• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت زیادہ کیلے کھانا وزن بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے، ماہرین

اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ روزانہ کتنے کیلے کھانا محفوظ ہے؟ تو اس سلسلے مین ماہرین غذایت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صحت مند بالغ افراد متوازن غذا کے حصے کے طور پر روزانہ دو سے تین کیلے محفوظ طریقے سے کھا سکتے ہیں۔ تاہم بہت زیادہ کیلے کھانے سے وزن بڑھنے اور غذائی اجزا کی کمی یا عدم توازن کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کیلے آسانی سے دستیاب، قدرتی طور پر میٹھے اور غذایت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں مینگنیز، پوٹاشیم، وٹامن سی اور وٹامن بی 6 پائے جاتے ہیں۔ تاہم، روزانہ کئی کیلے کھانا ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہو سکتا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بعض طبی مسائل کا شکار ہوں۔

ماہرین کے مطابق بہت زیادہ کیلے کھانے کے درج ذیل اثرات ہوسکتے ہیں۔

1۔ پوٹاشیم کی زیادتی: ایک درمیانے سائز کے کیلے میں تقریباً 400 ملی گرام پوٹاشیم ہوتا ہے۔ جن صحت مند افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کرتے ہیں، وہ عام طور پر روزانہ دو سے تین کیلے بغیر کسی خاص تشویش کے کھا سکتے ہیں۔ 

تاہم گردوں کے مسائل میں مبتلا افراد کے جسم کے لیے خون سے اضافی پوٹاشیم خارج کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہائپرکلیمیا (خون میں پوٹاشیم کی زیادتی) پیدا ہو سکتی ہے، جس سے پٹھوں میں کمزوری، فالج اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے۔

2۔ خون میں شوگر کا اچانک بڑھنا:

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خالی کیلے کھانے کے بجائے پروٹین یا صحت مند چکنائی کے ساتھ کھانا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کیلے میں کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی شکر موجود ہوتی ہے، اس لیے انہیں خالی کھانے سے خون میں شوگر نسبتاً تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

3۔ ہاضمے کے مسائل:

ماہر غذایت کے مطابق بہت زیادہ کیلے کھانے سے گیس، پیٹ پھولنے یا اسہال جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیلے میں فائبر کے ساتھ ایف او ڈی ایم اے پیز بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ کاربوہائیڈریٹس کی ایک ایسی قسم ہے جسے کچھ لوگوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے آئی بی ایس یعنی آنتوں کی تکلیف کے مرض میں مبتلا افراد یا وہ لوگ جو زیادہ فائبر والی غذاؤں کے لیے حساس ہیں، کیلے کھانے کے بعد ہاضمے سے متعلق علامات زیادہ محسوس کر سکتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید