پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال سنگین ہونے لگی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی 63 فیصد آبادی، جو لگ بھگ16کروڑ افراد پرمشتمل ہے، صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت سے محروم ہے۔ ماہرین کے مطابق بیروزگاری، مہنگائی اور کم آمدنی نے عوام کیلئے بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین نے کہا ہے کہ غذائی عدم تحفظ کو محض معاشی مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ مستقبل میں ایک اہم سماجی اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔ معاشی ماہر عابد قیوم سلہری اور ماہر غذائی تحفظ شمس السلام خان نے گفتگو میں کہاکہ گندم اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی، درآمدی پالیسی، کمزور سپلائی چین اور مجموعی معاشی صورتحال غذائی بحران کی اہم وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف فصلوں کی پیداوار بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ خوراک کی پیداوار سے لے کر ذخیرہ کاری اور مارکیٹ تک رسد کے پورے نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق پنجاب میں گندم کی فصل کی آمد میں تاخیر اور کٹائی مکمل ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافے نے کئی سوالات پیدا کئے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت اور اسمگلنگ پر پابندیوں کے باعث گندم کی غیررسمی نقل وحرکت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود بعض جدید ذخیرہ گاہوں اور گوداموں کو بڑے کاروباری اور با اثر حلقے استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں رسد کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ سال چاول کی پیداوار کا بڑا حصہ مقامی ضرورت پوری کرنے یا بر آمد کرنے کے بجائے ذخیرہ کئے جانے سے مارکیٹ پر دبا ئوبڑھا۔ ان کے مطابق پاکستان کا بنیادی مسئلہ کم معاشی نمو ہے۔ گزشتہ کئی برس سے ملکی معیشت تقریبا 2سے3فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ آبادی میں سالانہ اضافہ بھی اس سطح کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کی رفتار آبادی میں اضافے کے مقابلے میں کم یا معمولی رہے تو حقیقی آمدنی، روزگار اور عوامی فلاح کیلئے دستیاب وسائل میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پاتا۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں ، صنعت اور زراعت کیلئے وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔ نیز خبردار کیا کہ اگر نو جوانوں کو مناسب خوراک ،تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کئے گئے تو اس کے سنگین سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ غذائی قلت کا شکار بچوں میں کمزوری اور نشوونما کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے جبکہ بیروزگاری اور بنیادی ضروریات سے محرومی نو جوانوں میں جرائم سمیت دیگر سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ صرف اچھی فصل یا پیداوار میں اضافہ مستقل حل نہیں، کیونکہ اصل مسائل مارکیٹ کے ڈھانچے، ذخیرہ کاری، حکومتی پالیسی اور سپلائی چین میں موجود خامیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین نے حکومت کو تجویزدی ہے کہ غذائی اجناس کے اسٹرٹیجک ذخائر برقرار رکھنے کیلئے نمی شعبے کو بھی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق اسمارٹ اسٹاک پائلنگ کے ذریعے حکومت اپنے وسائل سے بڑے پیانے پر نئے گودام تعمیر کرنے کے بجائے نجی شعبے کی موجودہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت استعمال کر سکتی ہے۔ قیمتوں میں اضافے یا غذائی بحران کی صورتحال میں حکومت ذخیرہ شدہ اجناس مارکیٹ میں لا کر رسد بہتر اور قیمتوں کو قابو کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گندم، چینی اور دیگر بنیادی غذائی اشیا کے ذخائر پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو مہنگائی کا اضافی بوجھ براہ راست عام آدمی پر منتقل ہوگا۔
دوسری جانب دی ٹیلی گراف نے پاکستان کو دنیا کے ان چند منفرد مقامات کی فہرست میں شامل کیا ہے جہاں برف پوش پہاڑ، پرسکون وادیاں، قدیم تہذیب اور مہم جوئی آج بھی سیاحوں کو ایک منفرد دنیا دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ٹریول فیچر معروف ٹریول رائٹرز بینیڈکٹ ایلن اور سارہ مارشل نے تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے قارئین کو پاکستان کے ان دلفریب مقامات کی سیاحت کی ترغیب دی ہے۔ دی ٹیلی گراف نے خوبصورت وادی ہنزہ، بلند گلیشیرز، جنگلی پھولوں سے بھرے میدانوں اور شاہراہِ قراقرم کو بھی نمایاں کیا ہے۔ شاہراہِ قراقرم کو انجینئرنگ کا شاندار کارنامہ قرار دیتے ہوئے پہاڑی علاقوں کے لوگوں کی سادگی اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں ترکمانستان، گیبون، انگولا، تیمور لیستے، نکاراگوا، گیانا، آرمینیا، جمہوریہ کانگو اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔پاکستان بلاشبہ دنیا کیلئے ایک منفرد اور دلکش سیاحتی مقام ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں قدرتی حسن کے نظارے خود دنیا کو اپنی جانب دعوت دیتے ہیں۔ ہم معاشی زبوں حالی کا رونا تو روتے رہتے ہیں، لیکن حکومت صرف سیاحت کے شعبے پر بھرپور توجہ مرکوز کر لے تو پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل اسی ایک شعبے کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے۔ برف پوش پہاڑ اور پرسکون وادیاں پاکستان کے منفرد سیاحتی مقامات میں شامل ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن اس خوشی کے ساتھ ایک سنجیدہ سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمارے برف پوش پہاڑ تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پرسکون وادیاں بار بار آنے والے سیلابوں کی نذر ہو رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے سیاحتی مقامات کے تحفظ اور ملک میں سیاحت کے فروغ کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ اگر ہم نے اپنے پہاڑ، گلیشیر، وادیاں، جنگلات اور دریائوں کو محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کیلئے سیاحت کے یہ حسین مقامات صرف تصویروں اور کتابوں میں باقی رہ جائیں گے۔