قارئین! اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ2026ءجاری کر دی ہے، جس میں مالی سال 2027ءکے دوران معاشی نمو3 .5سے4 .5فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی حالات، خصوصاََ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی، باربرداری اور بیمہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم ان عالمی دھچکوں کے باوجود مالی سال 2026ءکے اقتصادی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے۔ محتاط زری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوسرے مرحلے کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد دی، جبکہ مہنگائی سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کی توقعات بھی قابو میں رہیں۔ حکومت کی جانب سے عالمی قیمتوں میں اضافے کو بروقت ملکی قیمتوں میں منتقل کرنے، کفایت شعاری اور متعینہ اہداف والے زرِاعانت کے اقدامات سے مجموعی طلب کو اعتدال میں رکھنے میں بھی مدد ملی۔یہ توقع بھی ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک مہنگائی ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہو جائے گی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مرکزی بینک نے دسمبر 2026ءتک زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور مالی سال 2027 کے اختتام تک ا سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں بھی حوصلہ افزا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور صرف جولائی میں3.6ارب ڈالر پاکستان بھجوائے گئے۔ معیشت کے اس منظرنامے میں کچھ ایسے عوامل بھی موجود ہیں جو پاکستان کیلئے امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو وسیع تر حکومتی سطح پر معاشی تعاون کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب سے7ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات 5 سال کے ادھار پر حاصل کرنے کے معاملے میں پیش رفت، امریکہ سے10ارب ڈالر کے فنڈ کے حصول کی کوششیں اور دیگر مالی معاونت کے امکانات بھی زرمبادلہ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے درست، شفاف اور موثر انتظام کا ہے۔ اگر گورننس بہتر بنائی جائے، اداروں کی کارکردگی مضبوط کی جائے اور اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کے حوالے سے مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو ملکی معیشت کو ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں نیب کی جانب سے ایک ماہ کے دوران3ٹریلین روپے، یعنی3 ہزار ارب روپے کی ریکوری کا دعویٰ ایک طرف ادارے کی کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ ملک میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کا حجم آخر کس قدر وسیع ہے۔ امن و امان کی صورتحال بھی پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے سیاسی و معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ امن و امان، پالیسی تسلسل اور کاروباری تحفظ کو بھی دیکھتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں اور سرمایہ کاری ہو بھی رہی ہے، لیکن اگر توانائی کی غیر یقینی دستیابی، بلند بجلی و پٹرولیم قیمتیں، ٹیکسوں کا دباؤ، انتظامی رکاوٹیں اور امن و امان کے مسائل برقرار رہے تو سرمایہ کاری کے حجم اور رفتار کو مطلوبہ سطح تک پہنچانا مشکل ہوگا۔
دوسری جانب ملک میں گندم کی نئی فصل کو اترے ابھی چند ہفتے بھی نہیں گزرے اور اہم ترین فصل مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہے، جسکے نتیجے میں آٹے کی قیمت ڈھائی برس کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے، روٹی سمیت بیکری اشیاء کے نرخ تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ اس کا اثر دودھ کی قیمتوں پر بھی آئے گا، جہاں چوکر ،دودھ دینے والے مویشیوں کی خوراک کیلئے استعمال ہوتا ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت گندم کی پیداوار کا درست تخمینہ لگاتی اور اس میں کمی کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر نجی شعبے کو درآمد کی اجازت دیتی ، لیکن کئی ہفتے گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت اجلاسوں میں مصروف ہے، دوسری طرف وفاق اور صوبے بالخصوص پنجاب اور سندھ جہاں گندم کی زیادہ پیداوار ہے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی میں بھی ناکام نظر آتی ہے، جسکی قیمت عوام کو مہنگی روٹی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے، حکومت نے بظاہر اپنے معاشی اشاریے بہتر دکھانے کیلئے گندم کی پیداوار زیادہ دکھائی پنجاب حکومت نے صوبے میں پیداوار 2کروڑ19 ملین ٹن ہونے کا دعویٰ کیا۔ جبکہ کسان تنظیموں کے مطابق حقیقی پیدا وار ڈیڑھ کروڑ ٹن سے زیادہ نہیں ہوئی۔ یعنی اگر کسان تنظیموں کے اعداد و شمار کو مد نظر رکھا جائے تو صرف پنجاب میں ہی حکومتی اور کسانوں کے اعداد و شمار میں تقریبا69لاکھ ٹن کا فرق ہے، اس وقت حکومت نے 10لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر حقیقی فرق کسان تنظیموں والا ہے، تو واضح ہے کہ10 لاکھ ٹن گندم منگوانے سے بحران حل نہیں ہوگا، بلکہ جیسے جیسے درآمد میں تاخیر کی جارہی ہے، نرخ او پر جارہے ہیں، حکومت کی جانب سے گندم خود در آمد کرنے کا فیصلہ بھی ٹھیک نہیں لگتا، ایسے وقت میں جب حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ کاروبار سے نکلنا چاہتی ہے، وہ خود کو گندم کی درآمد کے کاروبار میں ملوث کیوں کرنا چاہتی ہے، گندم درآمد کیلئے حکومت کے پاس تو پیسے نہیں، لا محالہ وہ بینکوں سے قرض لے گی، لہٰذا حکومت سرکاری سطح پر گندم در آمد کا فیصلہ واپس لے، پیداوار کا دوبارہ حقیقی بنیادوں پر جائزہ لیکر نجی شعبے کو گندم در آمد کرنے کی اجازت دی جائے، اور اس فیصلے میں اب مزید تاخیر نہ کی جائے ، ہر گزرنے والا دن ذخیرہ اندوزوں کی چاندی کرا رہا ہے، جن کیخلاف حکومتی ادارے بے بس نظر آتے ہیں، دوسری جانب عام آدمی کیلئے روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