• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عورت کیلئے اس کا گھر وہ جگہ ہونی چاہئے جہاں وہ خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھے۔ لیکن ایک معاشرے کے طور پر ہمارے لئے اس سے بڑا سوال اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک عورت کو سب سے زیادہ خوف گھر کے باہر کسی اجنبی سے نہیں بلکہ اسی شخص سے ہو جو اسکے گھر کے اندر موجود ہے؟حنا جاوید راولپنڈی میں اپنے ہی گھر میں مردہ پائی گئیں۔ انکے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور گلے میں تار لپٹا ہوا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ اس سے پہلے بھی اپنے شوہر کے تشدد کی شکایت کر چکی تھیں۔ پولیس نے انکے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو گرفتار کیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ ٹیکسلا میں 28سالہ ٹک ٹاکر شمسو بی بی، جنہیں عائشہ گلمانا کے نام سے جانا جاتا تھا، اپنی گاڑی میں گولی مار کر قتل کر دی گئیں۔ پولیس کے مطابق ان کے اپنے خاندان کے افراد نے ”غیرت“ کے نام پر انکے قتل کی سازش کی، کیونکہ انہیں شمسو بی بی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر اعتراض تھا۔ اسلام آباد میں 25سالہ حنا ظریف کی ان کی مرضی کیخلاف شادی کی گئی۔ انہوں نے خلع لیکر اس رشتے سے آزادی حاصل کی، مگر بعد میں انہیں یہ یقین دہانی کراکے لاہور سے واپس لایا گیا کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔

تین عورتیں، تین مختلف کہانیاں، لیکن ان سب میں ایک خوفناک قدرِ مشترک ہے: عورت کی زندگی اور اس کے فیصلوں پر کسی دوسرے شخص کی ملکیت کا تصور۔ کہیں شوہر یہ سمجھتا ہے کہ بیوی پر اختیار اسکا حق ہے۔ کہیں خاندان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ایک عورت کی آزادانہ زندگی نے انکی ”عزت“ کو نقصان پہنچایا ہے۔ کہیں ایک عورت کو صرف اسلئے موت کی سزا دیدی جاتی ہے کہ اس نے ایک ناخوشگوار شادی سے نکلنے کا اپنا قانونی حق استعمال کیا۔ ساحل کی Six Months Cruel Numbers Report کے مطابق جنوری سے جون 2026 ء کے دوران پاکستان بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3172واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 644قتل، 514تشدد کے واقعات، 462اغوا، 280ریپ اور 132 نام نہاد غیرت کے نام پر قتل شامل تھے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ رپورٹ ہونیوالے نصف سے زیادہ واقعات متاثرین کے اپنے گھروں میں پیش آئے۔

ہم اپنی بیٹیوں کو بچپن سے بتاتے ہیں کہ دنیا خطرناک ہو تو گھر لوٹ آنا۔ لیکن اگر گھر ہی خطرے کی جگہ بن جائے تو وہ کہاں جائیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہمارا ردِعمل تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ ایک عورت قتل ہوتی ہے، اس کا نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتا ہے، ملک بھر میں غم و غصہ پھیلتا ہے، گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ پھر چند دن گزرتے ہیں اور ہم سب آگے بڑھ جاتے ہیں، یہاں تک کہ کسی اور عورت کا نام اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

ہم یہ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ قندیل بلوچ کو 2016 ء میں ان کے بھائی نے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی زندگی اپنی شرائط پر گزار رہی تھیں۔ اس قتل کے بعد پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کیخلاف قانون کو مزید سخت کیا۔ ان کے بھائی کو عمر قید کی سزا بھی ہوئی، لیکن بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے اسے بری کر دیا۔ قندیل بلوچ کا مقدمہ ہمیں ایک تلخ حقیقت یاد دلاتا ہے: قانون بنا دینا اور انصاف یقینی بنانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ میں اس فرق کو اپنے قانون سازی کے تجربے سے بھی جانتی ہوں۔ میں نے آئی سی ٹی ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 ء کا مسودہ تیار کیا اور قائمہ کمیٹی میں اسکی دفعات کا دفاع کیا، خصوصاً ان کوششوں کے مقابلے میں جنکا مقصد اسکے تحفظات کو کمزور کرنا تھا۔ مجھے قانون سازی کی طاقت پر یقین ہے۔ قانون حقوق متعین کرتا ہے، داد رسی کا راستہ دیتا ہے اور ریاست کا مؤقف واضح کرتا ہے۔ لیکن قانون کی اپنی حدود بھی ہیں۔ اگر ایک عورت پولیس کے پاس جانے سے خوفزدہ ہو، یا پولیس اس کی شکایت کو ”گھر کا معاملہ“ کہہ کر واپس بھیج دے، تو کتاب میں لکھا ہوا تحفظ اسے نہیں بچا سکتا۔ بہترین قانون بھی ناقص تفتیش، کمزور شواہد اور برسوں کی عدالتی تاخیر کے سامنے بے اثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں آج اصل کمی قوانین کی نہیں، ان پر عمل درآمد کی ہے۔

