• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محبّت، کائنات کی وہ خاموش، ازلی نغمگی ہے، جس کی بازگشت ابتدائےآفرینش سے انسانی رُوح کے تار چھیڑتی آئی ہے۔ اسے نہ آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے، نہ ہاتھوں سے چُھوا جا سکتا ہے، مگرجب اِس کی لطیف خوشبو دل کے نہاں خانوں میں اُترتی ہے، انسان کی پوری باطنی کائنات ایک نئے نُور، نئی لطافت اور نئی معنویت سے آشنا ہوجاتی ہے۔ یہ محض دل کا ایک عارضی اضطراب یا جذبات کا بےنام طوفان نہیں، بلکہ رُوح کی تہذیب، احساس کی تطہیر اور شخصیت کی تکمیل کا وہ مسلسل سفر ہے جو انسان کو خُود غرضی کی تنگ و تاریک وادیوں سے نکال کر ایثار، وفا اور فنا کی بے کنار وسعتوں تک لے جاتا ہے۔

شاید اسی لیے محبّت وہ واحد جذبہ ہے، جس سے متعلق ہر دَور کے شاعر، صوفی، فلسفی اور مفکر نےاپنی اپنی زبان میں اظہار کیا، مگراس کی گہرائی کا مکمل احاطہ کوئی بھی نہ کر سکا۔ کسی نے اِسے خدا تک پہنچنے کا زینہ کہا۔ کسی نے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت، اور کسی نے انسان کے باطن کی معراج قرار دیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ محبّت محض ایک تعلق کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل ارتقاء ہے، جو انسان کو ہر لمحہ ایک نئی منزل سے آشنا کرتا ہے۔

ہمارے کلاسیکی ادب، صوفیانہ روایت اور مشرقی حکمت میں محبّت کو ایک تدریجی سفر قراردیا گیا ہے، جو چھے دل آویز اور رُوح پرور منازل سے گزرتا ہوا اپنی معراج تک پہنچتا ہے۔ ہر منزل اپنے سےاگلی منزل کی تمہید ہے، اور ہر قدم انسان کے اندر موجود کسی نئے جہان کو بےدار کرتا ہے۔ یہ منازل ہیں: شغف، عشق، مودّت، والہیت، تَیُّم اور ہِیَم۔

یہ محض الفاظ نہیں بلکہ انسانی رُوح کے ارتقا کے چھے روشن چراغ ہیں۔ اس سفر کی پہلی منزل شغف ہے۔ یہ محبّت کی پہلی کرن، پہلی مہک اور پہلا ارتعاش ہے۔ دل کی دنیا میں کسی اَن جانی روشنی کا اُتر آنا، کسی آواز کا مدتوں تک سماعت میں گونجتے رہنا، کسی چہرے کا ہرمنظرپرچھا جانا، یا کسی نام کا دُعا کی طرح لبوں پرٹھہر رہنا، شغف کی ابتدائی نشانیاں ہیں۔

یہاں محبّت ابھی خواہش نہیں بنتی، صرف ایک نرم سی کیفیت ہوتی ہے، جو خاموشی سے دل کے دریچوں پر دستک دیتی رہتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے، جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسےاُس کے اندر ایک نیا موسم جنم لے رہا ہے۔ بہارکی پہلی نسیم کسی ویران گلستان کو جگا دے، خشک شاخوں پر اچانک کونپلیں پُھوٹنے لگیں، یا مُدّتوں سے بند کسی کھڑکی سے پہلی بارسورج کی کرن اندر آجائے، شغف کی کیفیت بس کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اِس میں شورنہیں ہوتا، مگر ایک ایسی خاموش موسیقیت ضرور ہوتی ہے، جو دل کی دھڑکنوں کو ایک نئے آہنگ سے ہم کنار کردیتی ہے۔

