تاریخِ پاکستان کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ قائدِاعظم محمّد علی جناح نے مُلک کے ہر خطّے کو یک ساں اہمیت دی۔ بلوچستان، جو آج رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، قائدِاعظم کی سیاسی بصیرت کے مطابق محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے استحکام، دفاع اور مستقبل کی ترقی کا بنیادی ستون تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ پاکستان سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد تک بلوچستان اُن کی بھرپور توجّہ کا مرکز رہا۔
تحریکِ پاکستان کے دوران قائدِ اعظم نے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور عوام سے مسلسل رابطہ رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک مضبوط وفاق اسی وقت قائم ہوسکتا ہے، جب تمام اکائیاں باہمی اعتماد، آئینی بالادستی اور مساوی حقوق کی بنیاد پر متحد ہوں۔ اُن کی سیاست کا بنیادی اصول ہی یہ تھا کہ ریاست کی طاقت اُس کے عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ محض اقتدار کے استعمال میں۔
قائدِاعظم کی زندگی کے آخری ایّام بھی بلوچستان سے محبت و عقیدت کے گواہ ہیں۔ 1948ء میں وہ خرابیٔ صحت کے باعث زیارت منتقل ہوئے، جہاں قدرتی ماحول میں ان کے علاج کی کوشش کی گئی اور زیارت ریزیڈنسی آج بھی اس تاریخی تعلق کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں بانیٔ پاکستان نے اپنی زندگی کےآخری دن گزارے۔ اس اعتبار سے بھی بلوچستان کو قائدِ اعظم کی زندگی میں ایک منفرد تاریخی مقام حاصل ہے۔
11 اگست 1947ء میں، دستورساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں قائدِاعظم نے جس ریاست کا تصور پیش کیا، اُس کی بنیاد قانون کی حُکم رانی، مساوات، انصاف اور مذہبی آزادی پر رکھی گئی۔ اور یہ اصول و ضوابط آج بھی بلوچستان سمیت پورے پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے اُتنے ہی اہم ہیں، جتنے قیامِ پاکستان کے وقت تھے۔
بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی بلوچستان تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، روزگار، مواصلات اور صنعتی ترقی جیسے بنیادی شعبوں میں متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ اگرچہ مختلف ادوار میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع بھی کیے گئے، مگر عوام کی ایک بڑی تعداد تاحال ان کے ثمرات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو سکی، جب کہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا مجموعی استحکام بلوچستان کی پائےدار ترقی ہی سے مشروط ہے۔
بلوچستان قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، طویل ساحلی پٹی اور نوجوان افرادی قوت سے مالامال صوبہ ہے۔ اگر ان قیمتی وسائل کو شفّاف منصوبہ بندی، میرٹ، مقامی شمولیت اورمؤثر حُکم رانی کے ذریعے بروئے کار لایا جائے تو یہ صوبہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یاد رہے، قائدِ اعظم محمّد علی جناح کا خواب صرف ایک آزاد وطن کا قیام نہیں، بلکہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل تھا، جہاں ہر شہری کو مساوی مواقع، انصاف اور عزتِ نفس میسّر ہو۔ اور بلوچستان کےتناظر میں یہ خواب آج بھی ہماری قومی ذمّے داری ہے۔ جب تک اس صوبے کے عوام خُود کو مُلکی و قومی تعمیر و ترقی کےدھارے میں شریک محسوس نہیں کریں گے، قائدِ اعظم کے وژن کی مکمل تعبیر ممکن نہیں ہوگی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائدِ اعظم کی تعلیمات کو محض تقریروں اور یادگاری تقاریب تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں حُکم رانی، قانون کی بالادستی، عوامی خدمت، قومی یک جہتی اور بلوچستان کی حقیقی ترقی کی صُورت عملی جامہ پہنائیں کہ یہی قائدِ اعظم سے حقیقی محبت و عقیدت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