• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ برس انہی صفحات پر اپنے مضمون ’’خوشگوار سیاحت، اُداس ہجرت‘‘ میں نوجوان نسل کو مخاطب کر کے لکھا:’’تمام مصائب کے باوجود ہماری نوجوان نسل سے درخواست ہے کہ اُمید کا دامن نہ چھوڑیں۔ موجودہ ملکی قیادت کے پیش نظر انقلابی اصلاحات کا ایجنڈا زیرغور ہے جسکے تحت نئے صوبوں کی تخلیق، بنجر زمینوں کی زراعت کیلئے بحالی، سیلابی پانیوں کے ذخائر کی تعمیر، قیمتی معدنیات کی بازیافت اور فروخت، آئی ٹی شعبہ میں تیز رفتار ترقی وغیرہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد سے یقیناََ علم و ہنر کا فروغ ہو گا۔ نئے روزگار پیدا ہوں گے۔ ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو گا۔ علاوہ ازیں سیاسی اور معاشی اجارہ داریوں کی حوصلہ شکنی ہو گی‘‘۔اللہ کا شکر ہے ہمارے اس خواب نما، غیرمصدقہ اور کسی حد تک خودساختہ دعویٰ کی عزت رکھی جا رہی ہے۔ چنانچہ موجودہ حکومتی حلقے اسی نوعیت کے اقدامات بارے سنجیدگی سے سوچ بچار کر رہے ہیں۔ ایسے اقدامات کی بازگشت موجود ہے جسکے بعد اُمید ہے قدرتی وسائل اور زمینوں کو کارآمد بنایا جائے گا۔ ملک سرسبز ہو گا۔ معیشت اور سیاست میں انقلاب آ جائیگا۔ علاقائی، صوبائی اور قومی سطح پر نوجوان یا نئی قیادتوں کا اُبھار ہو گا۔چند روز قبل نوجوانوں کے ایک گروپ کہ جنہیں ملکی سیاست اور پاکستانی تاریخ سے کچھ دلچسپی تھی، سے ملاقات ہو گئی۔ ان کا سوال تھا کہ حکومت کے جن اصلاحی اقدامات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے کیا ان پر حقیقی عمل درآمد ہو پائیگا؟ انکے خیال میں دورانِ ماضی اکثر ملکی رہنمائوں نے اصلاح احوال اور نوجوانوں کی فلاح کیلئے ہمیشہ بلندبانگ دعوے کئے، لیکن بعدازاں اقتداری اور سیاسی مجبوریوں کے زیراثر ان دعوئوں اور منصوبوں پر دیگر ملکی فریقین سے سودے بازی کی اور یوں اپنے ذاتی مناصب، طوالت اقتدار اور ذاتی مفادات کو آسان بنا دیا۔ ان نوجوانوں کے خدشات سے مکمل انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی حقائق سے اخذکردہ معلومات کے مطابق افسوس ہر دور کی نوجوان نسل کو مایوس کیا گیا۔ تحریک پاکستان میں نوجوان ہر اول دستہ تھے۔ لیکن افسوس قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی انہیں یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ قومی ترقی کا ایجنڈا پس پردہ چلا گیا۔ رہنمائوں کی اکثریت اقتدار اور غیرمنقولہ جائیدادوں کی بندربانٹ میں مصروف ہو گئی۔ چنانچہ سیاسی بے یقینی، مالی جمود نیز مشرقی و مغربی حصوں کی پیداکردہ نااتفاقی نے یوتھ کو بہت مایوس کر دیا۔ ان کے جمہوری، معاشی خوش حالی کے خواب ادھورے رہ گئے اور یوں 1958ء کے مارشل لا نے ملکی یکجہتی کو بہت نقصان پہنچایا۔ افسوس کہ بعدازاں نوجوان نسل کی مایوسی مزید بڑھ گئی۔ جب ’’عشرۂ ترقی‘‘ کے دعوئوں کے باوجود نوجوان نسل اور عوام کو نئی آمریت نے جکڑ لیا۔ شدید معاشی و جمہوری استحصال اور فکری پابندیوں کی بنا پر طالب علموں نے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ جس کے نتیجے میں 1969ء کے دوران ایک بار پھر اقتداری تبدیلی آ گئی۔ افسوس تب بھی نوجوان نسل کے حالات بہتر نہ ہو سکے اور وہ بدترین استحصال کا شکار رہے، کیوں کہ سیاسی قیادت، اقتدار، ملکی وسائل اور اعلیٰ تعلیم کے حق سے انہیں منظم منصوبہ کے تحت محروم رکھا گیا، علیحدہ کر دیا گیا۔ 1980ء کے عشرےمیں بھی اسٹوڈنٹس یونین پر پابندی کے ذریعے نوجوانوں پر واضح کر دیا گیا کہ وہ فکرمعاش سے غرض رکھیں، کتابوں کو رَٹا لگائیں اور امتحانات پاس کرنے کے بعد چلتے بنیں۔ سیاست اور قیادت کی خواہشوں اور کوششوں سے تائب ہو جائیں اور اس شعبے کو اشرافیہ کے پاس رہنے دیں۔ اس دوران خوشحالی کی ہلکی سی کرن نظر آئی جب مقتدرہ نے آبی وسائل اور ڈیمز وغیرہ کی ترقی کا نعرۂ مستانہ بلند کر دیا۔ لیکن افسوس چند صوبائی علاقائی سیاست دانوں اور اپنے پیٹی بھائیوں کی مخالفت کی وجہ سے ان منصوبوں کو بھلا دیا گیا۔ لیکن فریقین کی حمایت کیساتھ اپنی اقتداری طوالتوں کا بندوبست کر لیا گیا۔ یوں زرعی، آبی اور معدنی ترقی کے منصوبہ جات کے مقابل لسانی اور علاقائی تعصبات نے ہمیشہ برتری حاصل کی اور ملکی سطح پر خوش حالی کے منصوبہ جات پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ پائے۔ افسوس کہ بعض قومی سطح کا دعویٰ کرنے والی سیاسی پارٹیاں ان مخاصمتوں کو ہوا دیتی رہتی ہیں جسکی وجہ سے نوجوان نسل کی خوشحالی کی راہیں بند ہو رہی ہیں اور وہ مایوسی کے عالم میں بے روزگاری اور معاشی ابتری کے ہاتھوں بیرون ملک سفر کر رہے ہیں۔ میثاقِ جمہوریت کے بعد نوجوان نسل کو بہتری کی اُمید ہو چلی تھی۔ افسوس سیاسی جماعتوں نے بظاہر سیاسی اختلافات سے دست برداری اختیار کر لی لیکن ایک تیسرے کاروباری فریق یعنی آئی پی پیز کے مفادات پر غیرعلانیہ اتحاد بھی کر لیا۔ یوں نوجوان نسل مزید مایوسی کا شکار ہو گئی۔ اپنے نئے نویلے اقتدار کی خوشی میں اس وقت کے وزیراعظم نے اپنے دیرینہ نعرہ یعنی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو بھلا دیا اور کئی دہائیوں تاخیر والے بھاشاڈیم کا بھاگم بھاگ سنگ بنیاد رکھ دیا جو 30سال گزرنے کے باوجود مزید 20سال ایک خواب ہی رہے گا۔ ان تاخیروں نے بجلی کی پرائیویٹ کمپنیوں کے وارے نیارے کر دیئے ہیں اور یوں کھربوں روپے جو عوامی اور نوجوانوں کی خوشحالی پر خرچ ہونا تھے، بجلی کمپنیوں کی ادائیگیوں پر صرف ہو رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کے پیش نظر نوجوان نسل کے شکوک و شبہات بجا ہیں۔ اس طویل تلخ تجربے کے باوجود نوجوانوں کو نئے اقدامات بارے مثبت توقعات سے وابستہ رہنا چاہئے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کی تخلیق اور زرعی اصلاحات وغیرہ نوجوان نسل کی خوشحالی اور ان کی قیادت بارے نوید کا باعث بن سکتے ہیں۔ موجودہ ملکی قیادت کو بھی زیادہ آزادی اور اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ماضی کے حکمرانوں کی کمزوریوں کے برعکس موجودہ قیادت مختصر اقتدار کے خوف میں مبتلا نہیں۔ اس کے علاوہ نام نہاد احتسابی عمل سے قانونی طور پر مبرا بھی۔ اُمید ہے ملکی ترقی کیلئے نیز نوجوان نسل اور نئی قیادتوں کے احیاکیلئے اپنے نیک نیت انقلابی اقدامات پر عمل درآمد کرائیں گے، کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں گے۔

تازہ ترین