بھارت میں جمہوری مزاج کے استحکام اور پختگی کا ایک نہایت متاثر کن مظاہرہ ریاست بہار کے بانکی پور نامی حلقے کے ضمنی الیکشن میں صوبے اور مرکز کی حکمراں جماعت بی جے پی کی تیس سال کی مدت میں پہلی شکست اور ایک نئی سیاسی پارٹی جن سوراج کے لیڈر پرشانت کشور کی شاندار فتح کے بعد بی جے پی کی قیادت کی جانب سے اس نتیجے کو کسی حیل و حجت کے بغیر قبول کرنے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ پرشانت کشور نے 64151 ووٹ حاصل کیے جبکہ بی جی پی کے امیدوار نیر ج کمار سنہا کے حصے میں 44250 ووٹ آئے۔ پرشانت کشور نے نیرج سنہا کو19ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا۔ اس نتیجے پر بی جے پی کے مقامی قائداور ریاستی وزیر وجے کمار سنہا نے فوری طور پر جس ردعمل کا اظہار کیا اس میں کسی شکوے شکایت اور الزام تراشی کا ذرّہ برابر شائبہ نہ تھا۔ اس کے برعکس، روزنامہ منصف حیدر آباد کی رپورٹ کے مطابق، اُن کا کہنا تھا کہ ’’ ہماری پارٹی جمہوری اظہار ِاعتماد کا احترام کرتے ہوئے عوام کا فیصلہ قبول کرتی ہے۔ بی جے پی الیکشن میں ہارنے پر الیکشن کمیشن یا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر الزام نہیں دھرتی۔ ہماری پارٹی کو جمہوریت اور آئینی اداروں پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘ انہوں نے نتیجے کو چیلنج کرنے کے کسی اعلان کے بجائے واضح کیا کہ ’’ بانکی پور کے نتائج کا تنظیمی سطح پر اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا۔ کیا کمی رہ گئی تھی اس کا پتہ چلایا جائے گا۔ یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ بی جے پی یہ نشست کیوں برقرار نہیں رکھ سکی۔‘‘ بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سروگی نے بھی عوامی اعتماد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ’’ نتیجہ جو بھی ہے پارٹی اُ سے انکساری کے ساتھ قبول کرتی ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کا فیصلہ سب سے اوپر ہوتا ہے اور ہماری پارٹی اس کا بھرپور احترام کرتی ہے۔ بی جے پی تفصیلی جائزہ لے گی کہ بانکی پور کے ووٹروں نے ہمارا ساتھ کیوں چھوڑا۔ کیا کمی رہ گئی تھی جسے دور کرنا ضروری ہے۔‘‘
ذرا سوچئے اگر ہمارے ملک کے کسی ایسے انتخابی حلقے میں جو کسی سیاسی پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہو اور جہاں وہ پارٹی تین عشروں سے ہر الیکشن میں کامیاب ہوتی چلی آرہی ہو، ایسی صورت حال رونما ہوتی تو کس قسم کا ردعمل سامنے آتا؟کسی شک و شبے کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ ایسی صورت میں متاثرہ پارٹی جیتنے والے امیدوار اور اس کی پارٹی پر دھاندلی کے الزامات کا طوفان برپا کردیتی۔ الیکشن کمیشن کے اہلکاروں پر ملی بھگت کا الزام عائد کیا جاتا۔ لیڈر اپنی جماعت کے حامیوں کو مطمئن کرنے کی خاطر انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے ، دوبارہ گنتی کرانے اور انتخابی عذرداری داخل کرانے کے اعلانات کرتے۔پولنگ اسٹیشنوں پر ہی دونوں پارٹیوں کے کارکنوں میں دھینگا مشتی شروع ہوجاتی۔ عین ممکن ہے کہ بندوقیں نکل آتیں اور دوچار لوگ جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے۔
سوال یہ ہے کہ بھارت کے برعکس ہمارے ہاں ہر انتخابی معرکے کے بعد یہی مناظر کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ ہمارے اہل سیاست آٹھ دہائیوں کے بعد بھی جمہوری مزاج سے عاری کیوں ہیں؟ نیز یہ کہ اس مکروہ صورتحال میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کون سے اقدامات عمل میں لائے جانے چاہئیں؟ان حوالوں سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جمہوریت کے نعرے لگانے والے ہمارے سیاسی قائدین نے خود اپنی جماعتوں میں جمہوریت کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ ان جماعتوں کے اندر انتخابات یا تو ہوتے ہی نہیں یا محض قوانین کا پیٹ بھرنے کے لیے کرائے جاتے ہیں اور دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ بیشتر پارٹیوں میں قیادت کے مناصب وراثت میں منتقل ہوتے ہیں۔اعلیٰ درجے کی صلاحیتیں رکھنے والے بہت سے کارکن محض اس بنا پر آگے نہیں بڑھ پاتے کہ بیشتر پارٹی عہدے رشتے داروں کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ اقتدارمیں آنیوالے سیاسی قائدین بڑے مناصب پر اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں، سسرالی عزیزوں ، ہم زلفوں، بہنوئیوں وغیرہ کو فائز کرتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کو عوام میں نچلی سطح تک منظم کرنے کی کوئی کاوش اور منصوبہ بندی سرے سے نظر ہی نہیں آتی۔عوام کے اندر سے قیادت ابھارنے کے لیے مقامی حکومتیں اور بلدیاتی نظام ناگزیر اور آئین کا تقاضا ہے مگر اس نظام کی راہ میں سیاسی جماعتیں ہی سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات زیادہ تر فوجی حکمرانوں کے ادوار میں کرائے گئے ہیں اور بااختیار مقامی حکومتیں ان ہی کے اقتدار میں وجود میں آتی رہی ہیں۔
اس کے نتیجے میں ملک بھر میں عوام کی سطح سے صوبائی اور وفاقی پارلیمانوں تک حقیقی عوامی نمائندے پہنچے ہیں۔ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا نظام ہی نچلی سطح تک عوام کے مسائل کے حل اور انہیں شہری سہولتیں فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ متعدد ملکوں میں ملک کی قیادت تک پہنچنے والے لیڈر پہلے مقامی حکومتوں کے سربراہ رہے ہیں ۔
ہمارے اہل سیاست ملک میں جمہوریت کے مستحکم نہ ہونے کا سبب اکثر فوجی مداخلتوں کو قرار دیتے ہیں جو اگرچہ ایک حقیقت ہے لیکن اگر سیاستداں اپنی پارٹیوں میں حقیقی انتخابات کے اہتمام اور ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کے ذریعے جمہوریت کو مستحکم کرتے اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی حکومت گرانے کی خاطر ساز باز نہ کرتیں تو نہ انتخابی عمل میں غیر سیاسی طاقتوں کی مداخلت ممکن ہوتی ، نہ جمہوریت کے استحکام کی راہ کھوٹی ہوتی،نہ ملک کے مختلف حصوں میں عوام میں احساس محرومی ابھرتا، نہ دشمن کو علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی تحریکیں منظم کرنے کے مواقع حاصل ہوتے۔ملک کی سلامتی و بقا کا تقاضا ہے کہ کم ازکم اب ہماری سیاسی قیادتیں اس کوتاہی کا پوری نیک نیتی سے ازالہ کرنے پر کمر بستہ ہوجائیں تاکہ آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ و مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان منتقل کیا جا سکے۔