• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! آپ کو بتاتا چلوں کہ آج سے 15سال پہلے میری ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس کا نام ’’صوبے کیوں ضروری ہیں‘‘ تھا۔ جس میں، میں نے 200ملکوں کی آبادی ، صوبوں کی تعداد ،زبانیں ،کرنسیوں کی نام،معیشت ،مذہبوں کی تعداد، امپورٹ ،ایکسپورٹ اور باقی تفصیلات لکھی تھیں ۔اب ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں مزید صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تجویز کے بعد ملک کی2بڑی حکمران جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت مخالفت سامنے آئی ہے اور اس تجویز کے بعد پہلی بار وزیر داخلہ محسن نقوی کو دونوں جماعتوں کے رہنما آڑے ہاتھوں لیتے نظر آرہے ہیں، وزیر داخلہ کی تجویز کوئی نئی نہیں ہے، ماضی میں بھی ایسی تجاویز سامنے آچکی ہیں، تا ہم محسن نقوی چونکہ طاقتور حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اس لئے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں حکمران جماعتوں کو زیادہ پریشانی اس لئے ہوئی ہے اور انہیں لگا ہے کہ اس بار یہ تجویز سنجیدہ طور پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ اگر ہم دوسرے ملکوں پر نظر ڈالیں تو اکثر ممالک نے چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے ہوئے ہیں، پھر بلدیاتی ادارے اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ پولیس سے لیکر صحت و تعلیم کے نظام تک سب وہ چلاتے ہیں، لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں جو کئی دہائیوں سے اقتدار میں ہیں، وہ نہ تو چھوٹے یونٹس کی حمایت کرتی ہیں، اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کو مضبوط ہونے دیتی ہیں۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ کراچی جیسے 3کروڑ آبادی والے شہر میں بلدیہ عظمی ٰکے پاس کچرا اٹھانے تک کا اختیار نہیں ہے، دونوں جماعتیں وفاق سے صوبوں کیلئے تو زیادہ سے زیادہ اختیارات اور وسائل منتقلی کی حامی ہیں، لیکن خود بلدیاتی نمائندوں کو اختیار اور وسائل دینے کیلئے تیار نہیں،18ویں ترمیم میں وفاق سے بیشتر اختیار یہ کہہ کر لئے گئے تھے کہ انکی نچلی سطح پر تقسیم ہوگی ،لیکن سارے اختیارات صوبائی سطح پر رکھ لئے گئے، بلکہ سندھ میں تو جو اختیارات پہلے بلدیاتی اداروں کے پاس تھے، وہ بھی صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لئے، جن میں صفائی کا نظام بھی شامل ہے، اختیارات کے صوبائی ارتکاز کی وجہ سے عوامی مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں، ایسے میں نئے صوبوں کا نام دیا جائے، یا انتظامی یونٹس کا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے، اور یہ فیصلہ جتنی جلد کر لیا جائے اچھا ہے، اس وقت صرف پنجاب کی آبادی پونے13کروڑ کے قریب ہے۔ دنیا میں صرف11ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی پنجاب سے زیادہ ہے۔ اس حساب سے تقریبا184ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی پنجاب سے کم ہے۔ جاپان، فلپائن، مصر، ویتنام، جرمنی، فرانس، برطانیہ اٹلی، ترکی، ایران اور دنیا کے بیشتر ممالک سے پنجاب کی آبادی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مرکزی حکومت، خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، سینکڑوں میل دور بیٹھ کر ہر شہر، ضلع اور تحصیل کے مسائل کو نہ پوری طرح سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی بر وقت حل کر سکتی ہے۔ عوامی مسائل کا مؤثر حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کئے جائیں۔

اب تو طاقتور حلقوں کی جانب سے پاکستان میں انتظامی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے32نئے صوبے بنانے کا ایک تفصیلی خاکہ اور پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق ملک کو مجموعی طور پر33انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جائیگا، جس میں اسلام آباد بطور وفاقی دارالحکومت برقرار رہیگا جبکہ چاروں صوبوں کےڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جائیگا۔ مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب میں10، سندھ میں 7، خیبر پختو نخوا میں 7 اور بلوچستان میں8نئے صوبے قائم کئے جائیں گے۔ اس نئی تقسیم کے بعد ملک میں33ہائی کورٹس قائم ہوں گی جن میں مجموعی طور پر 137حجر فرائض انجام دینگے۔ دستاویزات کے مطابق اس اہم انتظامی تبدیلی سے قومی خزانے کو سالانہ 318ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ بچت40ہزار سے زائد غیر ضروری انتظامی اسامیوں کے خاتمے سے ممکن ہوگی، جبکہ عدلیہ کا موجودہ56ارب روپے کا بجٹ کم ہو کر24ارب روپے رہ جائیگا۔ نئے نظام میں تعلیم صحت اور فنانس سمیت40سے زائد محکمے مکمل طور پر صوبوں کو منتقل ہو جائینگے۔ قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان کی کل تعدا د وہی رہے گی، تاہم وہ آبادی کے تناسب سے اپنی چھوٹی صوبائی اسمبلیوں میں تقسیم ہو جائینگے۔33نئے وزرائے اعلیٰ بننے سے چند مخصوص سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور مقامی سطح پرنئی سیاسی قیادت ابھر کر سامنے آئیگی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس بننے سے وسائل نچلی سطح تک پہنچیں گے اور طرز حکمرانی بہتر ہوگا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم واقعی عوامی مسائل کا دیر پا حل چاہتے ہیں تو صرف نئے صوبے بنانے کی بحث میں الجھنے کے بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا ۔دنیا کی کامیاب جمہوریتوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپ ،امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں عوامی مسائل کا بڑا حصہ مقامی حکومتیں حل کرتی ہیں۔ وہاں فیصلے عوام کے قریب ہوتے ہیں ،وسائل نچلی سطح تک منتقل کئے جاتے ہیں اور منتخب نمائندے براہ راست اپنے علاقے کے لوگوں کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر تحصیل میں ایک با اختیار،خود مختار اور مالی طور پر مضبوط لوکل گورنمنٹ قائم کی جائے۔ تعلیم، بنیادی صحت، کھیلوں کے فروغ ،صفائی ، پینے کا صاف پانی،مقامی ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی شہری سہولتوں کے اختیارات تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل کئے جائیں۔ جب فیصلے اسلام آباد یا صوبائی دار الحکومتوں کے بجائے مقامی سطح پر ہونگے تو عوام کے مسائل زیادہ تیز اور مؤثر انداز میں حل ہونگے۔

تازہ ترین