دنیا بھر میں مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار ماحول میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ ننھے پلاسٹک کے ذرات پینے کے پانی، سمندری خوراک، پھل، سبزیوں، نمک، شہد، چاول، گوشت، چائے، حتیٰ کہ سانس کے ذریعے بھی انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
سائنس دان ان ذرات کو انسانی خون، پھیپھڑوں اور شریانوں میں بھی دریافت کر چکے ہیں تاہم ان کے صحت پر مکمل اثرات جاننے کے لیے تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس، پلاسٹک کے وہ ذرات ہیں جن کا سائز 5 ملی میٹر سے کم ہوتا ہے جبکہ اس سے بھی چھوٹے نینو پلاسٹکس جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس جسم میں سوزش، خلیوں کو نقصان، آکسیڈیٹو دباؤ اور آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ کیڑے مار ادویات، بھاری دھاتوں اور پلاسٹک میں شامل کیمیائی اجزاء کو بھی جسم میں منتقل کر سکتے ہیں تاہم ان کے طویل مدتی اثرات پر ابھی حتمی سائنسی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نسبتاً بڑے مائیکرو پلاسٹکس زیادہ تر نظامِ ہضم کے ذریعے فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتے ہیں جبکہ تشویش کا باعث انتہائی باریک نینو پلاسٹکس ہیں جو جسم کی مختلف بافتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس اب سمندروں، دریاؤں، مٹی، فضاء اور خوراک میں تقریباً ہر جگہ موجود ہیں، اس لیے ان سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں تاہم ان کی مقدار کم کی جا سکتی ہے۔
ماہرین نے مائیکرو پلاسٹکس سے بچاؤ کے لیے چند آسان احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں جو درج ذیل ہیں:.........
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