مصنوعی ذہانت کرہ ارض پر رہنے بسنے والے لوگوں کی مشترکہ طاقت بنے گی یا اسے دودنیاؤں میں تقسیم کرکے نئی تاریخی بے انصافیوں کا ذریعہ بنے گی؟ یہ سوال اسی وقت سے صاحبان دانش کے پیش نظر رہا ہے جب سے اس نئی ٹیکنالوجی کے ابتدائی مظاہر سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔ ایلون مسک کے بیانات سے ایسی جنت کا خاکہ ابھرتا رہا ہے جس میں کسی کو بھی لازمی طور پر کام کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مگر یہی وہ خاص پہلو ہے جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اس کرشمہ سازی سے ان خطوں، ممالک اور علاقوں کے لوگ کس طرح فائدہ اٹھائیں گے جواس وقت تک دستیاب ٹیکنالوجی سے ہی اپنے طور پر فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔مصنوعی ذہانت نے بلاشبہ انسان کے سامنے امکانات کی ایسی دنیا کے دروازے کھول دئیے ہیں جن کا چند برس پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا مگر ترقی پذیر ملکوں کی یہ فکر مندی بے محل نہیں کہ جو ممالک مصنوعی ذہانت پر دسترس کے باعث تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے کے قابل ہیں انکے مقابلے میں وہ ممالک وقت گزرنے کےساتھ پیچھے ہوتے چلے جائیں گے جو ٹیکنالوجی کے موجودہ مرحلے پر ہم قدم نہیں ہوسکے۔ ان کی تشویش کے اس پہلو کو نظر انداز کرنا بہرطور ممکن نہیں جسکی طرف امریکی کمپنی انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈایو موڈی نے اپنے مضمون میں توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں دفتری شعبے کے ابتدائی سطح کے تقریباً پچاس فیصد افراد کی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ یہ خدشہ متعددپہلو رکھتا اور اس سوال کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ مشینوں نے زیادہ کام اپنے ہاتھوں میں لے لیا تو عام آدمی اپنی محنت بیچ کر کیسے آمدن حاصل کرے گا اور اگر اے آئی کے تمام وسائل چند طاقتور ملکوں اور کمپنیوں کے پاس مرکوز ہوگئے تو دنیا کی دولت اور طاقت کا نقشہ کیا ہوگا؟ ایسے عالم میں کہ ،یہ اور ان جیسے سوالات عالمی سطح پر سنجیدہ بحث کا حصہ بن رہے ہیں، ورلڈ بینک سمیت کئی بین الاقوامی ادارے ترقی پذیر ملکوں کو مصنوعی ذہانت کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مشوروں کی اصابت اپنی جگہ۔ مگر بڑا سوال یہی ہے کہ مذکورہ صلاحیتیں کیسے مضبوط ہونگی اور مصنوعی ذہانت تک ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کہلانے والے ملکوں کی رسائی کا راستہ کہاں سے نکل سکتا ہے؟ اس سوال کا پہلا حوصلہ افزا جواب پچھلے مہینے دواہم پیش رفتوں کی صورت میں عوامی جمہوریہ چین سے سامنے آیا ہے۔ 16۔ جولائی کو شنگھائی میں29 ممالک نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو آپریشن آرگنائزیشن(WAICO)کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے جواس عزم کا اظہار تھا کہ مصنوعی ذہانت کو نئی دنیا کی مشترکہ طاقت بنایا جائے گا۔ تنظیم کے بانی ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس کے نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار نے مذکورہ دستاویز پر دستخط کئے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے اس تنظیم کے قیام کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی تاریخ میں اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق اس تنظیم کا مقصدمصنوعی ذہانت کے عالمی نظم ونسق میں ترقی پذیر ملکوں کی شراکت بڑھانا اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ دوسری پیش رفت