ہنر انسانی محنت سے ہی ماخوذ ہے۔ ٹیکنالوجی بھی ہنر ہی کی جدید شکل ہے۔ گویا تمام ہنر اور ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں یعنی محنت اور ذہانت ہی کا شاہکار ہے۔ اسی محنت اور ہنر کے بل بوتے پر پروان چڑھنے والی معیشت میں بڑی برکات ہیں۔ اگرچہ سرمایہ کا ظہور اور وجود بھی انسانی محنت اور کسب کمال کا ہی حاصل ہے۔ سرمایہ انسانی محنت اور کمال کا آلہ کار بن جائے تو معیشت کو مثبت فروغ ملتا ہے۔ افراد خوشحالی پاتے ہیں۔ دنیا امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ افسوس سرمایہ جوان ہو کر طاقتور اور غلبہ پانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں نہ صرف امن عالم تباہ و برباد ہوتا ہے، بلکہ انسانی معیشت کیلئے قاتل بھی بن جاتا ہے۔
آقائے نامدارﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی جدوجہد سے ہمیشہ انسانی محنت اور ہنر کو فوقیت دی۔ سرمائے کے بل بوتے پر اجارہ داریوں کی مذمت بھی کی۔ سرمائے کی تباہ کاریوں کی پیش بندی کے طور پر سرمائے کو حدود و قیود میں رکھنے کیلئے تعلیمات کو فروغ دیا۔ نیز محض سرمائے کے بل بوتے پر دولت کے ارتکاز کو روکنےکیلئے ’’ربا‘‘ کو حرام قرار دیا تاکہ حقیقی اور جائز کمائیوں کو فروغ ملے، لوگوں میں فارغ بیٹھ کر دولت اکٹھی کرنے کا رحجان ختم ہو۔ سوسائٹی میں امیر اور غریب میں غیرمعمولی فرق کو ختم کرنے کیلئے صدقات اور زکوٰۃ کو لازم قرار دیا ۔ آپ نے تجارتی سودوں میں اجارہ داریوں، احتکار، فراڈ اور مشروط تجارت (غرر) کو ممنوع قرار دیا۔ کھلی تجارتی منڈیوں کے ذریعے کہ جن میں مال کی مقدار اور جنس کے معیار کی نمائش ہو سکے، لازم قرار دیا تاکہ کسی قسم کے ناجائز ریاستی گروہی ٹیکس یا ملی بھگت والے سودوں اور قیمتوں کا احتمال پیدا نہ ہو۔ آپ انسانی محنت کو اعلیٰ مقام دیتے تھے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ انسانی محنت سے کسب روزگار، رزقِ حلال کا دروازہ کھلتا ہے۔ یہ انسان کے کردار کو نکھارتا ہے اور اس کا اللہ کے ہاں اجر ہے۔ اسی لئے آپ نے مزدوروں اور کسب حلال کے عادی کارکنوں پر کسی قسم کی زیادتی سے منع فرما دیا۔ آپ نے امیروں کو پابند فرمایا کہ وہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کی محنت کی اُجرت ادا کریں ۔ آپ نے مزدوروں سے ان کی جسمانی اور ذہنی استعداد سے بڑھ کر مشقت لینے سے منع فرمایا۔ آپ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے والوں کا خود احتساب کرے گا۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک صحابی کو شدید جسمانی مشقت کرتے دیکھا تو وفورِ جذبات سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دے دیا۔ مزدور کی توقیر کیلئے اس سے بڑھ کر کیا مثال ہو سکتی ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پتھر اور گارہ اُٹھاتےرہے۔ نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے باوجود خود کو محنت کشوں کا غمگسار بنایا۔آپ مساوات کے درس جاودانی کے اظہار کیلئے ان کے ہمراہ اجتماعی مشقت میں شامل ہو جاتے۔ آپ نے عارضی ریلیف اور تالیف کی بجائے معاشی پروگرام کو اس طرح وضع کیا کہ پسماندہ لوگوں کے معاش کا مستقبل بندوبست ہو۔
