• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم شہباز شریف جب یہ کہہ رہے تھے کہ ’’پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنیوالا ملک نہیں، ٹیکنالوجی تیار کرنیوالا ملک بننا ہوگا ‘‘ تو وہ اپنے اس وژن کا اعادہ کررہے تھے جس کا مقصد یہ ہے کہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی پاکستان کی قومی طاقت ، معاشی ترقی اور خود انحصاری کی بنیاد بنیں۔ گزشتہ دنوںشہباز شریف اسلام آباد میں منعقدہ جس نمائش کے اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے، وہ بجائے خود اس حقیقت کی عکاس تھی کہ دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جس میں قوموں کی طاقت کا پیمانہ صرف انکے قدرتی وسائل یا روایتی صلاحیتیں نہیں، یہ بات بھی ہے کہ وہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں کہاں کھڑی ہیں۔ ’’انڈس صنعتی روبوٹکس اور خود کار نظاموں کی نمائش2026 ‘‘ مظہر تھی اس بات کی کہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور خود کار نظام اب سائنسی فلموں کے خیالات نہیں رہے بلکہ حقیقت کی دنیا میں صنعت، زراعت، دفاع اور انسانی زندگی کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے وژن میں صرف دفاعی ضروریات شامل نہیں تھیں، ایسا پاکستان اسکا محور ومرکز تھا جہاں جدید ٹیکنالوجی نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے ،صنعتوں کو نئی رفتار دے ، کسانوں کو بہتر پیداوار میں مدد دے اور عام شہری زندگی آسان بنائے۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی محض مشینوں اور آلات کا نام نہیں رہی۔ ایسے نظام کی صورت اختیار کرچکی ہے جس میں تعلیم، تحقیق،صنعت ومعیشت اور انسانی صلاحیت ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ جو قومیں نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہیں، وہ صرف اپنے مسائل حل نہیں کرتیں، دنیا میں جگہ بھی بناتی ہیں اسلئے خود انحصاری کا مطلب دنیا کے علمی اور سائنسی تجربات سے الگ ہو جانا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان دوسروں کی تیارکردہ ٹیکنالوجی کا محض صارف نہ رہے۔ اپنی تحقیق، اپنی صنعت اور اپنے انسانی وسائل کے ذریعے عالمی ٹیکنالوجی کے خزانے میں اضافہ کرنیوالا ملک بنے۔ اس کیلئے ہمیں زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ بچوں کا اسکولوں تک پہنچنا اور معیاری تعلیم حاصل کرنا یقینی بنانا ہوگا۔ اسکول سے لیکر یونیورسٹی تک کے نصابوں، تدریسی طریق کار کا بار بار جائزہ لینے اور انہیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کی مشق کا تسلسل یقینی بنانا ہوگا۔ اسلام آباد کی نمائش میں وزیر اعظم نے جس تخیل کا اظہار کیا، اسے انکے بار بار دہرائے گئے تصور کا تسلسل کہا جاسکتا اور ایک بڑے قومی منصوبے کے اشارے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جدید تعلیم، تحقیق اور مواقع کے ساتھ جوڑ سکے تو یہ نوجوان مستقبل میں نئی صنعتوں، نئی ایجادات اور نئی معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی ترقی کا سفر اسی نظریے کو اپنا کر طے کیا کہ انسانی صلاحیت پر کی گئی سرمایہ کاری ہی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔پاکستان کیلئے ٹیکنالوجی کے دفاعی پہلو کو اس بناپر بطور خاص اہمیت حاصل ہے کہ اسے شروع سے بعض تاریخی عوامل کی بنا پر سلامتی کے چیلنجزدرپیش رہے ہیں جبکہ طویل عرصے سے دہشت گردی کاسامنا بھی ہے۔آج دفاعی طاقت روایتی ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، معلوماتی نظام، نگرانی، مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں سے بھی بنتی ہے۔ مئی 2025ء میں پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرنے والے ملک کو ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے طیاروں، آلات اور نظامات دستیاب ہونے کے باوجود جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ کامیابی کیلئے صرف آلات کا ہونا کافی نہیں، بلکہ انہیں موثر انداز میں استعمال کرنیکی صلاحیت تربیت اور حکمت عملی بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس جنگ سے علاقائی طاقت کے تناسب کا نیا نقشہ سامنے آیا۔ ساتھ ہی جے ایف17تھنڈر طیاروں کا ایسا بھرپور تعارف ہوا کہ متعدد ممالک نے انکی خریداری کے معاہدے کئے۔ پاکستان جے ایف تھنڈر طیاروں سمیت دفاعی سامان کی تیاری میں جو پیش رفت کررہا ہے اسکے بارے میں دنیا بھر کے ممالک کی آگہی کا ایک ذریعہ سال2000ء سے کراچی میں ہر دوسال بعد منعقد ہونے والی ’’ آئیڈیاز‘‘ نمائش ہے۔ یہ نمائش ایک اعتبار سے ٹیکنالوجی میں پاکستان کے خود انحصاری سفر کا حصہ ہے۔ موجودہ حالات کے باعث2026ء کی نمائش منسوخ کردی گئی ہے۔ اب اسکا اگلا انعقاد2028ء میں متوقع ہے۔


جولائی کے آخری ہفتے میںاسلام آباد میں منعقد ہونیوالی انڈس راس ایکسپو میں وزیراعظم شہباز شریف نے جب محاورے کی زبان میں ’’پاکستان دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کا محتاج نہیں‘‘ کہا تو یہ واضح ہوگیا کہ وطن عزیز اس وقت کی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی کے بااعتماد مقام پر ہے ۔ وزیر اعظم واضح الفاظ میں ملکی خود مختاری کے تحفظ اور دفاع کو مستحکم تر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا عزم دہراتے، روبوٹک اور اٹانومس نظاموں کی ترقی کیلئے اسپارک اینڈ ویلویٹ پروگرام کا آغاز کرتے نظر آئے۔20ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کا قیام ان پرگراموں کے استحکام کا ذریعہ بنے گا۔

اس طرح کے اقدامات پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی سمت اہم پیش رفت ہوسکتے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے میں تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ یہ سفر آنیوالی نسلوں کیلئے مزید روشن امکانات پیدا کرسکے۔ یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچ محض دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہی۔ اب اس کا دائرہ صنعت زراعت، صحت، تعلیم اور روزمرہ زندگی تک پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ جامع نقطہ نظر کسی بھی ملک کو سائنسی سفر میں آگےلے جاتا اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کا حقیقی محرک بنادیتا ہے۔

تازہ ترین