• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی چیف جسٹس نے طلبہ کے معاملے میں بار کونسل کو مداخلت سے روک دیا

چیف جسٹس سوریہ کانت مشرا---فائل فوٹو
چیف جسٹس سوریہ کانت مشرا---فائل فوٹو 

بھارتی سپریم کورٹ نے نیشنل بار کونسل کو اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روک دیا۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت مشرا نے بار کونسل آف انڈیا کی جانب سے یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف جاری کردہ حکم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بار کونسل آف انڈیا نے حال ہی میں تمام ریاستی بار کونسلز کو ہدایت دی تھی کہ نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ یونیورسٹی سے 2026ء میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو وکالت کے لیے رجسٹر نہ کیا جائے، یہ فیصلہ اس مہم کے بعد کیا گیا تھا جس میں طلبہ نے چیف جسٹس کی یونیورسٹی کی تقریبِ تقسیم اسناد میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت مشرا نے اس اقدام کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی طالب علمی کے دور میں احتجاج میں فعال طور پر حصہ لیتا رہا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ میرے اور طلبہ کے درمیان ہے، بار کونسل کو اس میں مداخلت کا اختیار نہیں۔

سپریم کورٹ نے بار کونسل آف انڈیا سے اس کے جاری کردہ سرکلرز پر جواب طلب کر لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ یا اساتذہ کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔

بار کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متنازع سرکلر واپس لے لیا گیا ہے، اس سے قبل بار کونسل نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ان افراد کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی جنہوں نے چیف جسٹس کی تقریب میں شرکت کے خلاف مہم شروع، منظم یا متحرک کی تھی۔

بار کونسل آف انڈیا نے تحقیقات مکمل ہونے تک 2026ء میں فارغ التحصیل ہونے والے تمام طلبہ کے وکالت میں اندراج پر بھی پابندی عائد کردی تھی تاہم یہ فیصلہ اب واپس لے لیا گیا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سینئر وکیل وکاس سنگھ نے بھی بار کونسل کے اقدام کو من مانا، غیر قانونی اور غیر متناسب قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔

13 اگست کو بار کونسل کے چیئرمین منان کمار مشرا کو لکھے گئے خط میں وکاس سنگھ نے کہا تھا کہ طلبہ کو اپنی آزادیِ اظہار کے بنیادی حق کے استعمال پر وکالت کے شعبے میں داخلے سے روکنے کی دھمکی دینا ناقابلِ قبول ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید