• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین !میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس حکومت نے جس تیزی کے ساتھ تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں، اس نے اس سارے عمل پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں اور اب حکومت پرتیل کمپنیوں کو نوازنے کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں ، دوسری طرف ملک میں کاروبار کے حالات جو پہلے ہی سازگار نہیں تھے، مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں، تاجر اور صنعتکار دونوں پریشان ہیں، ہر چیز کی لاگت بڑھتی جارہی ہے اور عوام کی رہی سہی قوت خرید بھی جواب دے گئی ہے، جس سے بازاروں میں خریدار غائب ہیں، تیل کی قیمتوں کے ساتھ آٹےکی قیمت بھی نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ ماہر ین بار بارنشان دہی کرتے رہے کہ اس سال گندم کم ہوئی ہے، مگر حکومت بضد رہی کہ گندم کی پیداوار گزشتہ برس سے بھی زیادہ ہوئی ہے، نہ صرف غلط اعداد وشمار پیش کر کے حکومت خودکو مطمئن کرتی رہی، بلکہ ذخیرہ اندوزوں کو بھی کھلی چھوٹ دیدی، جنہوں نے مارکیٹ میں قلت کو بھانپتے ہوئے لاکھوں ٹن گندم ذخیرہ کر لی ، لیکن حکومت کی جانب سے ان اہم معاملات پر مسلسل خاموشی ہے، اب کئی ہفتوں بعد بالآخر گندم کی قلت کا نیم دلی سے اعتراف کیا گیا ہے، اور اس سال10لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی باتیں کی جاری ہیں ۔جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت اس سے زیادہ ہے،اور ملک کو کم از کم15لاکھ ٹن گندم در آمد کرنی پڑے گی، ور نہ ملک میں آنے والے مہینوں میں آٹے کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا، اسی طرح تیل پر حکومت بھاری لیوی اور ٹیکس وصول کر رہی ہے، حالانکہ دنیا بھر میں حکومتوں نے عالمی قیمت بڑھنے پر اندرونی ٹیکس کم کئے ہیں، تا کہ لوگوں کوریلیف دیا جا سکے۔ اس وقت حکومت پٹرول پر125روپے42پیسے ، اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر112روپے54پیسے اضافی وصول کر رہی ہے، جس میں لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز شامل ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت209روپے 76 پیسے بنتی ہے ۔ تاہم حکومت نے فی لیٹر قیمت 335 روپے18پیسے مقرر کی ہے، پیٹرول پر80روپے پٹرولیم لیوی،5روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17روپے28پیسے کسٹمر ڈیوٹی، 7روپے 16پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7روپے87پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے64پیسے ڈیلر ز مارجن شامل ہے۔ اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت270روپے 92پیسے ہے جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 54 پیسے کی لیوی ، ٹیکسز اور مختلف مار جنز وصول کئے جارہے ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے 82 پیسے اور کلائمٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عائد ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا بیان قابل توجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کمپنیوں کے منافع پر حکومت سمجھوتہ نہیں کرتی وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل والوں کیلئے پیٹرول پر 10 روپے کم کرنے ہوں تو آئی ایم ایف کا معاملہ آجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کفایت شعاری کی بات کر رہے تھے لیکن حکومتی بجٹ سے50ارب روپے زیادہ خرچ کئے۔نیز حکومت نے تیل قیمتوں کے ذریعہ کمپنیوں کو 20 ارب روپے کا ناجائز فائدہ پہنچایا ۔ اور یہ معاملہ کبھی نہ کھلے گا اور یہ بھاری رقم عوام کی جیب سے نکالی گئی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے غیر ضروری اخراجات، مراعات، پروٹوکول اور فضول خرچیوں میں کمی کرے، کرپشن اور مالی بدعنوانی پر قابو پائے اور ریونیو بڑھانے کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے۔

دوسری جانب ہر سال کی طرح اس برس بھی مون سون کا موسم پاکستان میں تباہی مچا رہا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چھتیں، دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں مزید 21افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ نکاسی آب نہ ہونے سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ کئی مکانات منہدم ہوگئے۔ دریں اثنا محکمہ ایری گیشن پنجاب نے بتایا ہے کہ بھارت نے آبی دہشتگردی کرتے ہوئے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیئے ہیں۔ بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں جو تباہی ہو رہی ہے یہ غیر معمولی نہیںاور نہ حکومت اس سے پیشگی طور پر بے خبر تھی۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کس تیزی سے اثر انداز ہو رہے ہیں یہ حکومت کے علم میں ہے اور متعلقہ محکموں اور ماہرین کی رپورٹوں وغیرہ کی وساطت سے حکمران یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مون سون کا موسم کب، کہاں اور کتنی تباہی مچانے کا امکان رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں جانی و مالی نقصانات میں کمی کیلئے کوئی مناسب اقدامات نہیں کئے جاتےدنیا بھر میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان پر قابو پانے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے نہ کہ آفت آنے کے بعد۔ بھارت کا ہم سے تعلق کوئی ڈھکا چھپا نہیں اور یہ بات 1947 میں ہی روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی تھی کہ بھارت مسلسل پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتا رہے گا، لہٰذا اس سے کسی بھلائی کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی۔ ہم اس کی آبی جارحیت سے متعلق اس کی سازشوں سے بچنے کیلئے ڈیم بنا سکتے ہیں لیکن کسی بھی حکومت کی ترجیح ڈیم بنانا ہے ہی نہیں تو اس صورتحال میں کسی دوسرے سے کیا گلہ کیا جائے۔ یہ ایکنا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب تک حکومت اپنا قبلہ درست نہیں کرتی اس وقت تک قدرتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر قابو پانا ممکن نہیں ۔

تازہ ترین