جب یہی شغف وقت کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں جڑیں پکڑ لیتا ہےتومحبّت دوسری منزل میں داخل ہوتی ہے، اور اُس کا نام عشق ہوجاتا ہے۔ یہاں محبوب محض پسندیدگی کا مرکز نہیں رہتا، بلکہ سوچ، خواب، دُعا، آرزو اور زندگی کے ہررنگ کا محور بن جاتا ہے۔ دن اُس کے خیال سے روشن ہوتے ہیں اور راتیں اس کی یاد کے چراغوں سے منور۔ انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کے وجود کی ہر سانس کسی ایک ہی نام کی تسبیح پڑھ رہی ہو۔ ؎ محبّت کیا ہے، تاثیرِ محبّت کس کو کہتے ہیں…؟ تیرا مجبور کر دینا، مِرا مجبور ہو جانا۔

یہی وہ کیفیت تھی، جس نے مجنوں کو صحرا نوردی پر مجبور کیا، فرہاد سے سنگلاخ پہاڑ ترشوائے، اور شعراء کے قلم کو ایسا سوز بخشا کہ صدیوں بعد بھی ان کے اشعاردلوں کی دھڑکنوں میں زندہ ہیں۔ عشق، دراصل محبّت کی وہ آگ ہے، جو جلاتی نہیں، بلکہ انسان کا باطن کندن کر دیتی ہے۔

عشق کی تیز آنچ کو اگر خلوص، صبر اور وفا کی ٹھنڈی چھاؤں میسر آجائے تومحبّت ایک نئے وقار سے آشنا ہوتی ہے، اور اُس کا نام مودّت بن جاتا ہے۔ یہی وہ منزل ہے، جہاں جذبات کی بے قراری،اعتماد کےسُکون میں ڈھل جاتی ہے۔ محبّت اب صرف دل کی دھڑکن نہیں رہتی، کردار کی خُوشبو بن جاتی ہے۔ یہاں محبوب کو حاصل کرنے کی خواہش سے زیادہ، اُسے تحفّظ دینےکی تمنا جنم لیتی ہے۔ محبّت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ اب وہ مانگنے کے بجائے دینے، جیتنے کے بجائے نبھانے اور اظہار کے بجائے خاموش احساس میں اپنی تکمیل پاتا ہے۔

مودّت کے گلستان میں محبّت کی زبان خاموش، مگر اس کی خاموشی ہزار لفظوں سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔ یہاں نگاہیں بات کرتی ہیں، دُعائیں راستہ دکھاتی ہیں، اور ایثار رشتوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔ محبوب کی خوشی اپنی خوشی، اُس کا دُکھ اپنا دُکھ، اور اُس کی عزت اپنی آبرو محسوس ہونے لگتی ہے۔ جیسے دو دریا صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد خاموشی سے ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں اور پھر کبھی اپنی الگ پہچان واپس نہ مانگیں۔

اِسی مقام پر انسان پہلی مرتبہ محسوس کرتا ہے کہ محبّت صرف جذبہ نہیں، بلکہ ایک ذمّے داری بھی ہے۔ وہ دل کو صرف بے قرار نہیں کرتی، اُسے کشادہ بھی کرتی ہے۔ صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتی، کردار کو بھی روشن کرتی ہے۔ یہی مودّت ہے، جو محبّت کو وقتی جذبے سے دائمی رفاقت میں بدل دیتی ہے۔ لیکن محبّت کا سفر یہاں مکمل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہ ایک اور وادی میں داخل ہوتی ہے، جس کا نام والہیت ہے۔ یہاں عقل کی تمام دلیلیں خاموش ہوجاتی ہیں۔ دل اپنی ہی دھڑکنوں کا اسیر بن کے رہ جاتا ہے۔ محبوب کی ایک جھلک، ایک تبسّم، یا ایک مختصر سا التفات، زندگی کےتمام دُکھوں پرغالب آجاتا ہے۔