وہ مالی مدد کے سہارے بعدازاں خود روزگار کیلئے جدوجہد کر سکیں۔ اسی لئے مستقل طور پر عوامی وقف کے ادارے بھی بنائے جن کے تحت عوامی استعمال کیلئے کنوئوں کی خریداری، کاشت کاری کیلئے زمینوں کی سپردگی اور مال کی فروخت اور تجارت کیلئےقافلوں اور منڈیوں کا بندوبست بھی شامل ہے۔ آپ نے بھکاری بننے سے منع فرمایا۔ محنت کی عظمت کو فروغ دیا۔ مشہور واقعہ ہے کہ آ پ ﷺنے بھیک مانگنے والے صحت مند فقیر کو کلہاڑی اور رَسّی فراہم کی اور اسے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر میں فروخت اور روزگار کمانے کی ترغیب دی۔ آنحضرتﷺ ہمیشہ آسودہ حال لوگوں کو محفل میں موجود اور غائب مفلسوں کی مدد کی تلقین کرتے، کیوں کہ آپکو بخوبی ادراک تھا کہ غربت بذاتِ خود ایک بہت بڑی مشکل اور امتحان ہوتی ہے کہ جو انسانوں کو گمراہی کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔ آپ نے نہ صرف انفرادی خوش حالیوں کو مفلس افراد کی مدد کیلئے استعمال کیا بلکہ قومی وسائل بارے واضح تعلیمات ارشاد فرمائیں تاکہ مملکت کے ہر شخص کو مساویانہ فوائد کا موقع میسر ہو۔ اسی لئے قدرتی وسائل ازقسم زمین، پانی، جنگلات، معدنیات کو مملکت کے تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت قرار دیا۔ ماسوائے حصول پیداوار کے تصرف کے، ان وسائل پر ذاتی ملکیتوں کی حوصلہ شکنی فرمائی تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے ان کے استعمال کیلئے غیرقانونی اجارہ داریاں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ افسوس کہ سرمایہ نے انسانی محنتوں کیخلاف اپنی جنگ کو اس دور میں بھی جاری رکھا ہوا ہے اور انسانوں کو ہزیمت پہنچانےکیلئے نئے حربے اختیار کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ہوشیار سرمایہ داروں نے نئی ایجادات یعنی مصنوعی ذہانت (AI)، آٹومیشن اور روبوٹ کو انسانی محنتوں کے مقابل لاکھڑا کیا ہے۔ حالانکہ ان علوم کو انسانوں کی فلاح کے دیگر منصوبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔
جدید ٹیکنالوجی کے انسانی ہنر اور مشقتوں کے مقابل بے محابہ استعمال سے ایک مرتبہ پھر سرمایہ اور محنت کی جنگ کا آغاز ہو جائیگا۔ نہ صرف بے روزگاری بڑھے گی، ہنرمندوں کے حوصلے پست ہوں گے، بلکہ صارفین کی ضروریات محدود ہو جائینگی۔ رسولِ پاک ﷺکو سرمایہ اور انسانی محنتوں کی باہمی چپقلش کا بخوبی ادراک تھا اسی لئے آ پ نے ہمیشہ کیلئےسرمائے کو انسانی محنتوں کے مشروط استعمال سے منسلک کر دیا۔ سرمایہ کو محنتوں کا ماتحت قرار دیا اور سرمایہ کے غلبے سے منع فرمایا۔ چنانچہ آپ نے انسانی محنت کے بل بوتے پر کسب حلال کمانے والوں کو اللہ کا دوست قرار دیا، جبکہ اس کے مقابل سرمایہ داری کے تسلط کو اخلاقی ارتقاء کے منافی گردانا۔
ــراہنمائے ارتقاء ہے نقش پائے مصطفی ؐ
ہنس رہی ہے آدمیت اپنی منزل دیکھ