پاکستان کی برآمدات گزشتہ کئی سالوں سے تھوڑی بہت کمی بیشی سے ایک ہی سطح پر رکی ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے تشویشناک امر یہ ہے کہ مالی سال 2026ء کے دوران برآمدات میں تقریبا ساڑھے پانچ فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کا مجموعی تجارتی خسارہ تقریبا ساڑھے 39 ارب ڈالر رہا۔ اس حوالے سے گروپ وائز جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے ٹیکسٹائل گروپ کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے دوران کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا جبکہ فوڈ گروپ کی برآمدات میں تقریبا ساڑھے 29 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے مقابلے میں آئی ٹی اور سروسز سیکٹر کی برآمدات 21 فیصد اضافے سے 4.6 ارب ڈالر رہیں جبکہ کھیلوں کے سامان بالخصوص فٹ بال کی برآمدات میں 11 فیصد کا اضافہ ہوا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی کوششوں کے باوجود عملی طور پر پاکستان کی برآمدات میں اضافہ جمود کا شکار ہے۔ دوسری طرف تقریباً 39.5 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق معیشت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ علاوہ ازیں مالی سال 2026 کے دوران برآمدات میں ساڑھے پانچ فیصد سے زائد کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صرف روایتی برآمدی شعبوں بالخصوص ٹیکسٹائل پر مکمل انحصار سے برآمدات میں اضافے کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ آئی ٹی سروسز اور کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافہ حوصلہ افزا ہے لیکن برآمدات میں فوری اور دیرپا اضافہ کرنے کے لئے پاکستان کو برآمدات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں فیشن، فرنیچر، جیمز اینڈ جیولری اور ہینڈی کرافٹس جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان شعبوں میں نہ صرف پاکستان کے پاس برآمدات میں اضافے کی وسیع صلاحیت اور استعداد موجود ہے بلکہ دنیا بھر میں یہ صنعتیں اربوں ڈالر کی مارکیٹ رکھتی ہیں جن سے پاکستان تاحال خاطر خواہ استفادہ نہیں کر سکا ہے۔پاکستانی فیشن انڈسٹری اس وقت مقامی سطح پر تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ملک میں درجنوں برانڈز بین الاقوامی معیار کے ملبوسات تیار کر رہے ہیں لیکن ان کی عالمی مارکیٹ تک رسائی محدود ہے۔ اگر حکومت بین الاقوامی فیشن شوز میں پاکستانی برانڈز کی شرکت، ای کامرس پلیٹ فارمز تک رسائی اور میڈ اِن پاکستان برانڈنگ کو فروغ دے تو ریڈی میڈ گارمنٹس اور ڈیزائنر ویئر کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح پاکستان میں لکڑی، بانس، دھات اور دیگر خام مال سے اعلیٰ معیار کا فرنیچر تیار کیا جاتا ہے جس کی مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ میں بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ تاہم جدید ڈیزائن، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور برانڈنگ کی کمی اس شعبے کی برآمدات بڑھانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے اگر فرنیچر مینوفیکچررز کو جدید مشینری، ڈیزائن سینٹرز اور ایکسپورٹ مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے تو یہ صنعت لاکھوں ڈالر کی اضافی برآمدات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں روزگار کی فراہمی میں اضافے کا بھی باعث بنے گی۔
پاکستان میں جیمز اینڈ جیولری کا شعبہ بھی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ پاکستان کے پہاڑے علاقے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہیں۔ پاکستان کے زمرد، یاقوت، ٹوپاز، ایکوامیرین اور دیگر قیمتی پتھر دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں لیکن ان کی بڑی مقدار خام حالت میں برآمد کر دی جاتی ہے۔ اس لئے اگر ملک میں مقامی طور پر جدید کٹنگ، پالشنگ، ڈیزائننگ اور جیولری مینوفیکچرنگ کی صنعت کو فروغ دیا جائے تو انہی پتھروں سے کئی گنا زیادہ آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تھائی لینڈ اور بھارت جیسے ممالک اس کی بہترین مثال ہیں جہاں درآمد شدہ پتھروں کو ویلیو ایڈ کر کے اربوں ڈالر کی جیولری برآمد کی جاتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ہینڈی کرافٹس بھی برآمدات بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے پنجاب کے دیہات میں سرکنڈوں سے بنائی جانے والی گھریلو اشیاء، بلوچی کشیدہ کاری، سندھی اجرک، ملتان کی نیلی مٹی کی مصنوعات، چنیوٹ کا فرنیچر، اونٹ کی کھال سے بنی اشیا، ہاتھ سے بنے قالین اور دستکاری کی دیگر مصنوعات عالمی مارکیٹ میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ ان مصنوعات کو ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز، عالمی نمائشوں اور سیاحتی صنعت کے ساتھ منسلک کر کے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