انتظار صدیوں پرمحیط ہو تو بھی مختصر محسوس ہوتا ہے، اور وصال کا ایک لمحہ پوری عُمر کی دولت بن جاتا ہے۔ والہیت وہ مقدّس دیوانگی ہے، جس میں جنون ہوتا ہے، مگر آلودگی نہیں، بےخُودی ہوتی ہے، مگر بےوقاری نہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے، جس نے لیلیٰ کا نام مجنوں کی سانسوں میں بسا دیا، شیریں کے لیے فرہاد کے ہاتھ تیشہ پکڑوا دیا، اور سسّی کو تپتے ریگ زاروں میں پُنّوں کی تلاش پر آمادہ کیا۔

ان داستانوں کی اصل عظمت وصال میں نہیں، بلکہ اُس بے لوث وفا میں ہے، جو محبّت کو زمانے کی گرد سے محفوظ رکھتی ہے۔ غالب نےغالباً اِسی کیفیت کو یوں بیان کیا ؎ عشق نے غالبؔ نکما کر دیا… ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے۔ یہ شعر اگرچہ ظاہری طور پر کچھ شوخی سی رکھتا ہے، مگر اس کے باطن میں یہ گہری حقیقت پوشیدہ ہے کہ محبّت جب دل پر پوری طرح غالب آجائے تو دنیا کی بہت سی ترجیحات اپنی چمک کھوبیٹھتی ہیں، یہاں تک کہ صرف محبوب کی ذات ہی مرکزِ نگاہ رہ جاتی ہے۔

والہیت کے بعد محبّت ایک اور بلند تر مقام پر فائز ہوجاتی ہے، جسے اہلِ لغت اور اہلِ دل تَیُّم کہتے ہیں۔ یہ محبّت کی وہ منزل ہے، جہاں محبوب صرف پسندیدہ نہیں رہتا، بلکہ محترم اور مقدس بن جاتا ہے۔ اُس کی رضا اپنی ہر خواہش سے بڑھ کر عزیز محسوس ہوتی ہے۔ یہاں محبّت خواہش کی نہیں، عقیدت کی زبان بولتی ہے۔ انسان اپنی انا کا بوجھ اُتار دیتا ہے اور انکسار کا لباس پہن لیتا ہے۔ تَیُّم دراصل محبّت کا وہ روشن چراغ ہے، جس کی لو میں خُودی کا اندھیرا پگھلنے لگتا ہے۔

یہاں عاشق اپنی ذات کو محبوب کے رنگ میں اِس طرح رنگ لیتا ہے کہ اُس کی پسند اپنی پسند، اُس کی راہ اپنی راہ، اور اُس کی مسکراہٹ اپنی کام یابی محسوس ہونے لگتی ہے۔ محبّت اب دعویٰ نہیں رہتی، دُعا بن جاتی ہے۔ آرزو نہیں رہتی، عبادت بن جاتی ہے۔ صوفیاء نے شاید اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ محبّت کا ہر اگلا قدم محبوب کے قریب لے جانے سے پہلے انسان کو اپنی ذات سے دُور کرتا ہے۔ کیوں کہ جب تک ’’مَیں‘‘ باقی رہتی ہے، ’’ہم‘‘ کا آفتاب پوری آب و تاب سے طلوع نہیں ہوتا۔

