے۔ سروے کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ اصولوں اور قوانین کی پاسداری پر مبنی بین الاقوامی نظام کیلئے عالمی حمایت کمزور نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ تمام 98 ممالک کے پچاس فیصد لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ قوموں کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ امریکہ سے لوگوں کی مایوسی کا بنیادی سبب اس کی جانب سے انصاف کے تقاضوں پر مبنی قوانین اور اصولوں کی کھلے بندوں پامالی ہے جبکہ چین کی قیادت عدم جارحیت ، عدم توسیع پسندی، برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات اور امن و انصاف کے تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی کے طریقے پر کاربند ہے۔چشم تصور سے دیکھیں تو منظر کچھ یہ بنتا ہے کہ سپر پاور کہلانے والی ایک طاقت پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکتے ہوئے نیچے آرہی ہے اور دوسری طاقت بتدریج چوٹی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس منظر نامے سے واضح ہے کہ مستقبل کس کا ہے۔

چین کی دور اندیش، بردبار ، شائستہ ، متحمل مزاج اور ترقی کے عمل کو کسی تعطل کے بغیر ،حتی الامکان دوسروں کو بھی اس میں شریک رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہر ممکن تیزرفتاری سے جاری رکھنے والی قیادت کی عالمی مقبولیت کا سبب اس کے یہی اوصاف ہیں۔ امریکہ کا متوقع زوال اور چین کا ممکنہ عروج پاکستان کیلئے بھی بہتری کے مواقع بڑھا رہا ہے تاہم ان سے فائدہ اٹھانے کے ملک کے اندر جاری سیاسی خلفشار، سماجی انتشار، کرپشن ، حکومتی فضول خرچیوں، عدم انصاف اور دہشت گردی نیز عوام اور مقتدر طاقتوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

تازہ ترین