ایک ماہرِ تعلیم اور وائس چانسلر کی حیثیت سے مجھے چین کی مختلف جامعات کیساتھ علمی روابط اور تعاون کے مواقع حاصل رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی میں ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے چینی جامعات سے رابطہ رہا اور دورے کی دعوتیں بھی ملتی رہیں، لیکن چین کو قریب سے دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد چین کی وزارتِ تعلیم، جامعات اور مختلف اداروں کی دعوت اور وزیراعظم آفس کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان کی ممتاز جامعات کے سینئر وائس چانسلرز کے وفد کے ہمراہ تقریباً دو ہفتے چین کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔یہ محض جامعات اور اداروں کا رسمی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ملک کی ترقی کو سمجھنے کا موقع تھا جس نے چند دہائیوں میں غربت سے نکل کر خود کو دنیا کی بڑی معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی قوتوں میں شامل کر لیا ہے۔ ذہن میں مسلسل ایک سوال رہا کہ آخر چین نے یہ سفر کیسے طے کیا اور اس ترقی میں اس کی جامعات کا کردار کیا ہے؟بیجنگ پہنچنے کے اگلے ہی روز ہماری پہلی اہم مصروفیت بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی میں تھی، جہاں یونیورسٹی کی قیادت اور سینئر اساتذہ کے ساتھ تفصیلی نشست ہوئی۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ چینی جامعات پاکستان کی جامعات کے ساتھ محض رسمی روابط نہیں بلکہ عملی اور دیرپا علمی شراکت داری کی خواہش رکھتی ہیں۔ اسی روز ورلڈ سینولوجی سینٹر کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں پاکستان میں دس سینولوجی سینٹرز قائم کرنے پر پیش رفت ہوئی اور HEC سے دس جامعات نامزد کرنے کیلئے کہا گیا۔بعد ازاں چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن اور مختلف جامعات کی قیادت کیساتھ ملاقاتوں میں CPEC Consortium of Universities کو مزید فعال کرنے، ڈبل، جوائنٹ اور ڈوئل ڈگری پروگرامز، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور پاکستانی طلبہ کیلئے چین میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ میرے ساتھ موجود پاکستانی وائس چانسلرز نے بھی بھرپور شرکت کی۔ ان ملاقاتوں سے یہ واضح ہوا کہ چین پاکستان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔فودان یونیورسٹی، نارتھ چائنا الیکٹرک پاور یونیورسٹی، شنگھائی اور انجینئرنگ و ٹیکنالوجی سے متعلق جامعات اور تحقیقی اداروں کو دیکھ کر ایک بنیادی حقیقت سامنےآئی کہ چین میں یونیورسٹی محض ڈگری دینے والا ادارہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا انجن ہے۔ جامعات نئی ٹیکنالوجی پیدا کرتی ہیں، صنعت کے مسائل حل کرتی ہیں، سٹارٹ اپس تخلیق کرتی ہیں اور مستقبل کیلئے انسانی وسائل تیار کرتی ہیں۔ یونیورسٹی، صنعت اور حکومت کے درمیان ایسا ربط موجود ہے جس میں تحقیق کا مقصد صرف مقالہ شائع کرنا نہیں بلکہ علم کو معاشی اور سماجی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ چین کی قومی قیادت نے جامعات اور تحقیق پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو ترجیح دی، کیونکہ یہ احساس موجود تھا کہ معاشرتی مسائل کے حل اور نئی ٹیکنالوجیز کی تخلیق میں جامعات بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ایک بڑے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ادارے کے دورے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی آمدن کا تقریباً 20 فیصد تحقیق و ترقی میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس کا سالانہ R&D بجٹ اربوں ڈالر میں ہے۔ اس کا تحقیقی کمپلیکس اتنا وسیع تھا کہ اندر آمدورفت کے لیے باقاعدہ ٹرانسپورٹ موجود تھی۔ میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ جو ادارہ اپنے مستقبل اور تحقیق پر اس پیمانے پر سرمایہ کاری کرے، اسے عالمی مسابقت میں پیچھے رکھنا کیسے ممکن ہوگا؟چین میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور آٹومیشن کا عملی استعمال بھی بہت متاثر کن لگا۔ یہ ٹیکنالوجیز محض لیبارٹریوں تک محدود نہیں بلکہ ہوٹلوں، شہروں، جامعات، ٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں میں روزمرہ نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔ میں نے ہوٹل میں AI ایجنٹس کو انسانی عملے کی معاونت کرتے دیکھا، جبکہ فیکٹریوں میں ایسے کام جو کئی ممالک میں سینکڑوں افراد انجام دیتے ہیں، وہاں آٹومیشن، کنٹرول سسٹمز اور روبوٹکس کے ذریعے کیے جا رہے تھے۔ اس سے لاگت کم اور کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق کی وجہ سے راقم کیلئے الیکٹرک وہیکلز کی ترقی خصوصی دلچسپی کا باعث تھی۔ Internal Combustion Engine کی سو سال سے زائد عرصے پر محیط ٹیکنالوجی کو جس تیزی سے الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی تبدیل کر رہی ہے، اس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ مستقبل انہی قوموں کا ہوگا جو صرف ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتیں بلکہ ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہیں۔تاہم چین کی ترقی صرف سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں۔ دو ہفتوں کے دوران میں نے لوگوں میں وقت کی پابندی، نظم و ضبط، محنت اور کام سے وابستگی نمایاں طور پر محسوس کی۔ قومی قیادت کے پاس واضح وژن، اداروں کے پاس سمت اور لوگوں میں اس سمت میں آگے بڑھنے کا عزم نظر آیا۔ اپنی زبان اور ثقافت سے چینی عوام کا مضبوط تعلق بھی متاثر کن تھا۔ انہوں نے جدیدیت اختیار کی لیکن اپنی قومی شناخت کو کمزور نہیں ہونے دیا۔میری اپنی اعلیٰ تعلیم کا ایک حصہ مغرب میں گزرا ہے اور ہماری علمی سمت بھی روایتی طور پر یورپ اور امریکہ کی طرف رہی ہے۔ چین کو قریب سے دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ ایشیا میں بھی ہمارے سامنے ترقی کا ایک ایسا ماڈل موجود ہے جس کا پاکستان کو سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد چین کے نظام کی نقل کرنا نہیں بلکہ اس کے کامیاب تجربات سے سبق حاصل کرنا ہے۔ پاکستان کی جامعات کو اب خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم صرف ڈگریاں دے رہے ہیں یا ملک کی معیشت اور معاشرے کو تبدیل کرنے کیلئے انسانی سرمایہ اور ٹیکنالوجی بھی پیدا کر رہے ہیں؟ ہمیں اپنے نصاب کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، آٹومیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو تعلیم کا حصہ بنانا، فیکلٹی کی استعداد بڑھانا اور صنعت و یونیورسٹی کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہوگا۔ ہمارے فارغ التحصیل نوجوان صرف ڈگری ہولڈر نہیں بلکہ workplace-ready ہونے چاہئیں۔
چین سے واپسی کے فوراً بعد میں نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے وائس چانسلرز اور بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت کی جامعات کی قیادت کے ساتھ اپنے مشاہدات شیئر کیے تاکہ ہم اپنے نصاب، تحقیق، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور صنعت سے روابط کا ازسرِنو جائزہ لے سکیں۔اس دورے سے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کسی قوم کی حقیقی طاقت صرف سڑکوں، عمارتوں اور کارخانوں میں نہیں بلکہ علم اور انسانی سرمائے میں ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو ہمیں جامعات کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ چین کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب قومی وژن، اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، صنعت، سرمایہ کاری اور محنت ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں تو قوموں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، باصلاحیت اساتذہ و محققین اور جامعات کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ ضرورت واضح سمت اور تعلیم و تحقیق کو حقیقی قومی ترجیح بنانے کی ہے۔ چین کا سفر ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راستہ یونیورسٹی کے کلاس روم اور ریسرچ لیبارٹری سے شروع ہو کر صنعت، معیشت اور بالآخر قومی خوشحالی تک پہنچتا ہے۔