• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاق ہی مذاق میں اکثر گہری باتیں کہہ دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان کا ایک جملہ خاصا مشہور ہوا تھا: ’’اگر امریکہ نہ ہوتا تو یورپ آج جرمن (زبان) بول رہا ہوتا‘‘۔ وہ یورپی ملکوں کو نیٹو اور مشترکہ دفاع کے حوالے سے اخراجات میں زیادہ حصہ لینےکیلئے قائل کرنا چاہتے تھے تاکہ امریکہ کا مالی بوجھ کم ہو۔ انکی گفتگو کا مفہوم یہ تھا کہ اگر امریکہ دوسری جنگ عظیم میں شامل نہ ہوتا تو نازی جرمنی کی بھرپور تیاریوں سے شروع کردہ جنگ عظیم دوم کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ اس صورت میں یورپی ممالک جرمنی کے زیر تسلط ہوتےاور وہاں جرمن زبان کا راج ہوتا اب صحافیوں سے ایک گفتگو میں جاپانی کرنسی ’’ین‘‘ کو مضبوط بنانے کے ضمن میں امریکی اقدامات پر سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا : ’’جاپان ہمارے لئے بہت اچھا رہا ہے ،البتہ پرل ہاربر کو چھوڑ کر ۔‘‘ امریکی صدر نے بات تو مسکرا کر کی تھی مگر انہوں نے پرل ہاربر کا جو حوالہ دیا وہ امریکیوں کی یادوں کے حوالے سے ایک تکلیف دہ واقعہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان نے 7دستمبر 1941کو ہوائی میں واقع امریکی بحری اڈے پرل ہاربر پر اچانک حملہ کر کے امریکہ کو جانی اور عسکری لحاظ سے بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ اسی حملے نے امریکہ کو دوسری عالمی جنگ میں براہ راست اترنے پر مجبورکیا۔ تقریباً چار سال بعد ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کے ساتھ اس جنگ کا خاتمہ ہوا تھا مگر پرل ہاربر کا زخم آج بھی امریکی قومی حافظے کا حصہ ہے۔ جہاں تک ہیروشیما اور ناگاساکی پر کئے گئے ایٹمی حملوں کا تعلق ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ دوسری جنگ عظیم کا آخری مرحلہ آچکا تھا۔ جرمنی کے ہتھیار ڈالنے اور یورپ میں جنگ کے شعلے بجھنے کے باوجود بحرالکاہل کے محاذ پر لڑائی کا جاری رہنا خطرے کی علامت تھا۔ لہذا جاپان سے فوری طور پر ہتھیار ڈلوانا ضروری تھا۔ فیصلہ سازوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ایٹم بم کے استعمال سے جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور مزید جانی نقصان سےبچا جا سکےگا۔ یوں چھ اگست 1945کو وہ واقعہ رونما ہوا کہ یہ تاریخ کیلنڈر کا ہندسہ نہ رہی اور انسانی تاریخ کے ہولناک باب کا عنوان بن گئی۔ یہ تصور ہی بڑا ہبیت ناک ہے کہ ہیروشیما میں صبح کے بعد معمولات زندگی شروع ہوں اور ایک بی ۔29بمبار طیارہ بم پھینک کر ایسی تباہی ، ایسے المیے، ایسے تابکار اثرات پھیلا دے جن کا تصور بھی محال ہو۔ اور جب دنیا اس واقعہ کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہو تو تیسرے ہی دن 9اگست 1945 کو دوسرا بمبار طیارہ ناگاساکی میں ایسی ہی تباہی پھیر کر چلا جائے۔ دونوں شہروں میںہزاروں انسان فوری طور پر ہلاک ہوئے۔ لاکھوں متاثر ہوئے اور تابکاری نے آنے والی نسلوں تک اپنا سایہ قائم رکھا۔ 