• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر : افشاں نوید

مہمان: مہ وش علی، انمول راجپوت، حسن خان

ملبوسات: Garnet

آرائش: Javaid bips

عکّاسی: عرفان نجمی

کوارڈینیشن: عابد بیگ

لےآؤٹ: نوید رشید

’’سبزوسفید‘‘ محض دو رنگ نہیں، یہ ہمارے دِلوں میں بسے ایک گہرے احساس کی علامت ہیں۔ یہ رنگ ہماری شناخت، اُمید، خوشیوں اور ہمارے عہدِ وفا کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جب یومِ آزادی کے موقعے پر بچّے اپنے چہروں پر قومی پرچم کے رنگوں سے پینٹ کرتے ہیں تو یہ صرف ایک تہوار کی خوشی نہیں ہوتی، بلکہ پس منظر میں مملکتِ خداداد، دینِ اسلام کے نام پر حاصل کردہ اپنے پیارے وطن، پاک دھرتی سے بے پایاں محبّت و اُلفت کے جذبات و احساسات بھی موجزن ہوتے ہیں۔

ہمارے قومی پرچم کا بنیادی ’’سبز رنگ‘‘ ایک طرف زندگی، ہریالی کی علامت، اُمید کا استعارہ ہے، تو دوسری طرف ’’گنبدِ خضرا‘‘ کے سبب ایک خاص روحانی نسبت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبزرنگ ہمارے لیے محض رنگ نہیں، ہمیں اِس سے کچھ الگ ہی عقیدت و محبّت، وابستگی و وارفتگی محسوس ہوتی ہےاور یہ رنگ جب ہماری نوجوان نسل کے ملبوسات، ایکسیسریز (دوپٹوں، چوڑیوں، زیورات وغیرہ) میں نمایاں ہوتا ہے، تو یوں لگتا ہے، جیسے مادرِ گیتی سے محبّت کا ایک خُوب صُورت اظہار تمام ترجمال کے ساتھ مجسّم ہوگیا ہو۔ اور سفید رنگ… جو سبز کے ساتھ ہمارے عظیم ہلالی پرچم کو مکمل کرتا ہے، امن وآشتی، تقدّس و پاکیزگی اور رواداری کا پیام بر ہے۔ یہ سفید حصّہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا تصوّر صرف ایک جغرافیائی خطّے کے حصول تک محدود نہیں تھا،بلکہ یہ ایک ایسے معاشرے کا خواب تھا، جہاں مسلمانوں کے ساتھ مختلف مذاہب اور گروہوں سے تعلق رکھنے والے بھی امن وامان کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارسکیں۔

یوں سبزوسفید مل کر ایک ایسے وطن کی تصویر بناتےہیں، جس میں ایمان بھی ہو، امن بھی، اُمید بھی اور انسانیت بھی۔ اور تب ہی بنتا ہے، ہمارا پیارا پاکستان۔ وطن سے محبّت اگر انسان کو مُلک کی خدمت، بھلائی، فلاح و بہبود، امن وامان اور تعمیروترقی کی طرف لے جائے تو یہ پاکیزہ جذبہ عبادت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے، جب نوجوان لڑکے، لڑکیاں سبزوسفید ملبوسات پہن کر یومِ آزادی مناتے ہیں تو ان رنگوں میں خوشی کے ساتھ وطن کے لیے دُعا، شُکر اور ذمّے داری کا احساس بھی شامل ہوتا ہے اور یہی تو ہماری نئی نسل کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار بھرپور انداز سے کرتی ہے۔ یہ سبز و سفید پہناوے، دوپٹے، چُوڑیاں، جُھمکے، بالیاں، بینڈز اور ہینڈ، فیس پینٹنگز…سب اُسی خالص، پوتّرمحبّت وعقیدت کا اظہار ہیں، جو ہمیں وَرثے میں ملی ہے۔ یہ محبّت ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔

