• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہنگائی نے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ معیشت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔ حکومت کی کوششوں کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے۔ ہر روز اربوں کے حساب سے بڑھتا قرضوں کا بوجھ اور افراط زر اس صورتحال کے بنیادی اسباب میں سے ہیں۔ افراط زر کے معنی بظاہر خوشگوار ہیں لیکن فی الحقیقت یہ ایک سنگین معاشی مسئلہ ہے۔ علم معاشیات سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ چیزوں کی قیمت کا تعین طلب اور رسد یا ڈیمانڈ اور سپلائی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ بازار میں طلب کی نسبت کسی چیز کی قلت ہوجائے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اگر اس کی رسد میں اضافہ ہو جائے تو قیمت کم ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ زر کا بھی ہے جو ہر ملک میں اس کی کرنسی یا سکّے کی شکل میں ہوتا ہے۔پیداوار میں متناسب اضافے کے بغیر زر کی مقدار معاشرے میں جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہے، اشیاء کے مقابلے میں اس کی قدر اتنی ہی گھٹتی جاتی ہے یعنی چیزوں کے نرخ اسی تناسب سے بڑھتے جاتے ہیں۔ یہی کیفیت افراط زر کہلاتی ہے اورعملاً مہنگائی کی ہم معنی ہے۔

ماضی میں زر کی تخلیق کو حکومتیں کنٹرول کرتی تھیں۔ معاشرے میں زر کی مقدار ملک کے مرکزی بینک کے جاری کردہ نوٹوں کے مطابق ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نجی تجارتی بینکوں کو یہ آزادی حاصل ہوگئی کہ وہ اپنے پاس لوگوں کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم سے کئی گنا زیادہ رقم کے قرضے اس مفروضے کی بنیاد پر جاری کرسکتے ہیں کہ بیک وقت پانچ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی رقم واپس لینے نہیں آئیں گے۔ یہ طریق کار ’’فریکشنل ریزور سسٹم‘‘ یعنی جزوی محفوظ رقم کا نظام کہلاتا ہے۔ ان قرضوں کونوٹوں کی شکل میں جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ محض عددی اندراج کی شکل میں جاری کیے جاتے ہیں اور قرض لینے والااس رقم کو زر مبادلہ کی طرح ہر قسم کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے اس عمل کو ماضی کی نسبت بہت زیادہ آسان بنادیا ہے ۔ اس طرح بینک اپنی اصل محفوظ رقم سے کئی گنا زیادہ قرضے جاری کرکے اس پر کھاتے داروں کی شرکت کے ساتھ سود کماتے ہیں ۔یوں معاشرہ قرض اور سود کے ساتھ ساتھ افراط زرکے جال میں بھی الجھتا چلاجاتا ہے ۔

معرکہ آرا تحقیقی کاوش ’’بریکنگ دی ٹریپ آف ڈیٹ، انفلیشن، انٹرسٹ اینڈ پاورٹی‘‘ کے مطابق ،جس کا ذکر ہم اپنے ایک گزشتہ کالم میں کرچکے ہیں، دنیا کے بیشتر ممالک میں زر کی کل رسد کا تقریباً 90 فیصد حصہ بینکوں کی تخلیق کردہ رقم پر مشتمل ہے۔

حکومتیں بھی بینکوں سے سودی قرضے لیتی ہیں۔ پاکستان کے اعداد وشمار اس حوالے سے نہایت ہولناک ہیں۔ پاکستان کے سالانہ بجٹ کا 47 فیصد سودی ادائیگیوں پر خرچ ہو جاتا ہے جبکہ دفاعی اخراجات صرف 15 فیصد ہیں۔ تعلیم، صحت وغیرہ کیلئے برائے نام ہی رقم بچتی ہے۔ مجموعی سودی ادائیگیوں کا 88 فیصد مقامی تجارتی بینکوں کو جاتا ہے جبکہ صرف 12 فیصد آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ کو ادا کیا جاتا ہے۔

یہ فریکشنل ریزرو سسٹم یعنی جزوی محفوظ رقم کا نظام در اصل انگلینڈ کے سناروں کی ایجاد ہے جن کے پاس پچھلی صدیوں میں لوگ سونا چاندی حفاظت کی خاطر رکھواتے تھے۔ اس کی رسیدیں رفتہ رفتہ زرمبادلہ کی حیثیت سے خرید و فروخت کا ذریعہ بن گئیں۔ سناروں نے زیادہ سود کمانے کی خاطر سونے کی اصل مقدار سے زیادہ کی رسیدیں بطور قرض جاری کرنا شروع کردیں ۔ اس عمل نے شدید مالیاتی عدم استحکام کو جنم دیا۔

لہٰذا حکومت نے قانون سازی کرکے صر ف بینک آف انگلینڈکو نوٹ جاری کرنے کا حق دیا ۔ تاہم پھر بتدریج سناروں کا فریب دہی پر مبنی نظام جدید بینکاری سسٹم کی بنیاد بن گیااور آج عالمی سطح پر تقریباً 90فیصد رقم صرف بینک کھاتوں میں موجود اعداد و شمار کی صورت میں ہے۔ گویا تجارتی بینک کسی محفوظ رقم کے موجود نہ ہونے کے باوجود قرض کی شکل میں زر تخلیق کرنے کی طاقت حاصل کرکے افراط زر اور مہنگائی میں ہولناک اضافے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

اس کے مقابلے میں’’مکمل ریزرو سسٹم‘‘ قرض اور زر کو الگ الگ رکھتا ہے اور یوں حکومت کے اندرونی قرضے بہت حد تک کم کرنے، مہنگائی کے ایک بنیادی سبب پر قابو پانے اور معاشی اتار چڑھاؤ کے شدید ادوار کو معتدل بنانے میں معاون ہوتا ہے۔ مذکورہ کتاب کے مطابق’’مکمل ریزرو نظام‘‘ اختیار کرنے کے نتیجے میں پاکستان اندرونی قرضوں پر سودی ادائیگیوں کو ختم کر کے سالانہ 20 ارب امریکی ڈالر کی بڑی مالی بچت حاصل کر سکتا ہے جبکہ نجی تجارتی بینک اپنی دیگرمعروف خدمات کی انجام دہی پر معاوضے کے علاوہ شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی مشترکہ اسکیمیں شروع کرکے کھاتہ داروں اور خود اپنے لیے مالی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ مکمل ریزرو نظام کی ان ہی خوبیوں کے باعث متعدد عالمی شہرت یافتہ ماہرین معاشیات مکمل ریزرو نظام کو جدید دور کے معاشی مسائل کے حل کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ نظام اس بنا پر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اسے اپنا کرحکومت نہ صرف افراط زرو مہنگائی پر قابو پاسکتی اور قرضوں پر ادا کیے جانے والے تقریباً 90 فی صد سود اور قرض کی بھاری مقدار سے نجات حاصل کرسکتی ہے بلکہ ملک کے اندر سودی نظام کا خاتمہ بھی کرسکتی ہے چھبیسویں آئینی ترمیم کی رو سے 2028ءتک جسے ختم کرنے کی وہ پابند ہے۔ ملک کے اندر اس نظام کو رائج کرنے میں کوئی بیرونی رکاوٹ بھی حائل نہیں ۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت کے معاشی حکمت کار، بینکوں کے کرتا دھرتا اور ماہرین معیشت و مالیات اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں اور اسے اختیار کرنے میں کوئی حقیقی رکاوٹ حائل نہ ہو تو بلاتاخیر اس سمت میں پیش قدمی شروع کریں۔

تازہ ترین