محبّت کی لطافت عشق کی تپش، مودّت کی پختگی، والہیت کی بےخُودی اور تَیُّم کی عقیدت سے گزرلیتی ہے تو، اپنی آخری اور بلند ترین منزل، ہِیَم پر قدم رکھتی ہے۔ اہلِ عرفان اسے فنائے ذات کا نام دیتے ہیں، کیوں کہ یہی وہ مقام ہے، جہاں محبّت اپنی تمام خواہشات، تمناؤں اورمطالبوں کا بوجھ اتارکر خالص ایثار، خالص وفا اور خالص قربانی کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ یہاں محبّت پانے کی آرزو نہیں کرتی، دینے میں اپنی تکمیل تلاش کرتی ہے۔ محبوب کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتی، بلکہ اپنے آپ کو اس کے لیے بہتر بنانے کا ہنر سیکھ لیتی ہے۔ یہاں انسان اپنے آرام، اپنی خواہش، اپنی انا اور کبھی کبھی اپنی پوری ہستی تک کو محبوب کی ایک مسکراہٹ پر نثار کردیتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں محبّت عبادت کے قریب پہنچ جاتی ہے، اورعبادت محبّت کی خوشبو سےمعطّر ہوجاتی ہے۔ ہِیَم کی منزل میں عاشق یہ نہیں سوچتا کہ اُسے کیا ملا، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ وہ محبوب کے لیے کیا بن سکا۔ یہاں محبّت کا پیمانہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ خُود کو نچھاور کردینا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبّت کی سب سے عظیم داستانیں وصال سے نہیں، قربانی سے امر ہوئیں۔ تاریخ کو اگر شہرت نے زندہ رکھا ہے، تو محبّت کو ایثار نے۔ ایک ماں جب برسوں اپنی نیند، اپنا آرام اور اپنی خواہشیں اولاد کے لیے قربان کرتی ہے، تو وہ محبّت کے اِسی مقام پر کھڑی ہوتی ہے۔

وطن کا سپاہی جب سرحد پر اپنے لہو سے مٹّی کی حُرمت لکھتا ہے، تو وہ بھی فنائے ذات ہی کا ایک روشن استعارہ بن جاتا ہے۔ ایک سچّا عاشق بھی جب محبوب کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدّم رکھتا ہے، تو وہ بھی دراصل اِسی منزل کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے صوفیاء نے کہا ہے کہ محبّت کا سب سے حسین پھول قربانی ہے۔ جس محبّت میں ایثار نہیں، وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی۔ اور جس محبّت میں اپنی ذات کو پیچھے رکھنےکا حوصلہ پیدا ہوجائے، اُسے زمانے کی آندھیاں بھی مُرجھا نہیں سکتیں۔

جگر مراد آبادی نے محبّت کی اِسی کٹھن مگر مقدّس راہ کو اپنے لازوال شعر میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے ؎ یہ عشق نہیں آساں، اِتنا ہی سمجھ لیجے… اِک آگ کا دریا ہے، اورڈوب کے جانا ہے۔ یہ شعر صرف عشق کی دشواری کا بیان نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعلان بھی ہے کہ محبّت کی معراج کنارے کھڑے رہنے والوں کو نہیں ملتی۔ اس کے لیے اپنی انا، اپنے خوف، خُودغرضی اور محدود خواہشوں کو اِک آگ کے دریا میں بہانا پڑتا ہے اور جو ڈوبنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی محبّت کے موتی حاصل کرتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ محبّت کا ہر مرحلہ دراصل انسان سے کچھ چھینتا نہیں، بلکہ اُسےکچھ عطا ہی کرتا ہے۔ شغف دل کو بےدار کرتا ہے، عشق اُسے حرارت بخشتا ہے، مودّت وقار دیتی ہے، والہیت خلوص عطا کرتی ہے، تَیُّم انکسار سکھاتا ہے، اور ہِیَم اسے اپنی ذات سے بلند کر کے انسانیت کی معراج تک پہنچا دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ محبّت کا حُسن صرف وصال میں نہیں، بلکہ اس طویل اور پُرآشوب سفر میں پوشیدہ ہے، جو انسان کو خُود غرضی سے ایثار، خواہش سے وفا، اور انا سے فنا تک لے جاتا ہے۔ محبّت کی ہر منزل انسان کے باطن سے ایک پردہ ہٹا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی روشنی دریافت کر لیتا ہے، جس کا اُسے پہلے کبھی احساس نہیں ہوتا۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ محبّت کسی دوسرے کو پانے سے پہلے، اپنے آپ کو پالینے کا نام ہے۔ اور دل جب محبّت کے ان تمام موسموں سے گزر لیتا ہے تو اس کے اندر نفرت کی جگہ شفقت، انتقام کی جگہ درگزر، حسد کی جگہ خلوص، اور تنگ نظری کی جگہ وسعت جنم لیتی ہے۔ پھر محبّت کسی ایک چہرے، ایک رشتے یا ایک تعلق تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، احترام اور خیرخواہی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے صوفیاء نے ’’دل کا زندہ ہو جانا‘‘ کہا ہے۔

