• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آنکھوں کی عام بیماری میں مبتلا افراد ہیلوسینیشن کا شکار ہو سکتے ہیں: ماہرین

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ماہرین کا کہنا ہے کہ چارلس بونٹ سنڈروم (CBS) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں شدید بینائی سے محروم افراد کو بصری واہمے یا فریب (Hallucination) محسوس ہو سکتے ہیں، تاہم بہت سے لوگ اس کیفیت سے واقف نہیں ہوتے اور انہیں خدشہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ ڈیمنشیا یا کسی ذہنی بیماری کا شکار تو نہیں ہو رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریٹینا کی بیماری یا شدید بینائی سے محرومی کا سامنا کرنے والے تقریباً ہر 6 میں سے 1 فرد چارلس بونٹ سنڈروم سے متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ کیفیت بالخصوص شدید بینائی سے محرومی کے شکار افراد میں عام ہے اور اکثر عمر سے متعلق میکیولر ڈی جنریشن (AMD) کے ساتھ بھی سامنے آتی ہے۔

یہ ایک ایسی بیماری ہے جو آنکھ کے پردے (ریٹینا) کے مرکزی حصے یعنی میکولا کو متاثر کرتی ہے جو مرکزی بینائی کے لیے ذمے دار ہوتا ہے۔

چارلس بونٹ سنڈروم میں مبتلا افراد کو اپنے ارد گرد ایسے انسان، پھول، جانور، مختلف اشکال یا ہندسی نقوش دکھائی دے سکتے ہیں جو حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہوتے۔

یہ ہیلوسینیشن پریشان کن ہو سکتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ متاثرہ شخص کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔

کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر ڈومینک ففٹ کی تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ بینائی سے محرومی دماغ کے بصری حصے، یعنی ویژوئل کارٹیکس، کی سرگرمی کو متاثر کر سکتی ہے، جب آنکھوں سے معمول کے بصری سگنلز کم ہو جاتے ہیں تو بصری نظام کے بعض حصے زیادہ فعال ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہیلوسینیشن پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

محققین اب بھی پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ شدید بینائی سے محرومی کے شکار بعض افراد میں چارلس بونٹ سنڈروم کیوں پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرے افراد اس سے محفوظ رہتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو غیر معمولی بصری تجربات ہوں تو اسے اپنے ڈاکٹر سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے، تاکہ ان علامات کی دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔

متعدد افراد کے لیے صرف اس کیفیت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہی خوف کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہیلوسینیشن کم یا نسبتاً ہلکے ہو سکتے ہیں، اگرچہ ضروری نہیں کہ وہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید