• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اس بار یومِ آزادی پر گھر میں جھنڈیاں نہیں لگیں گی۔ اگر کسی کو زیادہ شوق ہے، تو صرف چھت پر سبز ہلالی پرچم لہرا سکتا ہے۔‘‘ دادی امّاں کا یہ فرمان گھر بھر کو انتہائی ناگوار گزرا کہ ہر سال یکم اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی گھر کے تقریباً ہر ہر گوشے، برآمدے کی منڈیروں، درو دیوارپر سبز و سفید جھنڈیوں کی بہار سی آ جاتی تھی، مگر اِس بار دادی اماں کے سپاٹ اور فیصلہ کُن لہجے میں دیے گئے خلافِ توقّع اور حیران کُن حُکم نے سب کی خوشیاں ماند سی کر دیں۔

تمام بچّے اس پریشانی اور تجسّس میں مبتلا تھے کہ آخر دادی اماں اس معاملے میں اتنی سختی کیوں برت رہی ہیں؟ یہاں تک کہ یومِ آزادی سے دو دن قبل جب پانچ سالہ حسنین نے دادی اماں کے گھٹنے تھام کر، اپنی توتلی زبان میں بہت لجاجت بَھرے انداز میں پوچھا کہ ’’دادی اماں! آخر ہم جھنڈیاں کیوں نہیں لگا سکتے؟ کیا پاکستان ہم سے ناراض ہے؟‘‘ تو دادی اماں نے بےاختیار ہی ننّھے حسنین کو اُٹھا کر گود میں بٹھایا اور باقی بچّوں کو بھی اپنے گرد جمع کر لیا۔

اُن کی چہرے پر گہری سنجیدگی، دل میں کسک اور لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔ انہوں نےحسنین کی شرٹ پرلگے پاکستانی جھنڈے والے بَیج کو پیار سے سہلاتے ہوئے بہت دھیمی مگر پُر اثر آواز میں کہناشروع کیا۔ ’’بیٹا! مَیں برسوں سے تم سب کو جشنِ آزادی کی خوشیاں مناتےدیکھ رہی ہوں۔ تم لوگ خوش ہوتے ہو، تو گھر کا آنگن مہک اُٹھتا ہے، لیکن یومِ آزادی کے اگلے روز کےمناظر میرا سینہ چھلنی کر دیتے ہیں۔‘‘ اتنا ہی کہنے کے بعد دادی امّاں کی آنکھیں نم اور لہجہ گلوگیر ہوگیا۔

انہوں نے کچھ توقّف کیا اور پھر گویا ہوئیں کہ ’’تم جشنِ آزادی منانے کے لیے اس قدر ذوق و شوق سے جو جھنڈیاں لگاتے ہو، پندرہ اگست کی صُبح وہی جھنڈیاں گھر کے فرش اور گلیوں میں پاؤں تلے روندی جا رہی ہوتی ہیں۔ تم میں سے کوئی بھی اُن کا احترام نہیں کرتا اور اگر کسی کو کچھ کہو، تو وہ فوراً غصے میں آکر کاغذ کے عام ٹکڑوں کی طرح اُنہیں کوڑے دن میں پھینک دیتا ہے، حالاں کہ یہ سبزو سفید جھنڈیاں محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں، یہ ہمارے خوابوں کی تعبیر، ہماری پہچان اور ہمارے لاکھوں بزرگوں کی قربانیوں کی امین ہیں۔‘‘

پھر وہ ایک گہری سانس لے کر بولیں کہ ’’پرچم کی حُرمت تو ہمارے ایمان کا حصّہ ہے۔ کیا آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جس پرچم کی حفاظت کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اُسے جَشنِ آزادی کے اگلے ہی دن کوڑے کرکٹ کی نذر کر دیں؟ اگر تم لوگ قومی پرچم کی حُرمت کا پاس نہیں رکھ سکتے، تو اُسے نہ لگانا ہی بہتر ہے۔

یاد رکھو، جشنِ آزادی طوفانِ بدتمیزی نہیں بلکہ ایک مقدّس عہدِ وفا کا نام ہے۔‘‘ کمرے میں مکمل سناٹا چھا چُکا تھا۔ تمام بچّوں کے سَرشرمندگی سے جُھکے ہوئے تھے۔ دادی اماں کی اس پُراثر گفتگو نے اُنہیں آج پہلی بار آزادی کی اصل قدروقیمت سے آگاہ کیا تھا اور اس دن کے بعد سے اُن کے لیے سبزہلالی پرچم اور جھنڈیاں صرف سجاوٹ کا سامان نہیں بلکہ تعظیم و تقدّس کی علامت اور اُن کی حفاظت، اُن سب کی ذمّے داری بن گئی۔