اس تنظیم کے قیام کے اگلے ہی روز17جولائی کو شنگھائی میں مصنوعی ذہانت کی عالمی کا نفرنس کے آغاز کی صورت میں سامنے آئی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں چینی صدرنے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی تک غیر مساوی رسائی نئی تاریخی نا انصافیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے ملکوں پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے اوپن سورس امکانات سے فائدہ اٹھایا، اور ترقی پذیر ممالک کو اے آئی کی صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد دی جائے۔
چینی صدر نے ترقی پذیردنیا کیلئے اے آئی کی تربیت اور صلاحیت سازی کیلئے عملی معاونت کا وعدہ کیا۔ اطلاع کے بموجب چین نے اگلے پانچ برس میں مصنوعی ذہانت کی تربیت اور سمینارز کے پانچ ہزار مواقع فراہم کرنے، علاقائی تنظیموں کے ساتھ اے آئی میں تعاون بڑھانے اور30ممالک کو اے آئی پر مبنی موسمی انتبا ہی نظام تک رسائی دینے کا اعلان کیا۔ جسے نومولود تنظیم کا ابتدائی ایجنڈا کہا جاسکتا ہے۔ اس سے ان ملکوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا جوآنے والے دور کی ناہمواری کے خدشات رکھتے ہیں۔ اس لائحہ عمل میں آگے چل کر نئی ضرورتوں کے حوالے سے تبدیلیاں آنے کے امکانات یقینی طور پر مضمر ہیں۔مصنوعی ذہانت میں تعاون کی عالمی تنظیم(WAICO)کانام ہی ظاہر کررہا ہے کہ یہ وقتی نوعیت اور جامد ایجنڈے کی حامل تنظیم نہیں۔گزرتے وقت کے ساتھ جو چیلنج سامنے آتے جائیں گے۔ انکے مطابق اس کا ایجنڈا وسیع ہوتا رہے گا۔ پاکستان، جو اس تنظیم کے ابتدائی شرکا میں شامل ہے، اسکی ایک پہچان دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے برآمد کنندہ ملک کی بن چکی ہے۔مصنوعی ذہانت میں بھی ہم اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو اے آئی کے وسیع میدان سے جوڑا جائے۔اسلام آباد کیلئے اس ضمن میں ایک اہم امکان سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات میں پوشیدہ ہے۔ سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کو اپنی آئندہ معیشت کا اہم ستون بنایا ہے۔ ریاض اس شعبے میں تحقیق، بنیادی ڈھانچے اور انسانی صلاحیت کی تیاری پر تیزی سے کام کررہا ہے۔ پاکستان اپنے نوجوان انسانی سرمائے اور سعودی عرب کے مالی وسائل ، ٹیکنالوجی اور اے آئی کے بڑھتے تجربے کو باہم جوڑکر ایک مفید شراکت داری قائم کرسکتا ہے۔ اس تعاون کا دائرہ تعلیم اور تربیت سے لیکر ڈیٹا، تحقیق، سافٹ وئیر اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال تک پھیل سکتا ہے۔ یوں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ موجود مضبوط تعلقات بھی مصنوعی ذہانت کی دنیا میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
دنیا اس وقت ایسی تکنیکی تبدیلی کے دروازے پرکھڑی ہے جو معیشت، روزگار اور عالمی طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔ آخرکار مصنوعی ذہانت کی کامیابی اس میں نہیں ہوگی کہ مشینیں انسان سے کتنی زیادہ ذہین ہوچکی ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ اس ذہانت سے کتنے انسان فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کتنے ملک ترقی کرتے ہیں اور دنیا میں مواقع کا فرق کتنا کم ہوتاہے۔ اگر مصنوعی ذہانت نے واقعی ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولا ہے تو اس دنیا کی سب سے بڑی خوبی یہی ہونی چاہیے کہ اس کا دروازہ سب کیلئے کھلا ہو۔ اسی صورت میں مصنوعی ذہانت محض چند ملکوں یا اداروں کی طاقت نہیں رہے گی، نئی دنیا کی مشترکہ طاقت بن سکے گی۔