• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی جامعات کی کارکردگی پر آج کل اکثر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ کبھی عالمی درجہ بندی کا حوالہ دیا جاتا ہے، کبھی ہمارے گریجویٹس کی صلاحیت پر سوال اٹھتا ہے اور کبھی یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ ہمارا اعلیٰ تعلیمی نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا۔ تنقید یقیناً اصلاح کے لیے ضروری ہے، لیکن کسی نظام کا منصفانہ جائزہ لیتے ہوئے اس کے وسائل، قومی خدمات اور عملی نتائج کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔راقم کاتقریباً پینتالیس برس سے اعلیٰ تعلیم اور جامعات سے تعلق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کا سفر شروع کیا، یونیورسٹی آف لیڈز سے پی ایچ ڈی کی اور پھر بطور استاد، محقق، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز اور وائس چانسلر جامعات اور نوجوانوں کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ بین الاقوامی تعلیمی اداروں کو بھی قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ آج بطور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن جب ملک کے مختلف علاقوں میں جامعات کا دورہ کرتا ہوں تو ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: پاکستانی جامعات کی حقیقی کارکردگی کیا ہے؟

میرے نزدیک اس سوال کا جواب محض کسی ایک عالمی درجہ بندی میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان کا انتظامی، صنعتی، سائنسی، انجینئرنگ، طبی اور خدمات کا جو وسیع نظام قائم ہوا، اسے بنانے اور چلانے والے لوگ کہاں سے آئے؟ فرٹیلائزر، سیمنٹ، شوگر، کیمیکل، فارماسیوٹیکل اور دیگر صنعتوں سے لے کر ہسپتالوں، تحقیقی مراکز، آئی ٹی کمپنیوں اور سرکاری اداروں تک، پاکستانی جامعات کے فارغ التحصیل افراد نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی بھی اسی انسانی سرمائے کی مرہونِ منت ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ ایٹمی توانائی، انجینئرنگ، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی میں ہماری قومی صلاحیت کے پیچھے سائنس دانوں، انجینئرز اور ٹیکنالوجسٹس کی دہائیوں پر محیط محنت ہے، جن کی علمی بنیاد بڑی حد تک پاکستانی جامعات ہی میں استوار ہوئی۔قومی دفاع کو مضبوط بنانے میں بھی ہمارے سائنس دانوں، انجینئرز، ٹیکنالوجسٹس اور آئی ٹی گریجویٹس کی خدمات انتہائی نمایاں ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران قومی دفاع اور تکنیکی صلاحیت کے حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ جدید دفاع سائنس، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت سے جڑا ہوا ہے۔ ہماری جامعات کے فارغ التحصیل ماہرین نے ان شعبوں میں جس پیشہ ورانہ مہارت اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام کے انسانی سرمائے کی اہم کامیابی ہے۔ ان کی یہ خدمات تاریخ میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔پنجاب یونیورسٹی، جامعہ کراچی، جامعہ سندھ، یونیورسٹی آف پشاور اور یونیورسٹی آف بلوچستان جیسے تاریخی اداروں نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کی بنیاد مضبوط کرنے اور قومی انسانی سرمایہ تیار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ملک بھر میں نئی سرکاری اور نجی جامعات قائم ہوئیں، جنہوں نے انجینئرنگ، میڈیکل سائنسز، سائنس و ٹیکنالوجی، سماجی علوم، مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔پاکستانی جامعات کی صلاحیت کا ایک اہم امتحان پاکستان سے باہر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہمارا تعلیمی نظام مکمل طور پر ناکام ہوتا تو پاکستانی نوجوان دنیا کے انتہائی مسابقتی تعلیمی اور پیشہ ورانہ نظاموں میں مسلسل اپنی جگہ کیسے بناتے؟ Erasmus Mundus Scholarships کے عالمی مقابلے میں پاکستانی طلبہ کی نمایاں کامیابی اس کی ایک مثال ہے۔ یہ نوجوان دنیا بھر کے باصلاحیت امیدواروں سے مقابلہ کرکے آگے آئے اور اپنی قابلیت منوائی۔اسی طرح پاکستانی میڈیکل گریجویٹس امریکہ کے سخت امتحانات اور مسابقتی میچنگ کے عمل سے گزر کر امریکی نظامِ صحت میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں، جبکہ برطانیہ کے NHS میں پاکستانی ڈاکٹروں کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ کوئی ترقی یافتہ ملک کسی غیر ملکی پروفیشنل کو محض اس کی قومیت کی بنیاد پر جگہ نہیں دیتا، اسے اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب اس کے پاس مطلوبہ علم، مہارت اور پیشہ ورانہ معیار موجود ہو۔مجھے ایسے پاکستانی نوجوانوں سے بھی ملنے کا موقع ملا جن کے پاکستانی جامعات میں حاصل کردہ تعلیمی کریڈٹس دنیا کے ممتاز اداروں میں قبول کیے گئے اور انہوں نے وہاں بھی تحقیق میں اپنی صلاحیت ثابت کی۔ اسی طرح بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز میں ہمارے نوجوان مصنوعی ذہانت، کیمسٹری، فزکس اور بائیولوجی جیسے شعبوں میں میڈلز حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کامیابیاں پاکستانی نوجوانوں کی بین الاقوامی مسابقت کا عملی ثبوت ہیں۔

ڈیجیٹل معیشت میں بھی ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آئی ٹی، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ڈیجیٹل سروسز اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے وہ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرتے ہوئے ملک کے لیے قابلِ قدر زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے دنیا کے لیے کام کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آج قابلیت کے لیے جغرافیائی سرحدیں پہلے جیسی رکاوٹ نہیں رہیں۔نوجوانوں کو بھی یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ صرف ڈگری اب کافی نہیں۔ BS، MS یا PhD کامیابی کا آغاز ہو سکتی ہے، ضمانت نہیں۔ آج کی دنیا نوجوان سے تین بنیادی چیزیں مانگتی ہے: علم، مہارت اور کردار۔ اپنے شعبے کے علم پر عبور، جدید اور ڈیجیٹل مہارتیں اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت ناگزیر ہیں۔

اس کیساتھ پیشہ ورانہ اخلاقیات، اقدار اور مثبت رویہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ایک نوجوان صرف اچھا ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان یا ٹیکنالوجسٹ نہ ہو بلکہ اچھا انسان بھی ہو۔ ہمارے دین نے حسنِ اخلاق کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ہماری جامعات نے محدود وسائل کے باوجود پاکستان کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اساتذہ، محققین، ٹیکنالوجسٹس اور آئی ٹی ماہرین فراہم کیے ہیں۔ ان سے معیار اور جواب دہی کا تقاضا ضرور ہونا چاہیے، لیکن ان کی قومی خدمات اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔اب حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائس چانسلرز، اساتذہ، صنعت اور نوجوان نسل کو ایک واضح قومی سمت میں مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ اگر ہم اسے معیاری علم، جدید مہارت، مضبوط کردار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں تو یہی نوجوان پاکستان کی معاشی، سائنسی، تکنیکی اور سماجی ترقی کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن اس قومی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور اپنے دستیاب وسائل کو جامعات کی ترقی، تعلیمی و تحقیقی معیار کی بہتری اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کیلئے بروئے کار لانے کیلئے پُرعزم ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ پاکستانی نوجوان علم، جدید مہارت، ٹیکنالوجی اور مضبوط کردار سے آراستہ ہو کر قومی اور بین الاقوامی ورک پلیس کیلئے خود کو تیار کریں اور پاکستان اور عالمی برادری کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔

تازہ ترین