یہ ناکامی اکثر قتل سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ تشدد اچانک نہیں ہوتا اس کے اشارے موجود ہوتے ہیں۔ شوہر بیوی کو دوستوں اور خاندان سے الگ کرتا ہے، اسکا فون، آمدورفت یا پیسوں پر اختیار قائم کرتا ہے۔ دھمکیاں معمول بن جاتی ہیں۔ کوئی مرد انکار قبول کرنے کے بجائے عورت کا تعاقب کرتا ہے، کوئی خاندان ”لوگ کیا کہیں گے“ کے خوف سے بیٹی کی آزادی محدود کرتا چلا جاتا ہے۔ پھر وہ لمحہ آتا ہے جب عورت مدد مانگتی یا خطرے کی شکایت کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست ایک جان بچا سکتی ہے۔ مگر ہمارے ادارے اکثر خطرے کو اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیتے جب تک وہ سانحہ نہ بن جائے۔ تبدیلی یہیں سے شروع ہونی چاہیے۔گھریلو اور صنفی تشدد کے معاملات دیکھنے والے پولیس افسران کو خطرے کو پہچاننے اور اس کا درست اندازہ لگانے کی تربیت دینی ہوگی۔ خوف، مالی انحصار، بچوں یا دباؤ کے باعث کوئی عورت شکایت واپس لے سکتی ہے یا دوبارہ اسی گھر میں جا سکتی ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا۔ نظام کو تشدد کی نفسیات سمجھنی ہوگی۔ تفتیش اور پراسیکیوشن بھی جوابدہ ہونی چاہئیں۔ مقدمہ ناقص شواہد، غیر محفوظ گواہوں یا خاندان پر صلح کے دباؤ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ جوابدہی صرف قاتل تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی عورت بار بار جان کے خطرے کی اطلاع دے اور پھر قتل ہو جائے تو سوال صرف یہ نہیں کہ اسے کس نے قتل کیا، بلکہ یہ بھی ہےکہ اسے بچانے میں کون ناکام ہوا۔ کیا شکایت درج ہوئی؟ خطرے کا جائزہ لیا گیا؟ کوئی فالو اَپ ہوا؟ ۔

ایک آٹھ سالہ بیٹے کی ماں ہونے کے ناتے میں اس بارے میں اکثر سوچتی ہوں۔ ہم اپنی بیٹیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے انہیں کتنی ہدایات دیتے ہیں: وہاں مت جانا، دیر تک باہر مت رہنا، اجنبی پر بھروسہ مت کرنا، لباس کا خیال رکھنا، لوکیشن شیئر کرنا، پہنچ کر فون کرنا۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اتنی ہی توانائی اپنے بیٹوں کو کچھ اور باتیں سکھانے پر صرف کریں۔محبت ملکیت نہیں۔ حسد محبت کا ثبوت نہیں۔ انکار بے عزتی نہیں۔ عورت کی خودمختاری مرد کی توہین نہیں۔ اس کا کیریئر، لباس، دوستیاں اور فیصلے اس کے اپنے ہیں۔ یہ سبق عورتوں پر تشدد کے مسئلے سے الگ نہیں ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی روک تھام شروع ہوتی ہے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ ایک عورت کے قتل کے بعد پارلیمنٹ کتنی جلدی قانون بنا سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ جب کوئی عورت کہے ”مجھے ڈر لگ رہا ہے“ تو پولیس اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ تشدد ہو تو پراسیکیوشن مجرم کو سزا دلانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت بروقت انصاف فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ ہم نسلوں سے اپنی بیٹیوں کو یہ سکھاتے آئے ہیں کہ خطرے سے کیسے بچنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ وہ خطرہ نہ بنیں، اور اپنے اداروں کو سکھائیں کہ خطرے کو نظرانداز نہ کریں۔

تازہ ترین