• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اُس بچے کا کوئی نام نہیں تھا۔وہ بچہ 21جون کو پیدا ہوا۔ ماں کی عمر بمشکل پندرہ برس تھی۔ یعنی وہ خود ابھی بچی تھی۔ پیدائش کے بعد عملے نے لڑکی سے نکاح نامہ طلب کیا۔ لڑکی کے پاس نہیں تھا۔ شوہر اور نانی سے کہا گیا کہ ثبوت لے آئیں۔ وہ گئے مگر پھر واپس نہ آئے۔ وہ بچی اور اُس کا نومولود انتظار کرتے رہے۔ پندرہ سال کی ماں کو بتانا تھا کہ بچہ کس کا ہے اور نومولود کے ذِمّے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ’خدا کی مرضی‘ سے اِس دنیا میں آیا ہے۔ اُس معصوم کے پاس لنکنز اِن کا فارغ التحصیل کوئی بیرسٹر نہیں تھا جو اُس کا مقدمہ لڑ سکتا سو وہ وہیں دوسرے بیمار بچوں کے درمیان، اسپتال کی نرسری کے کسی کونے میں پڑا رہا۔ اور پھر اُس نرسری پر وہ قیامت ٹوٹی جس کا نقشہ اُن کتابوں میں بھی نہیں کھینچا گیا جن میں اصل قیامت کی وعید سنائی گئی ہے۔ نرسری میں آگ لگ گئی اور چودہ نومولود جل کر مر گئے۔ اُن میں وہ لاوارث بچہ بھی شامل تھا۔ اور اِس وقت، جب یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں، اُس کی لاش مردہ خانے میں پڑی ہے کیونکہ اُسے وصول کرنے والا کوئی نہیں۔اللہ جانے یہ کون سی دنیا ہے جس میں ہم زندہ ہیں، زندہ بھی ہیں یا محض کوئی خواب یا واہمہ ہے۔ کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا اور اگر ملتا ہے تو فقط اتنا کہ یہ سب خدا کی بڑی اسکیم ہے جس کے تحت قیامت کے روز انصاف کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے اور وجہ اِس بتائی گئی ہے ’آزادی انتخاب‘ یعنی خدا نے انسان کو مختار بنایا اور اختیار کا مطلب ہی یہ ہے کہ غلط انتخاب کی گنجائش موجود ہو ورنہ نیکی کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔ یہ جواب اپنی جگہ وزن رکھتا ہے مگر تسلی بخش نہیں۔ آزادیِ انتخاب اُس شر کی وضاحت کر سکتی ہے جو انسان کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ زلزلے، وبا اور سیلاب کے پاس کوئی آزادی نہیں۔ جس وائرس نے بچے کے پھیپھڑے جکڑے اُس نے کوئی اخلاقی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ اور پھر خدا کی یہ اسکیم کیا ناروے پر لاگو نہیں ہوتی؟ کیا سویڈن کا خدا کوئی اور ہے؟ کیا سنگاپور خدا کے احکامات کے تابع نہیں؟ کیا اِن ممالک کیلئے کوئی الگ آسمانی کتاب ہے؟ کیا اُن کے فائر الارم اِسلئے بج اٹھتے ہیں کہ اُنکی قیامت کا نصاب مختلف ہوگا؟ کیا اُن کیلئے روزِ محشر منسوخ کر دیا گیا ہے؟ کیا اُن سے کہا گیا ہے کہ تم فکر نہ کرو، تمہارا حساب یہیں چکا دیا جائے گا، اور ہم سے کہا گیا ہے کہ تم صبر کرو، تمہارا معاملہ آخری عدالت میں دیکھا جائے گا؟ ظاہر ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔ فرق خدا میں نہیں ہے۔ فرق اِس بات میں ہے کہ اُن کے ہاں انسانی جان کی قدر ہے. اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اِس ظلم کا جواب آخرت میں ہے تو ہم نے سوال بند کر دیا۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اِس ظلم کی وجہ پرانی وائرنگ اور ناقص انتظام ہے تو ہم نے سوال کھول دیا۔ یہ دونوں جواب ایک ہی وقت میں نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ایک ذمہ داری کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے اور دوسرا زمین پر واپس لاتا ہے۔ ہم نے دونوں کو ملا کر ایک تیسری چیز بنا لی ہے، ایک ایسا معجون جس میں مذہب کی ساری تسلی ہے اور دنیاوی نظام کی کوئی سختی نہیں۔ اگر حادثات محض ’یاد دہانی‘ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک زلزلے میں دبے ہوئے بچے کو پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ مؤقف خدا کو بچانے کے لیے اس کے انصاف کو قربان کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسئلہ شر صدیوں سے لاینحل ہے۔

