چین کے چند شہروں کے حالیہ دورے سے واپسی پر ایک بات بار بار ذہن میں آتی رہی کہ پاکستان کو شاید اس وقت جتنا ہم خود اپنی سیاسی کشمکش، معاشی مشکلات اور داخلی تنازعات کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں، چین اسے اس سے کہیں مختلف زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ وہاں پاکستان کے بارے میں دلچسپی ضرور ہے، اعتماد بھی موجود ہے، لیکن اس اعتماد کے ساتھ ایک غیر معمولی احتیاط بھی پیدا ہو چکی ہے۔ چینی حلقوں میں سب سے زیادہ باریک بینی سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کتنا ہے اور اس کا تاثر دنیا میں کیا ہے۔چین میں یہ رائے خاصی مضبوط دکھائی دیتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے تصادم کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا، اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی قدر و اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح گزشتہ برس مئی میں بھارت کیساتھ ہونیوالی عسکری کشیدگی میں پاکستان کی کارکردگی نے چینیوں کے نزدیک ایک اور حقیقت واضح کی کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی عسکری بالادستی کا تصور چکنا چور ہو چکا ہے۔حالانکہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا میں اسے ایک حقیقت کے طور پرپیش کیا جاتا تھا ۔مکہ معاہدے کے بارے میں تاہم چینی نقطۂ نظر زیادہ محتاط ہے۔ وہاں اسے ابھی ایک ابتدائی مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ یہ معاہدہ آخر کس مقصد کے حصول کیلئے ہوا ہے؟ اسکا عملی فریم ورک کیا ہوگا؟ پاکستان کو اس سے عسکری اور معاشی طور پر کیا حاصل ہوگا؟ ان سوالات کے واضح جوابات ابھی سامنے نہیں آئے۔ سعودی عرب کی جانب سے ریفائنری کے قیام کی بات ضرور کی جاتی ہے، لیکن عملی پیش رفت فی الحال نمایاں نہیں۔ چین میں یہ پہلو بھی زیرِبحث ہے کہ معاہدے کے دیگر ممالک میں سے ایک کے تو اسرائیل سے اچھے تعلقات ہیںاور اسرائیل کی ہمسایہ یا قریبی وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی اسکے تعلقات ہیں جبکہ دوسرے ملک کے بھی کسی نہ کسی ذریعے سے اسرائیل سے روابط ہیں ۔ چنانچہ اس معاہدے کو ابھی کسی بڑے علاقائی اتحاد کی حتمی شکل سمجھنا قبل از وقت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اسکے اہداف ہی واضح نہیں ۔ امریکہ سے دس ارب ڈالر کی ممکنہ مالی امداد کی پاکستانی کوششوں کا ذکر بھی چینی حلقوں میں ہو رہا ہے۔ تاہم وہاں یہ توقع بہت کم ہے کہ اتنی بڑی رقم پاکستان کو مل سکے گی۔ زیادہ سے زیادہ کچھ محدود مالی معاونت ممکن ہے۔ افغانستان کے معاملے میں چین کا مؤقف بھی خاصا واضح ہے۔ چینی سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی شکایات بے بنیاد نہیں، لیکن بیجنگ خود کو اس تنازعے کا فریق نہیں بلکہ ایک سہولت کار سمجھتا ہے۔ چین پیغام رسانی کر سکتا ہے، دونوں طرف بات چیت کی راہ ہموار کر سکتا ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر پاکستان کے مسئلے کو اپنے ذمے لینےپر تیار نہیں۔ بالآخر افغانستان سے نمٹنے کی ذمہ داری پاکستان کو خود ہی اٹھانا ہوگی۔ اصل تشویش البتہ سی پیک کے حوالے سے ہے۔ بیجنگ میں ایک جملہ سننے کو ملتا ہے: ’’سی پیک چل ضرور رہا ہے، مگر دوڑ نہیں رہا۔‘‘ ایم ایل ون کا ابھی تک تعمیراتی مرحلے میں نہ پہنچنا اس سست رفتاری کی نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔ چینی اب سی پیک کے معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط ہیں،انکے ذہن میں جولائی 2017ء کے بعد کے واقعات ابھی تازہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگلی حکومت کے دور میں سی پیک کے بارے میں فریز کرنے کی باتیں سامنے آئیں، انکے وزیر تجارت نے غیر ملکی اخبار میں سی پیک کے خلاف آرٹیکل تحریر کیا ۔ اب خبریں گرم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پھر ان سے ہی بات چیت کر رہی ہے، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ پاکستان میں کون مسند نشین ہو اور کون نہیںلیکن اگر ایسے لوگ دوبارہ تخت نشین ہو گئےتو چین کیلئے یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آج کئے گئے فیصلوں کی ضمانت کل بھی برقرار رہے گی یا نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ نواز شریف کا کردار بھی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چینی حلقوں میں انہیں سی پیک کے حوالے سے نسبتاً واضح اور مستقل مؤقف رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے، اس وقت انکی جماعت اور انکے بھائی اقتدار میں ہیں لیکن تصور یہ ہے کہ پاکستانی سیاست اب پہلے جیسی نہیں رہی بلکہ ریاستی ماحول، طاقت کے مراکز میں2017ء کی نسبت بہت فرق پڑ گیا ہے ۔ یہاں کسی کی صحت کے مسائل بھی افواہوں کے طوفان پیدا کردیتے ہیں۔چین کی تشویش یہی ہے کہ اگر وہ سی پیک کی رفتار تیز کرتا ہے اور پاکستان میں دوبارہ کوئی بڑا سیاسی دھماکہ ہو جاتا ہے تو کیا ہوگا؟ پروفیسر ٹانگ سے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز کے بارے میں گفتگو رہی۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی تھی کہ زیادہ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون قائم کرنے کے بجائے لاہور اور کراچی میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز قائم کرنے چاہئے تھے ۔ بہت زیادہ منصوبے بنانا اور پھر کسی ایک پر بھی پوری توجہ نہ دینا مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرتا۔ آخرکار مسئلہ صرف سی پیک کا نہیں، پورے پاکستان کا ہے۔ کاروباری آدمی کو صرف مسلح محافظ نہیں چاہئیں،اسے ایک ’’محفوط ماحول‘‘ چاہئے، ایسی فضا جہاں وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکے سرمایہ لگا سکے اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کل سیاسی تبدیلی کیساتھ اسکے منصوبے کی سمت بھی بدل جائیگی۔چین پاکستان کا دوست ہے، مگر دوستی بھی ایک ماحول مانگتی ہے۔ جب تک پاکستان حقیقی سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور امن و امان کی قابلِ اعتماد صورتحال پیدا نہیں کرتا، اسکے دوست بھی اس کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ چین پاکستان کیساتھ کتنا کھڑا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان خود اپنے فیصلوں پر کتنی دیر تک کھڑا رہ سکتا ہے۔