• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے عشق میں ایران سے جنگ چھیڑ کر سب سے بڑ ا نقصان اپنی طاقت کے بھرم کے خاتمے کی شکل میں اٹھایا ہے جبکہ اپنی نہایت قیمتی شخصیات سمیت بھاری جانی ،مالی، فوجی نقصان کے باوجود ایران نے دنیا پر اپنی دھاک بٹھالی ہے۔ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالنے کے دعوے ہوا میں تحلیل ہوکر تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ مذاکرات کی خواہش کے مسلسل اظہار کے ساتھ کھوکھلی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھ کر لطیفوں کا موضوع بن گئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے امریکہ کے مقابلے میں یہ مثبت نتائج برائے نام اخراجات سے حاصل کیے ہیں۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ نے 2001 سے 2024 تک اپنی فوج پر 21 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جو فوجی طاقت کی فہرست میں بعد کے اٹھارہ ممالک کے مشترکہ فوجی اخراجات کے برابر ہیں جبکہ ایران نے اس دوران دفاع کی مد میں اس کا بمشکل دو فیصد خرچ کیا۔ مذکورہ تحقیقی ادارے نے ایران کے 2025 کے فوجی بجٹ کا تخمینہ صرف ساڑھے سات بلین ڈالر لگایا ہے۔

یوگوسلاویہ، افغانستان، عراق، لیبیا وغیرہ کے مقابلے میں ایران پر بمباری کا امریکی تجربہ اس اعتبار سے بالکل مختلف ثابت ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے لہٰذا طیاروں اور پائلٹوں کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر ایران کی فضاؤں میںان کے جنگی طیاروں کا پرواز کرنا محال ہوتا گیا۔ اس کی وجہ ایرانی قائدین اور عسکری ماہرین کی یہ دانشمندانہ تدبیر تھی کہ انہوں نے اپنا اہم دفاعی ڈھانچہ، اسلحے کے کارخانے، ہتھیاروں کے ذخیرے اور لانچنگ سائٹس ناقابل تسخیر پہاڑی خطوں کے نیچے بنائے ۔ یہ سب کچھ بظاہر اتنی رازداری سے کیا گیا کہ ایران سے باہر اس کی تفصیلات عام نہیں ہوئیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ ادارے بھی ا س سے بے خبر رہے چنانچہ فروری کی آخری تاریخ کو جس جارحیت کا ارتکاب انہوں نے یقین کی حد کو پہنچی ہوئی اس امید کے ساتھ کیا تھا کہ پانچ سات دنوں میں تہران گھٹنے ٹیک دے گا اور ان کی من پسند قیادت ایران کا اقتدار سنبھال لے گی وہ بری طرح خاک میں مل گئی۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا دس مارچ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ کا ایران پر مکمل فضائی تسلط ہے ، ایک لطیفہ بن کر رہ گیا۔

خود امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے مئی کے اواخر میں انکشاف کیا تھاکہ امریکی فضائیہ نے ایران سے جنگ میں کم از کم چار ایف 15لڑاکا طیارے ، ایک ایف 35، ایک ایف 10، سات کے سی 135ایندھن بھرنے والے طیارے، ایک ای 6اواکس، دو ایم سی 130جے اسپیشل آپریشنز طیارے، ایک ہیلی کاپٹر، ایک ٹریٹون ڈرون، 24 ایم کیو 9 ریپر جیسے قیمتی ڈرون ، طیارے اور میزائل کھوئے ۔اس کے برعکس 2003 میں عراق پر ہمہ گیر اور بھرپور حملے کے دوران امریکی افواج نے صرف ایک اے 10 اور چھ ہیلی کاپٹروں کا نقصان اٹھایا تھا۔ایران سے جنگ میں نہایت مہنگے طیاروں اور میزائلوں کی تباہی کی اس پریشان کن صورت حال میں واشنگٹن کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ طیاروں کے بجائے ایران کی سرحدوں کے باہرسے میزائل اور ڈرون حملے کیے جائیں۔ لیکن یہ حکمت عملی بھی زیادہ دیر نہ چل سکی کیونکہ ان ہتھیاروں کے ذخائر خالی ہونا شروع ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنے اسٹینڈ آف اور فضائی دفاعی ہتھیاروں کا ایک تہائی ذخیرہ ختم کر چکا ہے، جس میں جسّم اورٹوم ہاک کروز میزائل اور ایس ایم ٹو، تھری اور سکس طیارہ شکن میزائلوں کے ساتھ ساتھ پیٹریاٹ ، تھاڈانٹرسیپٹرز اور نئے اسٹرائیک پریسیشن میزائلوں کے آدھے ذخیرے بھی شامل ہیں جو اے ٹی سی ایم کی جگہ لے رہے ہیں۔ ایک جسّم میزائل کی قیمت سات لاکھ ڈالر اور ایک تھاڈ انٹرسیپٹر کی قیمت بارہ ملین ڈالر تک ہے جن کی کمی پوری ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ایران کے بیس ہزار سے پچاس ہزار ڈالر والے شاہد ڈرون کو روکنے کیلئے امریکہ کئی کئی ملین ڈالروں والے میزائل استعمال کر رہا ہے جو ہدف تک پہنچنے میں اکثر ناکام ہوجاتے ہیں جبکہ ان کے نقصان کی تلافی بھی جلد ممکن نہیں ہوتی۔

ان معلومات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایران کے مقابلے میں امریکہ کی جنگی حکمت عملی کی ناکامی اب پوری دنیا پر کھل چکی ہے۔ایران نے یہ کامیابی محض حکمت عملی سے نہیں بلکہ اپنے ناقابل شکست اتحاد اور حق پر ہونے کے یقین کے سبب حاصل کی ہے۔اس کے مقابلے میں امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے سامراجی عزائم کی تکمیل کی خاطر متعدد جنگیں چھیڑیں تاہم ویت نام، عراق و افغانستان سمیت بیشتر جنگوں میں وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا لیکن یہ ناکامی کم از کم کئی برسوں کی لڑائی کے بعد کھل کر سامنے آئی ۔ تاہم ایران سے جنگ میں صورتحال کا اس نوبت تک بہت کم وقت میں پہنچ جانا دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایران پر یہ جنگ رجیم چینج کے نعرے کے ساتھ مسلط کی گئی تھی لیکن پسپائی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بات آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے خاتمے کو اصل ہدف قرار دینے تک آ پہنچی ہے مگر اس کا حصول بھی امریکہ کیلئے محال نظر آتاہے جبکہ جنگ کے نتیجے میں عالمی معاشی بحران ہر لمحہ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔تاہم امریکہ اور ایران دونوں کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شکل میں خود بھی جنگ کی دلدل سے نکلنے اور دنیا کو بھی بحران سے نجات دلانے کا راستہ آج بھی کھلا ہوا ہے ۔

وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں حریف مکمل جنگ بندی کے ساتھ جس کا سو فی صد اطلاق تمام پراکسیز پر بھی ہو، اس مفاہمت نامے کے مطابق بات چیت سے اپنے اختلافات جلد ازجلد حل کرکے اپنے شہریوں سمیت پوری عالمی برادری کے محفوظ اور خوشگوار مستقبل کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تازہ ترین