پہلا دعویٰ یہ ہے کہ ایک آخرت ہے جہاں انصاف ہو گا۔ دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اِن سانحات کا جواب صرف اور صرف مذہب کے پاس ہے۔ پہلا ایمان کا معاملہ ہے اور ایمان پر بحث نہیں ہوتی۔ دوسرا منطق کا معاملہ ہے اور منطق کے دعوے کو جانچا جا سکتا ہے۔ اعتراض اُس لفظ ’صرف‘ پر ہے۔ اِس لفظ پر اعتراض کی وجہ سمجھنے کے لیے تلافی اور توجیہ کا فرق جاننا ہوگا۔ تلافی کا مطلب ہے متاثرہ فرد کو نقصان کے بدلے کچھ دے دینا۔ توجیہ کا مطلب ہے یہ بتانا کہ نقصان ہوا کیوں۔ اگر اُن چودہ بچوں کو، جو نرسری میں بے یارومددگار پڑے جھلس گئے، بعد میں لامتناہی راحت عطا کر دی جائے تو یہ بہت بڑی تلافی ہو گی مگر یہ اُس سوال کا جواب نہیں کہ اُن کے ساتھ یہ سب کیوں ہونے دیا گیا۔ عدالت مقتول کے ورثا کو دیت دلوا سکتی ہے مگر دیت قتل کو جائز نہیں بناتی۔ اِس مقام پر ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ آخرت زمان و مکان سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ دنیا واقعی ہماری فہم سے باہر ہے تو ہم اُسے وضاحت کے طور پر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ وضاحت کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ سمجھ میں آئے۔ جو چیز تعریفاً ناقابلِ فہم ہو وہ تسلی دے سکتی ہے مگر توجیہ نہیں کر سکتی۔ یعنی زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے جواب موجود ہے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ جواب صرف ہمارے پاس ہے اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ وہ جواب ہماری سمجھ سے باہر ہے، دو متضاد باتیں ہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ دنیا میں خلا ہے لہٰذا ایک ایسی دنیا لازماً موجود ہوگی جس میں خلا نہیں۔ منطق میں اسے شتابی چھلانگ کہتے ہیں۔ کسی شے کی ناتمامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ کہیں اس کی کامل شکل موجود ہے۔ صحرا کی پیاس اس بات کی دلیل نہیں کہ اگلے ٹیلے کے پیچھے دریا ہے۔ فلسفے میں اسے argument from desire کہا جاتا ہے، خواہش کا وجود مطلوب کے وجود کو ثابت نہیں کرتا۔

اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ اِس قسم کے سوالات پوچھنا مناسب نہیں تو اُسے اقبال پڑھنا چاہیے۔ اقبال اُس روایت کا سب سے بڑا نام ہے جو انسان کا مقدمہ خدا کے سامنے رکھتی ہے۔ ’فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا، یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک۔‘ ’شکوہ‘ کا پورا ڈھانچہ ہی خدا سے براہِ راست شکایت پر کھڑا ہے۔ اپنے اصل سوال پر واپس آتے ہیں، کیا ناروے کا خدا کوئی اور ہے؟ نہیں۔ وہاں بھی وہی قیامت آئے گی جو یہاں آئیگی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ اُس قیامت کا انتظار کیے بغیر ہی اپنے اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تدابیر کرتے ہیں اور کوئی قیامت صغریٰ برپا نہیں ہونے دیتے۔ روزِ محشر جب عدالت لگے گی تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ قیامت پر تمہارا ایمان تھا یا نہیں، سوال یہ پوچھا جائے گا تم اُن چودہ بچوں کو جھلسنے سے بچا سکتے تھے، تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ اگر ہمارا خیال ہے کہ خدا یہ جواب قبول کر لے گا کہ ہم آج کے دن کا انتظار کر رہے تھے تو پھر ہمیں عذاب الٰہی کیلئے تیار رہنا چاہئے۔

تازہ ترین