سبزہلالی پرچم جب بلندیوں پر لہراتے ہیں، سبز و سفید جھنڈیاں جب دیواریں، دریچے، آنگن مزیّن کرتی ہیں،تویہ سجاوٹ و آراستگی ہمیں احساس دلاتی ہے کہ آزادی کتنی عظیم نعمت ہے اور ہر نعمت شُکر کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن آزادی کا شُکر صرف زبان سے نہیں، کرداروعمل اور ذمّےداری سے ادا ہوتا ہے۔ یہ پرچم ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے آزاد وطن کے لیے ہجرت کی، اپنے بسے بسائےگھر بار، عزیزواقارب، دوست احباب چھوڑے۔ کتنے خاندان اُجڑے، کتنے خواب بکھرے، کتنے قیمتی پیاروں کو کھویا، تب جا کر ہمیں یہ آزاد وطن نصیب ہوا۔ اِن رنگوں سے ہمیں اپنے ماضی کی قربانیوں کی خوشبو آتی ہے، تو مستقبل کی اُمیدیں بھی جِلا پاتی ہے۔

بقول اختر سعیدی ؎ فضا میں جب بھی لہراتا ہے پاکستان کا پرچم… بڑا دل کش نظر آتا ہے پاکستان کا پرچم… ہمیں اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے…ہمیں یہ بات سمجھاتا ہے پاکستان کا پرچم۔ یاد رہے، نوجوان نسل کے لیے یہ دن اپنے ماضی ہی نہیں، مستقبل سے بھی عہدِ وفا کا دن ہے۔ آج جو بچّے سبزوسفید رنگوں سے سج سنور رہے ہیں، کل اُنھوں نے ہی یہ مُلک بھی سنوارنا ، نکھارنا ہے کہ اُن کے ہاتھوں میں موجود کتابیں، ذہنوں میں علم کی روشنی، کردارمیں صداقت ودیانت اور قلب ورُوح میں بسی وطن کی محبت ہی پاکستان کا کُل سرمایہ ہے۔

سو، حب الوطنی صرف آرائش و زیبائش ہی کی حد تک نہ ہو کہ درحقیقت ایک طالبِ علم کادل لگا کر علم حاصل کرنا، استادکا اِخلاص سے تعلیم دینا، معالج کا انسانیت کی بےلوث خدمت، تاجر کا دیانت داری سے کاروبار اور ایک شہری کا اپنے فرائض پوری ذمّےداری سےادا کرنا حب الوطنی ہے۔ بلاشبہ آج اگر ہم سب اپنے اپنے حصّے کا چراغ روشن کرنے کی سعی کریں، تو کل پورے وطن میں اجالا ہوسکتا ہے۔ ہم سب ہی کو تعمیرِ وطن میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا، تب ہی آنے والی نسلوں کو اِس سے کہیں بہتر پاکستان میسّر آئے گا۔ وہ کیا ہے کہ ؎ خونِ دل دے کے نکھاریں گے رُخِ برگِ گلاب… ہم نے گلشن کے تحفّظ کی قسم کھائی ہے۔

تو آئیے! اِس یومِ آزادی، اپنے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے، دِلوں میں بھی اس کی محبّت کا پرچم بلند کریں۔ خُود سے عہد کریں کہ اپنے اختلافات بُھلا کے نفرتوں کے بجائے رواداری کوفروغ دیں گے۔

اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، پُرامن اور خوش حال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔ اور رحمان فارس کی اس خُوب صُورت تمنا اور دُعا کہ ؎ ’’پیروں تلے یہ صحن، سَروں پر یہ چھت رہے…یارب! ہمارے گھر میں سدا خیریت رہے… پُرکھوں کی پگڑیوں سے بنا ہے مِرا عَلَم…تا حشر پُروقار مِری مملکت رہے…یارب! گُلِ وطن ہے عطائے محمدیؐ… خوشبوئے امن اِس میں پرت در پرت رہے… فارس! نبھا سکوں مَیں محبّت وطن کے ساتھ…تاعُمر میرے دل میں وفا کی سکت رہے‘‘کے ساتھ، ہماری طرف سے ’’جشنِ آزادی اسپیشل‘‘ بزم کی صُورت یہ چھوٹاسا ہدیہ قبول فرمائیں۔ اللہ کریم ہمارے پیارے وطن پاکستان کو امن واستحکام، خوش بختی وخوش حالی عطا فرمائے، ہماری نوجوان نسل کے دِلوں میں پاکستان کی محبّت زندہ وپائندہ رکھے۔ آخر میں بآوازِ وجیہ ثانی ایک نعرۂ بلند ہو جائے ؎ میرے آزاد، ابد آباد وطن زندہ باد… تیرے صحرا، تِرے کہسارو چمن زندہ باد۔