محبّت کا اصل حُسن یہ نہیں کہ وہ خوشیوں کے موسم میں کتنی خُوب صُورت دکھائی دیتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ دُکھوں، فاصلوں، محرومیوں اور آزمائشوں کے اندھیروں میں بھی وہ اپنی روشنی برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ آسانیوں میں وفا کا دعویٰ کرنا سہل ہے، مگرمحبّت کی صداقت اس وقت آشکار ہوتی ہے، جب حالات مخالف، رستے دشوار ہوں، اور اُمید کی آخری شمع بھی لرز رہی ہو۔ وہی محبّت سچی ہے، جو موسم بدلنے سے اپنا رنگ نہ بدلے، اوروقت گزرنےسے اپنی خُوشبو نہ کھوئے۔ شاید اِسی لیے محبّت کو کائنات کی سب سے بڑی تخلیقی قوت کہا گیا ہے۔

یہی وہ جذبہ ہے، جو شاعر کے قلم کو سوزبخشتا، مصور کے رنگوں کو زندگی دیتا ہے، موسیقار کے ساز میں نغمگی پیدا کرتا ہے، ماں کی گود جنت بنا دیتا ہے، اور ایک سپاہی کو وطن کی حُرمت پرجان نچھاور کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ محبّت جہاں بھی اپنے خالص اور بےغرض رُوپ میں جلوہ گر ہوتی ہے، وہاں زندگی کو ایک نئی معنویت عطا کردیتی ہے۔ آخرکار انسان پر یہ رازمنکشف ہوتا ہے کہ محبّت کسی دوسرے کو اپنی مِلکیت بنا لینے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ذات کی تنگ وتاریک فصیلوں سے نکل کرایثار، عرفان اور نور کی بےکنار وسعتوں میں داخل ہونےکا نام ہے۔

جو محبّت دل کو کشادہ، کردار کوبلند، نگاہ کو پاکیزہ اور رُوح کو منور نہ کرے، وہ محض کشش یا خواہش تو ہو سکتی ہے، محبّت نہیں۔ محبّت کی سب سے بڑی فتح محبوب کو پا لینا نہیں، اپنے اندر اُس انسان کو بےدار کرنا ہے، جو دوسروں کے لیے رحمت بن جائے۔ جب انسان اپنی ذات کے گرد کھینچی ہوئی دیواریں گرا دیتا ہے، اپنی ’’میں‘‘ کو ’’ہم‘‘ میں ڈھال لیتا ہے اور اپنی خوشی، دوسروں کی خوشی میں تلاشنے لگتا ہے، تب وہ محبّت کی معراج چُھولیتا ہے۔ یہی فنائے ذات ہے، یہی عرفانِ محبّت اور یہی انسان ہونے کا سب سے روشن اور مقدّس مقام ہے۔

شاید محبّت کا آخری سبق بھی یہی ہے کہ عظمت اختیار میں نہیں، ایثار میں ہے۔ برتری لینے میں نہیں، دینے میں ہے اور زندگی کی حقیقی کام یابی دوسروں پر غالب آنے میں نہیں، اپنے نفس پر غالب آجانے میں ہے۔ محبّت کی معراج محبوب تک پہنچنا نہیں، بلکہ خُود محبّت کا پیکر بن جانا ہے۔ جب انسان کی ذات سے روشنی، کردار سے وفا، لبوں سے دُعا، اور دل سے رحمت پُھوٹنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ اُس نے محبّت کے سفر کی آخری منزل پا لی ہے۔

(مضمون نگار اپنے زمانے کے معروف مقرّر، سابق آئی جی پولیس سندھ اور سابق محتسبِ اعلیٰ ہیں)