ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی قانونی ٹیم نے دونوں کی مسلسل حراست، عدالتی کارروائی میں تاخیر اور ہادی کی بگڑتی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ مزید تاخیر کی صورت میں تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
قانونی ٹیم کے مطابق ہادی علی چھٹہ دورانِ حراست ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس میں مبتلا ہوچکے ہیں، انہیں مطلوبہ اور مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
خاندان اور وکلا کی بار بار درخواست کے باوجود جیل حکام ہادی کو دی جانے والی ادویات کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کر رہے۔
5 اکتوبر کو ایمان اور ہادی کی درخواست ضمانت کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت میں مقرر تھی، لیکن تفتیشی افسر پیش نہیں ہوا اور استغاثہ مقدمے کا ریکارڈ بھی پیش نہ کرسکا، جس کے بعد سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ محض انتظامی یا عدالتی تاخیر نہیں بلکہ مقصد دونوں کی قید کو طول دینا ہے۔
قانونی ٹیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 13 اکتوبر کو بھی ضمانت کی کارروائی مکمل نہ ہونے دینے اور ریلیف ملنے کی صورت میں کسی دوسرے مقدمے یا بہانے سے دوبارہ گرفتاری کی کوشش کی جائے گی۔
قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ ایمان اور ہادی کیساتھ سلوک کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، انہیں کوئی نقصان پہنچا یا ان کی غیر قانونی حراست جان بوجھ کر طول دی گئی تو ذمہ دار حکام کے خلاف تمام قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