بلقیس متین، کراچی
وطنِ عزیز ’’پاکستان‘‘ محض ایک قطعۂ زمین ہی نہیں، ہماری شناخت بھی ہے کہ ہم ساری دُنیا میں پاکستان ہی کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ایک محبِّ وطن شہری کا اپنے مُلک کے ساتھ محض قلبی لگاؤ ہی نہیں ہوتا بلکہ بہت گہرا جذباتی تعلق بھی ہوتا ہے اورحُبّ الوطنی کا اولین تقاضا یہی ہے کہ اپنے وطن کے مفادات کا ہرآن تحفّظ کیا جائے، جب کہ اِس کے آئین، قوانین، اداروں اور اِس کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کا احترام وعزت بھی ہم پر واجب ہے۔ نیز، خدانخواستہ اگر کبھی وطن کی سالمیت کو کوئی خطرہ لاحق ہو، تو اپنی جان تک کی قربانی کے لیے دل و جان سے آمادہ رہا جائے۔
بلاشبہ، ایک محبِّ وطن شخص اپنی ثقافت، قومی پرچم، قومی ترانے اور قومی زبان سے عقیدت کی حد تک محبّت رکھتا ہے کہ یہ ایک فطری جذبہ ہے، جس کے تحت انسان ہمہ وقت اپنے وطن اور ہم وطنوں کی بقا و ترقّی کے لیے مصروفِ عمل رہتا ہے۔
ایک ذمّے دار اور محبِّ وطن شہری اپنے فرائض کی ادائی، قانون کی پاس داری اور امن برقرار رکھ کر وطن سے اپنی محبّت کا عملی اظہار کرتا ہے، لیکن اس وطن میں کچھ ایسے نادان لوگ بھی ہیں کہ جو نادانستہ و غیر ارادی طور پر اپنے وطن اور ہم وطنوں کے لیے باعثِ آزار بھی بن جاتے ہیں۔
یہ عاقبت نا اندیش افراد حکومت سے اختلاف یا ناراضی کا اظہار توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قومی املاک کو نقصان پہنچا کر کرتے ہیں، جو نہ صرف آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عمل اُن کے اپنے ہم وطنوں کے لیےبھی مشکلات کا سبب بنتا ہے، جب کہ ایسے کسی بھی عمل کی کسی طور بھی حمایت کی کوئی گنجائش موجودنہیں۔
دوسری جانب دینِ اسلام بھی ہمیں اپنے وطن سے محبّت کی تلقین کرتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ سےثابت ہوتا ہےکہ انسان کو اپنی جائے پیدائش یا جس جگہ اُس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصّہ گزارا ہو، ایک خاص اُنسیت اور لگاؤ ہوتا ہے۔ حدیثِ نبویؐ کے مطابق ’’تم میں سے جس نے بھی صُبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تن درست ہو اور دن بھر کی روزی اُس کے پاس موجود ہو تو گویا اُس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی۔“ (ترمذی شریف2346 :)
اِسی طرح سیّدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ’’رسول اللهﷺ جب سفر سے مدینے کی طرف لوٹتے اور مدینے کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کی رفتار تیزکردیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے (جلدی پہنچنے کے لیے)۔‘‘ (صحیح بخاری: 1802)
گرچہ بظاہر پاکستانی قوم انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطنِ عزیز پر کوئی زمینی یا آسمانی آفت آئی، تو اس قوم نے باہمی اتحاد اور یک جہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا اور خاص طور پر عصرِ حاضر اس اَمر کا متقاضی ہےکہ ہم سب مل کر نہ صرف مُلک کی تعمیروترقّی کے لیے بھرپور جدوجہد کریں بلکہ ہمہ وقت رب کے حضور مُلکی سالمیت، رواداری، بھائی چارے اور امن و سلامتی کےفروغ کے لیے جی جان سے دُعاگو بھی رہیں۔