بلاشبہ اللہ کے تمام پیغمبر اپنی اُمتوں کیلئے اخلاقی اور دنیوی اُصولوں کا Package بھی لیکر آئے۔ اپنے ماننے والوں بلکہ پوری انسانیت میں امن و سکون اور معاشرے کی بقا کیلئے انہوں نے کام کیا، کیونکہ اسکے بغیر اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کی پیروی میں مشکلات درپیش تھیں۔ حضرت محمدﷺ پیغمبر خدا بھی ہیں اور مدبر ریاست و سیاست بھی۔ آپؐ کی یہ جملہ صفات اتنی Dynamic اور مثالی رہیں کہ جسکے بعد تاریخ نے آپؐ کو بطور مصلح اور سیاسی مدبر تسلیم کر لیا اور آپؐ کو عظیم سیاسی مفکر پہچانا اور اقرار کیا۔ اسکاٹ لینڈ کے مشہورمستشرق ولیم واٹ نے کہا کہ آپؐ کی تین خوبیوں کو ہم بھلا نہیں سکتے۔ ایک یہ کہ آپؐ نے عرب دنیا کو ایک ایسا نظریاتی فریم ورک یا ڈھانچہ دیا جسکی مدد سے جہالت اور گمراہی میں مبتلا اقوام کو اپنی سماجی بقا کا ڈھانچہ میسر آ گیا اور اپنے مصائب کا حل مل گیا۔ دوسرا اس ڈھانچے کا خاکہ قرآنِ پاک میں موجود ہے۔ آپؐ نے عمل درآمد کیلئے پالیسیوں (شریعت) اور اداروں یعنی شوریٰ وغیرہ کی ایک عمارت تعمیر کی جس نے اس ڈھانچے کو قائم کرنے میں مدد دی۔ تیسری خوبی یہ رہی کہ ان پالیسیوں اور ادارہ جاتی کامیابیوں کیلئے آپؐ نے ایسے بہترین افراد (صحابہ کرامؓ) کا انتخاب کیا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمال کر دیا۔ اگر آپؐ کے نامزد کردہ افراد نااہل ہوتے تو کبھی بھی آپؐ کا تیارکردہ عملی انقلاب اور بہتری کا ڈھانچہ منطقی کامیابیاں حاصل نہ کر پاتا۔
آج کل یورپی فلاسفر کی بیان کردہ ’’قدرتی ریاستی فلسفہ‘‘ اور ’’سوشل کنٹریکٹ تھیوری‘‘ کا بہت شہرہ ہے۔ آپؐ نے 1500سال قبل اس کا عملی احیاکر دیا تھا۔ آپؐ کا کردار بطور پیغمبر خدا بھی تھا اور ایک مدبر ریاست بھی۔ آپؐ نے عبوری طور پر صحرائے عرب میں ایک ایسا ریاستی نظام قائم کر دیا جسکا مقصد کسی شخص، خاندان یا مذہبی گروہ کی حکمرانی نہ تھا اور اس کا نسل دَر نسل اجرا نہ تھا۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ اگر تین لوگ بھی سفر کا آغاز کریں تو ان کیلئے لازم ہے کہ اپنے میں سے ایک کو اس سفر کا قائد منتخب کر لیں۔ اسی نیابت کے اُصول کے تحت آپؐ نے ریاستی اُمور اور سیاسی مسائل میں بھی قیادت کی تعیناتی بارے حکم دیا۔ ریاست کے دوسرے اُصول یعنی عوام اور ریاست کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ کی موجودگی بھی آپؐ نے لازم قرار دی۔ اور اس معاہدے پر عملدرآمد کیلئے آپؐ نے عوام اور شوریٰ کو بااختیار بنایا کہ وہ ریاست یا اسکے حکمران کی بے تدبیریوں کا جب چاہے نوٹس لے سکتی ہے۔
انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حضرت محمدﷺ نے حکمرانی کیلئے ایک جدید آئین ’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘ کے نام سے وضع فرمایا جس کے کل 17نکات تھے جن کی رُو سے مسلمانوں، یہودیوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے جدید ریاست کا وجود قائم ہو گیا۔ اس تاریخی خطبہ یا آئینی فریم ورک کی رُو سے تمام انسانوں کو مذہب، قبلہ اور ذات کے امتیاز کےبغیر حقوق کا سزاوار سمجھ لیا گیا۔ اس کے تحت عام لوگوں کو حق دیا گیا کہ وہ حکمرانوں کی غلط کاریوں کا کسی وقت بھی احتساب کر سکتے ہیں۔ آپ نے ایک ایسی ماڈل ریاست کا حقیقی قیام ممکن بنایا، جس میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل تھے۔ وہ اُمورِ مملکت میں رائے کا اظہار بھی کر سکتے تھے اور احتساب بھی۔ ان کی سیاسی پالیسی اقتدار کل حاصل کرنا نہ تھی، بلکہ الٰہی تعلیمات کے فروغ کیلئے قرآن کے بیان کردہ ریاستی ڈھانچہ کے سپرد کرنا تھی۔ ایسا ڈھانچہ جس میں گروہی اقتدر، ریاستی اداروں کی مسلسل دخل اندازی یا پھر بیرونی طاقتوں کی اشیرباد شامل نہ تھی، بلکہ عوامی حقوق کی منصفانہ بالادستی کارفرما تھی تاکہ عوام سکونِ قلب کے ساتھ اللہ کی محبت سے سرشار ہو کر راہِ حق پر گامزن ہو سکیں۔
آپؐ نے ریاست اور مملکت کو ایسی خارجہ پالیسی سے روشناس کرایا کہ جس کی بنیاد اخلاقیات اور ایماندارانہ عمل درآمد پر تھی۔ ایسی ڈپلومیسی نہ تھی جس میں مدمقابل کو پہلے اپنی جنگی ہیبت میں مبتلا کر کے فیصلے کیے جاتے ہیں، ان کی معاشی ابتری یا دیگر کمزوریوں کے پیش نظر انہیں غیرمنصفانہ شرائط پر مجبور کیا جاتا ہے۔ آپؐ نے کمزور اور مفتوح قبائل اور اقوام کےحوالے سے بھی اس قومی وقار اور انسانی شرف کو پیش نظر رکھا، کیوں کہ ان کے پیش نظر انہیں اللہ اور اس کی توحید و دین مبین کی طرف رجوع کروانا تھا ۔ اس حکمت عملی میں آپؐ کامیاب رہے اور اقوامِ عالم کو اپنے پروگرام اور اللہ کے پیغام کی جانب راغب کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ چنانچہ آپؐ نے کبھی جنگ کی ابتدا نہ کی حتیٰ الامکان اس سے احتراز کرنے کی کوشش کی، لیکن جب ضرورت پیش آتی تو جہاد سےروگردانی بھی نہ کی اور نہایت ثابت قدمی اور جواں مردی سے دشمن سپاہ کا اپنی قیادت میں مقابلہ بھی کیا۔ آپؐ کی عملی اور تبلیغی زندگی میں سب سے مؤثر حکمت عملی میں آپؐ کی سچ اور امین پر قائم رکھنے کی شہرت تھی۔ آپؐ کے اس شخصی پہلو کا کمال اس وقت کارگر ثابت ہوا، جب عیسائی بادشاہ سے آپؐ کے(اس وقت تک ) دشمن ابوسفیان کی بات چیت ہوئی۔ اس نے ابوسفیان سے سوال کیا: آپ لوگوں میں سے کون ان مدعی نبوت کا زیادہ قریبی ہے؟ تو ابوسفیان نے خودکو پیش کر دیا تاکہ اس کے تمام سوالوں کا جواب دے سکے۔ ابوسفیان نے برسر دربار اس بات کا اقرار کیا کہ آپؐ ہم میں سے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابوسفیان نےعیسائی بادشاہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اقرار کیا کہ عوام بالخصوص غریب اور معاشرے کے کچلے ہوئے افراد جوق دَر جوق مسلمان ہو رہے ہیں۔ ابوسفیان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ آپؐ سچ پر قائم رہنے والے، وعدہ کی پاسداری کرنے والے اور اثاثوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