2ستمبر 1945کو ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پرباضابطہ دستخطوں کے بعد دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔یہاں سے جاپان کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس وقت کا جاپان کھنڈرات بنے شہروں، مفلوج معیشت اور شدید خوف، بھوک، بے یقینی کی کیفیت والا ملک تھا، مگر اسی تباہی کے اندر سے تعمیر نو کا ایک طاقتور جذبہ نمایاں ہوا۔ پوری قوم اپنی قیادت کی رہنمائی میں منظم ہو کر ایک نئے جاپان کی تشکیل کی انتھک جدوجہد میں مصروف ہو گئی ۔ جاپان جغرافیائی اعتبار سے قدرتی آفات اور چیلنجوں سے گھرا ملک ہے۔ زلزلے، سونامی اور آتش فشاں اس سرزمین کا مستقل حصہ ہیں۔ وسائل محدود ہیں۔ زمین کم ہے۔ مگر انسانی محنت اور نظم و ضبط کو جاپانیوں نے اپنی طاقت بنا لیا۔ ایسے شہر تعمیر کئے جو زلزلوں کو برداشت کر سکیں۔ ایسے نظام بنائے جو بحران میں بھی چلتے رہیں۔ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جو دبائو میں بھی بکھرتا نہیں۔ اس قوم نے تعلیم کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا۔ اسکولوں میں صرف کتابی علم نہیں دیا گیا بلکہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، اجتماعی ذمہ داری اور محنت کی عادت ڈالی گئی۔ نوجوانوں کو فنی تربیت دی گئی تاکہ وہ صنعت ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

جاپان نے سمجھ لیا تھا کہ محدود وسائل رکھنے والا ملک بھی ترقی کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ انسانوں کو سب سے بڑا سرمایہ سمجھے۔ اسی سوچ کے تحت تحقیق، انجینئرنگ اور صنعت کو فروغ دیا گیا۔ کارخانوں میں معیار کو اہمیت دی گئی۔ معمولی سے معمولی بہتری کو بھی ترقی کا حصہ سمجھا گیا۔ یوں چند دہائیوں میں وہ جاپان جو کبھی جنگ کی تباہی کی علامت تھا۔ صنعت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ جاپانی مصنوعات معیار، اعتماد اور جدت کی پہچان بن گئیں۔ جاپان کی ترقی کا راز صرف مالی وسائل یا بیرونی مدد میں مضمر نہیں رہا۔ اس کے پیچھے ایک پوری قوم کا عزم تھا جس نے شکست اور مشکلات کو جواز نہیں بنایا بلکہ محنت، جدوجہد اور کاوش کو اپنا شعار بنا لیا۔ جاپانیوں نے اپنی سماجی روایات کی بطور خاص حفاظت کی ہے جن کی بنیاد ہی اجتماعیت کے مضبوط شعور، ایک دوسرے کے حقو ق کے احترام اور نظم و ضبط پر ا ستوارہے۔ صفائی اور ستھرائی ایسی ذمہ داری کی حیثیت رکھتی ہے جس پر بچوں سے لے کر معمر افراد تک کی خاص توجہ رہتی ہے، جاپانی معاشرے کا یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ بحران کے وقت بھی لوگ نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہیں۔ زلزلے یا سونامی کے دوران بھی ممکنہ حد تک نظم و ضبط ملحوظ رکھتے ہیں۔ قطار بندی ایسا معمول ہے جس کے باعث امدادی سامان کی تقسیم ہو یا کوئی اور معاملہ، ہڑبونگ کی صورت حال نظر نہیں آتی، یہی تربیت لوگوں سے گفتگو میں احترام کے پہلو ملحوظ رکھنے میں بھی کار فرما نظرآتی ہے۔ بات بات پر شکریہ ادا کرنے کی عادت پورے ماحول کے ایک خاص تہذیب میں رچے ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ گمشدہ اشیا درست مقام پر پہنچانے کا کلچر مضبوط ہے جبکہ جاپان میں جرائم کی شرح نمایاں طور پر کم ہے۔جاپان کی کہانی ایسی قوم کی جہد مسلسل کی کہانی ہے جو آج بھی اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے مستقبل کو مسلسل بہتر بنانے میں مصروف ہے۔

تازہ ترین